پُرانا پاکستان ہی بہتر نیا پاکستان ہوتا!

پلاسٹک کے شاپروں سے پہلے والا پاکستان‘ جب ندی نالے نسبتاً صاف ستھرے ہوا کرتے تھے‘ اُنہیں نام نہاد ترقی کی وبا نہیں لگی تھی‘ حدود آرڈیننس سے پہلے کا پاکستان جب شب کی کارروائیوں پہ وہ قدغنیں نہ تھیں جو اَب مملکتِ خدا داد کی روایات بن چکی ہیں‘ وہ پاکستان جب کسی مقدار میں منافقت تو تھی لیکن اِس قدر وسیع پیمانے پہ نہیں تھی‘ جو اَب معمول بن چکی ہے۔ کسی معجزے یا کرشمے سے وہ پاکستان لوٹ آئے تو آج کے نئے پاکستان کے تمام تصورات سے بہتر ہو۔
رشوت اور بد عنوانی تب بھی ہوا کرتی تھی‘ لیکن اِس پیمانے پہ نہیں۔ رشوت کا لینا دینا کچھ آداب کے تابع تھا۔ دینے والا بھی ہاتھ چھپاتا اور لینے والا بھی قدرے شرماتا۔ آج کل کی دیدہ دلیری‘ جسے ہم بے حیائی بھی کہہ سکتے ہیں، نہ تھی۔ ظاہر ہے‘ ڈاکٹر بھی ہوا کرتے تھے لیکن جیبوں پہ جو چیر پھاڑ آج کے ڈاکٹر کرتے ہیں‘ یہ روش گزرے وقتوں میں اتنے زوروں پہ نہ تھی۔ وکلا بھی تھے‘ لیکن تب تک اس نامور قبیلے نے وہ جوڈو کراٹے نہ سیکھی تھی جو اَب اس اعلیٰ پیشے کا وتیرہ بن چکی ہے۔
حکمران جھوٹ بولتے تھے کیونکہ وہ کون سی حکمرانی ہے جو جھوٹ یا کم از کم مبالغے سے خالی ہو؟ لیکن جس سیدھے منہ اور جرأت سے آج کل غلط بیانی اور دروغ گوئی سیاست اور حکمرانی کا حصہ بن چکے ہیں‘ ان روایات نے اتنا زور نہ پکڑا تھا۔ آف شور کمپنیوں کا تو کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ سیاست میں جاگیردار طبقے کا زور تھا‘ لیکن بہت سارے ایسے زمیندار ہوا کرتے تھے جو الیکشنوںکے خرچے کے لئے زمین کا ایک آدھ ٹکڑا بیج ڈالا کرتے تھے۔ ایوب خان دور میں روٹ پرمٹوں کا رواج تھا۔ روٹ پرمٹ سیاسی بنیادوں پہ ملتے تھے۔ کسی سیاستدان نے پرمٹ لے لیا تو آگے ٹرانسپورٹروں کو دیا۔ روپے کے سولہ آنوں میں چار آنے پرمٹ والوں کے ہوتے۔ اِس طرح ایسے سیاستدانوں کا خرچہ چل جاتا۔ باہر کی جائیدادیں رکھنے کا تصور نہ تھا۔ یہ تو جنرل ضیا کا دور آیا اور برانڈرتھ روڈ جیسے شریفوں کا سیاست میں دَخل ہوا تو پاکستانی سیاست میں سرمائے کا رول بڑھنے لگا۔
فیلڈ مارشل ایوب خان اپنے خاندان کیلئے باعثِ ترقی و معاش بنے لیکن اس عمل کا آج سے موازنہ کیا جائے تو چھوٹے پیمانے پہ تھا۔ نواب کالا باغ پورے مغربی پاکستان کے نہایت طاقتور گورنر تھے‘ لیکن اُنہوں نے اپنے بیٹوں کو کاروبار یا سرمایہ کاری میں نہ آنے دیا۔ نواب کالا باغ کا تو یہ عالم تھا کہ بغیر پیشگی اجازت کے اُن کے بیٹے گورنر ہاؤس لاہور نہ آ سکتے تھے۔ کہاوت یہ ہے کہ صرف کالا باغ کے پٹواری کو اجازت تھی کہ بغیر روک ٹوک کے گورنر ہاؤس لاہور آ سکے۔
ایوب دور کے آخری سالوں میں چینی کی قیمت چار آنے فی سیر بڑھی، سوا روپے سے ڈیڑھ روپے ہو گئی، اور ایسا لگا کہ ملک میں طوفان اُٹھنے کو ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی نسبتاً کتنی سادہ اور کن خطوط پہ استوار تھی۔ یہ درست ہے کہ زمانے کا پہیہ روکا نہیں جا سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو ایک سال بعد 1973ء کی عرب اسرائیلی جنگ چھڑ گئی۔ عربوں نے جنگی حربے کے طور پہ تیل کی ترسیل پہ پابندی لگا دی۔ راتوں رات تیل کی قیمتوں میں چار گنا اضافہ ہو گیا۔ جہاں مغربی معیشت ہل کے رہ گئی‘ وہاں عربی جیبوں میں وہ دولت آنے لگی جس کا اُس سے پہلے کوئی تصور نہ کر سکتا تھا۔ دولت کی اِس فراوانی سے تیل والے عرب ممالک میں لیبر کی ڈیمانڈ ایک دم پیدا ہو گئی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے پاکستانی قوم کیلئے پاسپورٹ کا اجرا آسان کر دیا۔ آج کل کے زمانے میں یہ تصور مشکل ہے کہ پاسپورٹ حاصل کرنا کتنا دشوار ہوا کرتا تھا۔ بھٹو نے حکم دیا کہ ارجنٹ فیس پہ اُسی دن اور نارمل فیس پہ پندرہ دن بعد پاسپورٹ ملے گا۔ پاکستان کے تناظر میں یہ انقلابی قدم تھا اور اِس سے پاکستان کے مزدور طبقات کو بے پناہ فائدہ پہنچا۔ آج کم ہی لوگوں کے ذہنوں میں بھٹو کے اِس اقدام کی یاد ہو گی۔
آج کل جو وسیع پیمانے پہ تباہی ہم رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں‘ اِس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اِکا دُکا ہاؤسنگ سوسائٹیاں تھیں لیکن شہروں کا آج کل جیسا پھیلاؤ نہ تھا۔ یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اُس وقت اتنی آبادی نہ تھی۔ لاہور سے نکلتے تو گوجرانوالہ تک جی ٹی روڈ کے ارد گرد بڑھتی آبادی کی نشانیاں دیکھنے کو ملتیں‘ لیکن وزیر آباد کے بعد شہروں اور قصبوں کے درمیان ویرانی نظر آنے لگتی‘ جو آنکھوں کو اچھی لگتی۔ کھاریاں اور جہلم کے درمیان، جہلم اور گوجر خان کے درمیان، پھر اُس کے بعد راولپنڈی تک سڑک کے دونوں اطراف آبادی کے آثار کم نظر آتے‘ لیکن اس مسئلے پہ بطور قوم ہم نے کوئی دھیان نہ دیا۔ ہم بنگالیوں کو طعنہ دیتے کہ بچے پیدا کرنے کے سوا اُنہیں کچھ نہیں آتا۔ آج ہمارا اعزاز ہے کہ پاکستان میںشرحِ پیدائش بنگلہ دیش سے کہیں آگے ہے‘ لیکن اَب بھی ہمیں کوئی پروا نہیں۔ آبادی بڑھتی جا رہی ہے، نوکریاں نہیں، معیشت کی زبوں حالی ہے، برآمدات ہیں نہیں لیکن قومی ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ آبادی پہ کنٹرول کی بات محال ہے۔
مڈل کلاس حلقوں اور پڑھے لکھے طبقات میں ایوب خان حکومت کی بڑی مخالفت تھی۔ ایک وجہ اُس دور کا سیاسی نظام تھا۔ خود ساختہ فیلڈ مارشل کو پتہ نہیں کس نے سبق سکھایا کہ بالغ رائے دہی پہ انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ چالیس ہزار بی ڈی ممبران مغربی پاکستان سے منتخب ہونے تھے‘ اور اِتنی ہی تعداد میں مشرقی پاکستان سے۔ اِن اَسی ہزار پہ مشتمل الیکٹورل کالج سے اسمبلیوں اور صدر کو منتخب ہونا تھا۔ اِس طرزِ انتخاب نے مخالفت اور نفرت کی فضا پیدا کی۔ لیکن اِس سے ہٹ کے وہ اچھا دور تھا۔ ایوب خان سیکولر ذہن کے آدمی تھے اور بالعموم مولوی حضرات کے بارے میں کوئی نیک رائے نہ رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلا پروگریسیو قانون فیملی لا آرڈیننس‘ جو اَب تک رائج ہے، فیلڈ مارشل نے پاس کرایا۔ انڈسٹری بھی اُس دور میں بہت لگی‘ لیکن ایوب خان کو ایک کمزوری کا سامنا کرنا پڑا‘ اور دوسرا اُس کے ہاتھوں قومی تاریخ میں ایک بہت بڑا بلنڈر سرزد ہوا۔
کمزور ی یہ تھی کہ 1964ء کے صدارتی انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں نے اپنا اُمیدوار مادرِ ملت فاطمہ جناح کو چُنا۔ اُس سے ایک ایسا جذباتی ماحول پیدا ہوا جس نے ایوب خان حکومت کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ اُس انتخابی مہم میں مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب پہلی بار عوامی سطح پہ لوگوں کے سامنے آئے اور اُن کی اس نظم 'ایسے دَستور کو صُبح بے نُور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا‘ نے خوب شہرت پائی۔ ایوب خان الیکشن تو جیت گئے لیکن اخلاقی طور پہ مجروح ہو گئے‘ اور اُن کا اعتماد متاثر ہوا۔
پھر بھی وہ حالات کو سنبھال سکتے تھے‘ اگر اِس کمزوری کے بعد 1965ء کی جنگ کا بلنڈر نہ کرتے۔ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر ممکنہ نتائج کا اندازہ لگائے پاکستان کو اُس جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ جب ہندوستان نے بین الاقوامی سرحد پہ حملہ کیا تو پھر احساس پیدا ہوا کہ ملک کو کس مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔ پھر جنگ بندی کیلئے بے تاب ہوئے لیکن نقصان ہو چکا تھا۔ جس پُر اعتماد طریقے سے ملک ترقی یا آگے کی راہ پہ گامزن تھا‘ وہاں سے وہ ہٹ گیا‘ جسے انگریزی میں کہتے ہیں: ڈی ریل (derail) ہو گیا۔ ایوب خان حکومت کمزور ہو گئی اور اُس کے گرد اختتام کے سائے منڈلانے لگے۔ پاکستان خود عدمِ استحکام کا شکار ہونے لگا۔
ان کہانیوں کو دہرانے کا کیا فائدہ۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔ ہم راہ سے نہ بھٹکتے تو ایشیا کے ممالک میں ممتاز مقام پا سکتے تھے۔ آج کا پاکستان دو بلنڈروں کی پیداوار ہے: ایک‘ 1965ء کی جنگ، دوسرا‘ نام نہاد افغان جہاد جس میں کُود کے ہم نے اپنا چہرہ مسخ کر لیا۔ ان بلنڈرز سے پہلے کا پاکستان کہیں سے نصیب ہو جائے تو ہم خوش قسمتی کی راہوں کو پھر سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *