سچل سرمست کا سچ سدا حق سدا

مستنصر حسین تارڑMHT

ہماری سماعت کا گلزار اُن ہزاروں پرندوں کی چہکار سے خالی ہوا تو یکدم ایک سناٹا اتر آیا، خاموشی راج کرنے لگی اور پھر یکدم اُس سناٹے میں آتے ہوئے گلزار میں سچ کا ایک پرندہ چہکا۔۔۔ سچل کے گیت گاتا ہوا ایک مست الست، جذب میں ڈوبا ہوا پرندہ یوں مہکا کہ پورا گلزار و حق صدا، سچ سدا کی سرگوشیوں کی آہٹوں سے زندہ ہو گیا۔۔۔ حق اور سچ کی بہار آ گئی۔
’حق صدا، سچ سدا‘
سچل سرمست۔۔۔ سرمستی میں سچ کہنے والا۔۔۔ شاعر ہفت زبان منصور ملاج کی مانند
اناالحق، خود ہی حق، سچا بھی اور سرمست بھی۔۔۔
عش سوا سب جھوٹ فتور، سولی پر منصور
نہ کوئی دوزخ، نہ کوئی جنت، نہ ہی حور قصور
دِل مُلّا کی بات نہ مانے، نہ اُس کا مذکور
عہدِ جوانی بیت گیا اب، جسم تھکن سے چُور
دیکھ لیا ہے چشمِ یار کا، ہم نے سارا نُور
دُوجی ساری باتیں پھندے، ان سے رہ تُو دُور
سچو، اب تو جان لے سچ کو، آپ ہی آپ حضور۔۔۔
یہ اردور ترجمہ کمال کا آغا سلیم کی قادر الکلامی کا اعجاز ہے۔۔۔ جبکہ سندھی متن کچھ یوں ہے۔۔۔
’عشق دیی باجھون پیاسپ کوٹ، سولی تی منصور نو کوئی دوزخ نہ کوئی جنت ، نا کوئی حور قصور
انڈس ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے دائیں جانب ایک آرائشی دروازہ نظر آیا اور یہ آپ کو ایک اجاڑے گاؤں دروازہ تک لے جاتا ہے۔۔۔ گیمبٹ کی قربت میں درازہ شریف کا گاؤں اگرچہ اجاڑ سا لیکن میرے لیے سندھ بھر میں سب سے آباد کہ وہاں میرا محبوب شاعر یوں سوتا تھا کہ میرے جذبات کی ترجمانی امیر خسرو کرتا تھا کہ۔۔۔
گوری سوئے سیج پہ منہ پر ڈارے کھیس
تو درازہ کی بستی میں وہ گوری سیج پر سو رہی تھی، اپنے بال اپنے مکھ پہ ڈالے، محو خواب تھی۔
جو دل پی لے عشق کا جام، وہ دل مست و مست مدام
دین مذاہب رہ گئے کس جا، کفر کہاں اسلام
ہماری، بلکہ دیدہ دل کی پراڈو سچل کے مزار کے باہر کیچڑ اور گندگی میں رک گئی۔۔۔
بائیں جانب سچل کا کنواں تھا اور سامنے سچ کی نیلی سیج نظر آ تی، نیلی آرائشوں سے آراستہ اس کا مدفن نظر آیا، اور جب نظر آیا تو اور کچھ بھی میرے دل میں نہ سمایا۔۔۔ سوائے حق اور سچ کے۔۔۔
اور یہ سچل میرے لیے کچھ پرایا نہ تھا، اجنبی تو نہ تھا کہ یہ بلھے شاہ اور شاہ حسین کا ہم پیالی اور ہم رقص تھا۔۔۔
پچھلی شب کی بارشوں سے سچل کے مزار کے پہلو میں جو اُن کے مریدوں کی قبریں تھیں وہ گیلی ہو چکی تھیں۔
میں نے سوچا کہ مرشد کے در پہ حاضری دینے سے پہلے اس کے مریدوں سے ملاقات کر لی جائے۔
قبریں اتنی گیلی ہو چکی تھیں کہ ان پر آویزاں کتبے ان میں دھنس رہے تھے۔ اور صرف ایک کتبے کی عبارت حق سچ کی ترجمانی کے لیے درج کرتا ہوں۔
’’بسم اللہ‘‘
’سندری زوجہ کنیہا لال لالہ‘‘
بیشتر قبریں ان کے ہندو مریدوں کی تھیں جنہوں نے سچل کے عشق میں اپنے آپ کو اس کے پہلو میں دفن کرنے کی وصیت کی کہ مجھے جلایا نہ جائے، دفن کیا جائے، سچل کے لیے وارفتگی اور عشق کا اندازہ صرف یوں آشکار ہو گا کہ اگر کوئی مسلمان، کسی ہندو بھگت کا ایسا شیدائی اور عاشق ہو جائے کہ وہ وصیت کرے کہ مجھے ہرگز دفن نہ کیاجائے، مجھے جلایا جائے۔ تب اندازہ ہو گا۔
اور یہ جمیل تھا جس نے مجھے ایک اور بھید سے آگاہ کیا۔ ایک قبر پر آویزاں لکڑی سے تراشیدہ ایک آرائش کی معنویت سے آگاہ کیا۔
’’سر۔۔۔ ذرا غور کیجیے۔۔۔ یہ آرائش ہل کے آگے جوتے ہوئے بیل کے گلے میں ڈالی ہوئی ایک پنجالی کی صورت میں ہے۔۔۔ یعنی یہ ایک طوق ہے جو بیل کے گلے میں ڈالتے ہیں تا کہ وہ اپنے ہانکنے والے کا مطیع اور فرمانبردار رہے۔۔۔ تو ان قبروں پر سجی یہ پنجالی، یہ طوق، ایک استعارہ ہے، ایک علامت ہے کہ ہم جو ان کے نبدو خرید ہیں ہم سچل کی پنجالی میں بندھے ہوئے بیل ہیں، وہ جدھر چاہے، ہمیں ہانک دے کہ وہ ہل چلانے والا ہے، ہمارا مالک ہے۔
’نہ میں ، نہ میں شیعہ، نہ میں جرم و ثواب
نہ میں شرعی، نہ میں داعی، نہ میں رنگ رباب
نہ میں ملّا، نہ میں قاضی، نہ میں شور شراب
ذات سچل کی کیا پوچھو ہو، سچل ہے نایاب‘
ابھی سویر ہوئی تھی۔
بازارِ سچل ابھی گرم نہ ہوا تھا۔
کم کم لوگ تھے۔
میانہ قد، صاف رنگت، خوبصورت گلابی آنکھیں، لمبے بال، سر پر سفید کپڑے کی ٹوپی جس کو درویشوں کے محاورے میں ’’تاج‘‘ کہا جاتا ہے، پیروں میں سندھی جوتی اور ہاتھوں میں عصا، ڈھولک پر تھاپ پڑتی، سارنگی کے سر سسکتے تو بے تاب ہو جاتے، آنکھوں سے جھڑیاں لگ جاتیں۔۔۔
’میں تو ہوں اسرار، سکھی ری، تو کیا جانے بھید
سچل کا فارسی کلام بھی بے مثل ہے۔
انہوں نے مختلف تخلص اختیار کیے۔۔۔ سچل، سچو اور فارسی کلام کے لیے آشکار، اور خدائی۔۔۔ اُن کا فارسی کلام ’’دیوان آشکار‘‘ کے نام سے آشکار ہوا۔
اور جب جذب اور دیوانگی کی حالت میں اُن پر شعر اترتے تو ان کے مرید اُنہیں محفوظ کرتے چلے جاتے اور کبھی پوچھا جاتا کہ اے سچل، اس شعر کی معنویت ہم پر آشکار نہیں ہوئی، اس کا مطلب کیا ہے تو سچل کہتے، کہنے والے نے کہا ہے مجھے کچھ بھی معلوم نہیں۔۔۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *