لیاقت علی خان کو امریکہ نے قتل کروایا: امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ دستاویزات میں برملاء اعتراف

liaqat ali khan in USامریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی افشاء کردہ دستاویزات کے مطابق، امریکیوں نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کو افغان حکومت کے ذریعے قتل کرایا۔
اعلیٰ سطح کی دیگر کئی شخصیات کے قتلوں کی طرح، لیاقت علی خان کا قتل بھی اب تک ایک اسرار رہا ہے۔ ہر چند کہ اس بارے میں متعدد سازشی نظریات موجود ہیں لیکن تاحال ان سب میں سے کسی ایک کو حتمی طور پر درست قرار دیا جانا مشکل تھا۔
چندبرس قبل منظرعام پر لائی جانے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ دو افراد نے لیاقت علی خان کو موقع پر قتل کیا جبکہ مجمعے نے سازش کے نشان مٹانے کیلئے ان دو افراد کو سرعام قتل کر دیا۔
دستاویزات کے مطابق، امریکہ ایران میں تیل کے ذرائع کے ٹھیکے لینا چاہتا تھا۔ پاکستان اور ایران میں دلی رشتے تھے اور افغانستان کو 1950 ء سے1951ء کے دوران، پاکستان کا دشمن سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان کا ہمسایہ ملک افغانستان وہ اکلوتا ملک تھا جو اس وقت پاکستان کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔
امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے اور اسے راضی کرے کہ وہ اپنے تیل کے ذرائع کا کنٹرول امریکہ کو منتقل کر دے۔
لیاقت علی خان نے یہ کہتے ہوئے امریکہ کی اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیاکہ وہ اپنی دوستی کوبے ایمان مقاصد کیلئے استعمال نہیں کر سکتے اور ایران کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔
جس پر، اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے لیاقت علی خان کو دھمکی دی۔ صرف یہی نہیں، لیاقت علی خان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ امریکہ پاکستان کی فضائی چوکیوں کو خالی کر دے۔
اس اقدام کے بعد، امریکہ نے لیاقت علی خان کو قتل کرنے کیلئے قاتل تلاش کرنا شروع کر دیا۔دستاویزات کے مطابق،انہیں پاکستان میں کوئی موزوں فرد نہ ملااور پھر انہوں نے اس مقصد کیلئے افغانستان سے رجوع کیا۔
واشنگٹن نے کابل میں امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیااور ظاہر شاہ کو پیشکش کی کہ وہ لیاقت علی خان کیلئے قاتل تلاش کرے اور بدلے میں وہ پشتونستان کی آزادی کو یقینی بنائے گا۔
چنانچہ، افغان حکومت نے لیاقت علی خان کے قتل کی ذمہ داری سونپنے کیلئے سید اکبر نامی شخص کو ڈھونڈ نکالااور ساتھ ہی ساتھ خود سید اکبر کو بھی لیاقت علی خان کے قتل کے بعد فوری طور پر قتل کروا نے کے انتظامات کر لئے تاکہ اس سازش کو خفیہ رکھا جا سکے۔وہ تینوں کمپنی باغ میں پارٹی میٹنگ سے ایک روز قبل، راولپنڈی میں ایک مقامی ہوٹل میں ٹھہرے۔
سید اکبر نے لیاقت علی خان کو اس وقت گولی مار ی جب انہوں نے ڈائس پر اپنی تقریر شروع کی اور وہ ’’اللہ پاکستان کی مدد کرے‘‘ کہتے ہوئے اسٹیج پر گر گئے۔
لیاقت علی خان کے جسم سے ملنے والے گولیاں کے کیس امریکہ میں بنے ہوئے تھے۔ پاکستانی وزیر اعظم کو مارنے کیلئے استعمال ہونے والی گولیاں اسی قسم کی تھیں جو اعلیٰ عہدوں کے حامل امریکی افسران استعمال کرتے تھے اور وہ بالعموم بازار میں دستیاب نہ ہوتی تھیں۔
کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے گورنر جنرل غلام محمد تھے جب کہ کچھ لوگوں نے نواب مشتاق احمد گورمانی کو الزام دیا۔ مختلف کمیٹیاں اور کمیشن بھی بنائے گئے لیکن وہ سب کوئی نتیجہ نکالنے میں ناکام رہے۔
60برس کی مدت کے بعد، امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام راز افشاء کر دئیے ہیں اور ان رازوں کے افشاء کے متعلق ڈاکٹر شبیر کی ایک ویڈیوبھی افشاء کر دی ہے جس میں انہوں نے منکشف کردہ دستاویزات پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
جب لیاقت علی خان کے پوتے مؤظم علی خان سے آن لائن رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کے افشاء کے متعلق جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سچی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس بھی کچھ ایسی دستاویزات ہیں جو امریکہ کی افشاء کردہ دستاویزات کی تصدیق کرتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *