موگیمبو خوش ہوا!

اگرچہ موبائل پر نیوی گیشن کے ذریعے ایڈریس معلوم کیا جا سکتا تھا‘ پھر بھی میں نے شمسی صاحب کی فرمائش پر گاڑی ایک سائیکل والے کے پاس روک دی۔ شمسی صاحب نے شیشہ نیچے کیا اور بولے ''بھائی صاحب گلبرگ کس طرف ہے؟‘‘۔ سائیکل والے نے سامنے اشارہ کیا ''سیدھا چلے جائیں‘ تین چار کلومیٹر بعد ایک چوک آئے گا وہاں سے سیدھے ہاتھ مڑ کر کسی سے پوچھ لیجئے گا‘‘۔ شمسی صاحب نے فوراً شیشہ اوپر کیا اور بے اختیار کان پھاڑ قہقہہ لگا کر سیٹ پر لڑھک گئے۔ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ تین چار منٹ وہ پاگلوں کی طرح ہنستے رہے‘ پھر بمشکل سانس بحال کرتے ہوئے بولے ''یار لوگ بالکل ٹھیک کہتے ہیں فیصل آباد کا ہر بندہ جگت کرتا ہے‘‘۔ میں نے مکمل سنجیدگی سے گہری سانس لی اور آہستہ سے پوچھا ''سائیکل والے نے کون سی جگت لگائی ہے؟‘‘۔ شمسی صاحب کا پھر قہقہہ نکل گیا ''یار میں گلبرگ کا راستہ پوچھ رہا تھا اور سائیکل والا کہہ رہا تھا سیدھا جا کر چوک سے الٹے ہاتھ ہو جائیں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ پھر بے اختیار ہنسنے لگے۔ میں نے احتیاطاً پچھلی سیٹ پر بیٹھے اپنے بیٹے ثمریز کو گھورا۔ وہ بھی ہنس رہا تھا۔ میں نے پوچھا ''بیٹا کیا آپ کو بھی سائیکل والے کے جملے میں کوئی ہنسی کی بات نظر آئی؟‘‘۔ اُس نے ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلایا ''نہیں بابا! میں تو شمسی انکل کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہوں‘‘۔
ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کی طرف سے محمد توصیف سیف اور ڈاکٹر قمر بخاری صاحب نے نہایت محبت سے مجھے یونیورسٹی کے میگزین ''کشتِ نو‘‘ کی تقریب رونمائی میں مدعو کیا تھا اور اِس وقت ہم اسی سلسلے میں فیصل آباد میں موجود تھے۔ یونیورسٹی جانے سے قبل معروف افسانہ نگار سیمیں کرن صاحبہ نے ہمیں ناشتے پر مدعو کر رکھا تھا‘ لہٰذا اب ہم ان کے گھر جانے کے لیے گلبرگ کا راستہ ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ شمسی صاحب فیصل آباد کے حوالے سے سٹیج ڈراموں والی غلط فہمی کا شکار تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ یہاں اگر کسی بندے سے سلام بھی لیں گے تو جواب کے بعد کوئی جگت ضرور موصول ہو گی۔ میں بار بار انہیں سمجھاتا رہا کہ قبلہ! فیصل آباد کے متعلق آپ جو سوچ رہے ہیں ایسا بالکل نہیں‘ فیصل آبادی خوش مزاج ہیں‘ دوستانہ مزاج رکھتے ہیں لیکن ہر بندہ ہر بات میں جگتیں نہیں لگاتا۔ اُس روز شمسی صاحب نے تیس چالیس لوگوں سے بہانے بہانے سے بات کی‘ کہیں سگریٹ والے سے‘ کہیں بیکری والے سے‘ کہیں راہ گیر سے... سب نے ان کی بات کا اُسی طرح جواب دیا جیسے لاہور یا کراچی میں لوگ دیتے ہیں۔ تاہم شمسی صاحب سیدھے سادے جواب سن کر بھی لوٹ پوٹ ہو جاتے رہے۔ ایک جگہ تو حد ہو گئی... ایک رکشے والے سے پوچھنے لگے ''بھائی گلبرگ چلو گے؟‘‘۔ اس بھلے مانس نے اقرار میں سر ہلا کر کہا ''جی آئیے بیٹھئے‘‘۔ اتنی سی بات پر بھی شمسی صاحب کی ہنس ہنس کر 'وکھیاں‘ ٹوٹ گئیں۔ رکشے والا پہلے تو حیرت سے انہیں دیکھتا رہا‘ پھر مجھ سے کہنے لگا ''پاء جی! ایناں دیاں بڑیاں دندیاں نکل ریاں نیں ایناں نوں گرائپ واٹر دی وڈی بوتل لوائو‘‘۔
ایگریکلچر یونیورسٹی میں 30 سال پرانے ڈاکٹر قمر بخاری صاحب سے ملاقات ہوئی۔ مجھے اعتراف ہے کہ جن لوگوں کو پڑھ پڑھ کے میں نے لکھنا سیکھا اُن میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر قمر بخاری صاحب کا بھی ہے۔ کیا شاندار مزاح لکھتے تھے‘ لیکن اب کافی عرصے سے ایگریکلچر یونیورسٹی کو پیارے ہو چکے ہیں۔ یہ آج بھی قلم اٹھائیں تو کم از کم مجھ ایسوں کو بیس تیس فٹ دور پھینک سکتے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ دوبارہ مزاح لکھیں تا کہ دنیا جان سکے کہ قمر بخاری کی صورت کیسا گوہر نایاب درویشی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہاں معروف شاعر انجم سلیمی صاحب اور اشرف یوسفی بھی تشریف لائے تھے اور سیمیں کرن بھی موجود تھیں۔ طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد اِس ایونٹ کو دیکھنے کے لیے موجود تھی۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں نے یہاں اپنے کچھ مزاح پارے پیش کرنے ہیں۔ مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس مزاح کے حوالے سے اتنے باریک بین ہوں گے۔ اندازہ اس وقت ہوا جب آڈیٹوریم کے در و دیوار قہقہوں سے لرز اٹھے اور ثابت ہو گیا کہ فیصل آبادی خوشی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں جانے دیتے۔ ہمارے ہاں عموماً مزاحیہ مشاعروں کا رواج ہے۔ مزاحیہ نثر کے حوالے سے کوئی تقریب نہیں ہوتی۔ لیکن میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مزاحیہ نثر کی تقریب آپ کے سارے اندازے غلط ثابت کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں اتنے مزاح نگار تو بہرحال موجود ہیں کہ کسی بھی تقریب کے پھٹے چک دیں۔ شاعر لوگ مشاعرے پڑھ پڑھ کر مائیک اور آواز کا اتار چڑھائو سیکھ جاتے ہیں لیکن نثر نگار مارے جاتے ہیں۔ یہ صرف لکھنے تک ہی محدود رہ جاتے ہیں اور جب کبھی برسوں بعد مائیک پر آنے کا موقع ملتا ہے تو سہمے سہمے سے نظر آتے ہیں۔ نثری تقریبات بھی تو ہونی چاہئیں۔ افسانے سنے جائیں‘ انشائیے سنے جائیں‘ مزاح پارے سنے جائیں‘ مضامین سنے جائیں۔ ایگریکلچر یونیورسٹی کی انتظامیہ کا شکریہ جنہوں نے فکاہیہ نثر کے حوالے سے اتنا بڑا اور کامیاب قدم اٹھایا۔ اس تقریب میں سب سے مزیدار تقریر وائس چانسلر جناب ڈاکٹرمحمد اقبال ظفر کی رہی جنہوں نے پہلے انجم سلیمی کا معروف شعر پڑھا '' عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں... رات بستر میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں‘‘۔ اور پھر نصیحت کی کہ اگر آپ ایمانداری سے‘ نیک نیتی سے کام کر کے گھر جائیں تو یقینا بہت سکون کی نیند سوئیں گے۔ ڈاکٹر شہزاد مقصود بسرا کے مسکراہٹ بھرے مضمون نے بھی حاضرین کو گدگدائے رکھا۔ قمر بخاری صاحب چونکہ نظامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے لہٰذا نظامت کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیشہ کی طرح لفظوں کی حجامت بھی جاری رکھی۔ میں ان کی طرف دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ 'روٹی بندا کھا جاندی اے‘...!!!
میں فیصل آباد سے روانہ ہو رہا تھا تو مسرت اور تازگی کی ایک لہر میرے ساتھ تھی۔ ''موگیمبو‘‘ واقعی بہت خوش تھا۔ روشن چہروں اور ادب شناسوں کی زیارت کے یہ لمحات اب تک روح کو سرشار کیے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کا بھی بہت شکریہ جنہوں نے آخر تک اپنی بھرپور شرکت کا احساس دلایا۔ 'کشتِ نو‘ کی ساری ٹیم کو بہت مبارک جن کی محنت کا ثمر اتنے خوبصورت میگزین کی شکل میں سامنے آیا۔ پروگرام کے اختتام پر یونیورسٹی کی جانب سے کھانے کا انتظام تھا‘ بھوک بھی لگ رہی تھی لیکن یہاں بھی سیمیں کرن صاحبہ نے یاد دلایا ''خبردار آپ کا کھانا میری طرف ہے‘‘۔ سو تمام دوستوں سے معذرت کرنا پڑی۔ میرا نام چونکہ مشکل ہے اس لیے اکثر لوگ ''گل خیز‘ گل نواز‘ گل توقیر اور گل خان کہہ کر گزارا کر لیتے ہیں لیکن ایگریکلچر یونیورسٹی کے گارڈ نے تو کمال ہی کر دیا۔ ہم سب پارکنگ کی طرف بڑھ رہے تھے کہ گارڈ نے میرے قریب آ کر بڑے پیار سے کہا ''گل قند صاحب میں نے بھی آپ کے ساتھ ایک فوٹو بنوانی ہے‘‘...
سیمیں کرن صاحبہ کے گھر سے انتہائی شاندار لنچ کے بعد جب ہماری گاڑی لاہور موٹر وے کی طرف بڑھ رہی تھی تو اچانک شمسی صاحب نے سگریٹ نکالا اور گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی رکتے ہی نیچے اترے اور قریب کھڑے ایک شخص سے پوچھا ''ماچس ہے؟‘‘ جواب ملا ''نہیں ‘‘... یہ سنتے ہی شمسی صاحب کی آنکھیں پھیلیں‘ پوری قوت سے قہقہہ لگایا اور پیٹ پکڑ کر زمین پر گر گئے...!!!

(گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *