مشرق وسطی میں امریکہ کی گِرتی ساکھ!

Fiskایک زمانہ تھا جب شام ، مصر اور لبنان امریکہ کا نام سن کر کانپتے تھے لیکن اب وہ امریکہ کی ہر بات پر ہنس رہے ہیں۔اس وقت نہ کیمرون چرچل کی جگہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی وائٹ ہاؤس میں رہنے والا پاگل شخص روزویلٹ ہے۔اگرچہ پیوٹن کچھ حد تک سٹالن بننے کی کو شش کر رہے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ ماضی میں سیاستدانوں کے ساتھ کیا ہوا بلکہ تشویش والی بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی ساکھ اب برقرار نہیں رہی جس کی وجہ سے وہاں اب کوئی بھی امریکہ کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ایسا کیوں ہے یہ سمجھنے کے لیے اوبامہ کے حالیہ کچھ بیانات کافی ہیں جن میں وہ نہایت سادگی کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں فرقہ ورانہ اختلافات کی بات کر رہے تھے جو کہ ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔اگر ہم اُس زمانے کی بات کریں جب مشرق وسطیٰ کے ممالک شیعہ ،سنی اور عیسائی ہونے کی بنیاد پرآپس میں اختلافات رکھتے تھے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس وقت امریکہ میں گوروں اور کالوں کی گلیاں تک علیحدہ ہوا کرتی تھیں لیکن یہ بات حیران کر دینے والی ہے کہ ہمارے لیڈر ایک بار پھر لوگوں کو جھوٹ اورنمائشی باتوں سے بے وقوف بنانے کی جرأت کر رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شامی حکومت نے اپنے ہی لوگوں پر زہریلی گیس کا استعمال کیا۔ یہ وہی الزام ہے جو مغربی ممالک عراق کے خلاف استعمال کر چکے ہیں اور ہمارے آج کے حکمران صدر بش اور ٹونی بلیئر کی بے ایمانی اور جھوٹ کی سزا بھگت رہے ہیں۔
اوبامہ جو شروع میں ایک مبلغ کے روپ میں آئے تھے اب مغرب کا جلاد بنتے جا رہے ہیں۔ان کی حرکتوں سے ان پر رومن ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ رومن بھی دو چیزوں پر ایمان رکھتے تھے ایک وہ قانون کے پیروکار تھے اور دوسرا وہ پھانسی پر لٹکانے کے دلدادہ تھے۔ امریکی چاہتے ہیں کو پوری دنیا کے لوگ تہذیب یافتہ بن جائیں اور اگر کسی نے انکار کیا تو اس کو سزا دینا امریکا اپنا حق سمجھتا ہے۔ رومن ہر اس شخص کو وحشی قرار دیتے تھے جو رومن نہیں تھا۔ اسی طرح اوبامہ کی سلطنت سے باہر تمام لوگ دہشت گرد قرار دیے جاتے ہیں۔
تین دن قبل کابل سے مجھے ایک دلچسپ فون آیا۔ فون کرنے والے کے مطابق امریکہ کرزئی حکومت کو روس سے ہیلی کاپٹر خریدنے سے روک رہا ہے کیونکہ روس وہی ہیلی کاپٹر شام کو بھی فروخت کر رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب افغانستان اورروس کے تجارتی تعلقات کو تقصان پہنچا رہا ہے۔
ایک اور خبر ملاحظہ کیجیے۔ کوئی ہفتہ پہلے طرابلس کی دو سلفی مساجد کے سامنے بم دھماکے ہوئے جس میں 47لوگ ہلاک اور 500کے قریب زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ ان دھماکوں کے الزام میں پانچ افراد گرفتار ہوئے جن میں سے ایک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شامی خفیہ ایجنسی میں کیپٹن تھے۔جب تک ان لوگوں پر جرم ثابت نہیں ہوتا وہ ملزم ہیں لیکن ان ملزموں میں دو شیخ بھی ہیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق دمشق کے ایک اسلامی تنظیم سے بتایا جاتا ہے جبکہ دوسرے کا بھی شامی خفیہ ایجنسی سے تعلق ہے۔امریکہ شام پرزہریلی گیس کے معاملے میں حملہ کرنے کا اتنا شوقین ہے کہ اتنی بڑی خبر پر امریکہ کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیاجبکہ پوری دنیا میں اس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مجھے یاد آیا کہ 2005ء میں Yale University نے’’ دمشق کے نئے شیر‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کر دی جس کے مصنفDavid Leschتھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب بشارالاسد حکومت میں نئے تھے۔کتاب کے اختتام میں مصنف نے لکھا تھا کہ بشارالاسدشام کے بہتر مستقبل کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔پھر پچھلے سال اسی مصنف کی ایک اور کتاب’’اسد خاندان کا زوال‘‘کے عنوان سے منظر عام پر آگئی ۔ تب تک مغرب بشارالاسدکے خلاف ہو چکا تھا۔کتاب کے اختتامی الفاظ یہ تھے’’ بڑی دکھ کی بات ہے کہ اسد بہک گئے ہیں اور وہ ناکام ہو گئے‘‘۔ اس بارے میں بیروت میں میرے ایک کتاب فروش نے کچھ اس طرح کا تجزیہ کیا تھا’’ہمیںLeschکے اگلے کتاب کا انتظار کرنا پڑے گا جس کا عنوان کچھ اس طرح کا ہوگا’’ اسد کی واپسی‘‘۔کیونکہ اسد بہرحال ابامہ سے زیادہ دیر تک حکومت میں رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *