مستقبل کی عالمی معیشت کو متعین کرنے والے 5رجحانات پر آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ

GDPآئی ایم ایف سے حاصل ہونے والا تازہ ترین مواد، آئندہ سالوں میں عالمی معیشت کی ممکنہ شکل کا ایک خاکہ پیش کرتا۔ اس مواد میں سے کچھ نمایاں نقاط حسب ذیل ہیں:
1۔ امریکہ کی آمدن دوبارہ مزید کم ہو گئی ہے۔
اپریل 2015ء کیلئے آئی ایم ایف کی عالمی معیشت کی آؤٹ لک تخمینہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا جی ڈی پی 2015ء میں3.1 فیصد کے حساب سے برھنا ہے جو کہ گزشتہ اندازوں سے بھی 0.5فیصد کم ہے۔آئی ایم ایف کا مزید کہنا ہے کہ 2017ء تک امریکہ کا جی ڈی پی مزید کم ہو کر 2.7فیصد تک پہنچ جائے گا۔اور یہی نہیں، بلکہ یہ رجحان مستقبل میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔
2۔ 2020ء تک ہندوستان کا جی ڈی پی8فیصد تک نہیں پہنچ سکے گا۔
رواں مالی سال میں ہندوستان کا جی ڈی پی7.5فیصد کی شرح سے بڑھے گا۔
3۔ آئی ایم ایف کے سربراہ کرسٹائن لیگارڈ نے ’’دی نیو میڈیکور‘‘ کے متعلق بتایا جو کہ عالمی معیشت کیلئے کم آمدن کا ایک غیرمعمولی حد تک طویل عرصہ ہے۔ماہرمعیشتت، لارینس سمرز نے بھی دنیا کو ’’سکیولر جمود‘‘ کے دور سے خبردار کیا ہے۔
4۔ حالیہ کمی کے بعد، آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ تیل کی قیمتیں2016ء سے دوبارہ چڑھنا شروع ہو جائیں گی لیکن تیل کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اگلے برس کچھ کم ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
5۔ آئندہ برسوں کے دوران، آئی ایم ایف نے عالمی تجارتی حجم میں بھی کمی کی نشاندہی کی ہے۔
آئی ایم ایف کی اپریل کی عالمی معیشت کی آؤٹ لک نے 2015ء کیلئے عالمی تجارتی حجم میں اضافے کی اپنی پہلی پیش گوئی میں مزید 0.1فیصد کی کمی کر دی ہے جب کہ 2016ء میں عالمی تجارتی حجم میں اضافے کی اپنی پہلی پیش گوئی میں آئی ایم ایف نے مزید 0.6 فیصد کی کمی کر دی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *