فوڈ پانڈا پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے گفتگو

سوال۔ آپ فوڈ کنیکشن پاکستان کے ساتھ اس کاروبار میں آئے۔ تاہم آپ کو اسے بند کرنا پڑا۔ کیوں؟*

*جواب۔ یہ کاروباری ماڈل میں ایک ناکامی تھی۔ ہم نے ایف سی پاکستان 2011 میں شروع کیا۔ میں انگلینڈ سے واپس آیا تھا جہاں میں ایک ریسٹورنٹ کا منتظم تھا۔ صارفین کے لحاظ سے پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہے اور   کھانا تو واقعی ایک تفریحہے۔ میں کچھ ایسا تخلیق کرنا چاہتا تھا جو اس  کاروبار کو ریسٹورنٹ کاروبار کے ساتھ جوڑ ے۔  ایف سی پاکستان کا ماڈل  لسٹنگ کی بنیاد پر تھا، تو اگرچہ لوگ معلومات ویب سائٹ پر دیکھ سکتے تھے، انہیں براہ راست بکنگ اور آرڈر دینا ہوتا تھا۔ ہمارے پاس پاکستان کے سر فہرست 10 شہروں میں تقریبا 3000 ریسٹورنٹس کی فہرست تھی اور ایک ٹیم وقف تھی جو ریسٹورنٹس میں فون کر کے خاص سوالات پوچھے، جیسا کہ وہ کس قسم کا کھانا دیتے ہیں، کھلنے کا وقت،  کیا کمرے ایئر کنڈیشنڈ ہیں اور کیا کریڈٹ کارڈ کی سہولت موجود ہے وغیرہ ۔* *۔ کچھ اہم ریسٹورینٹس میں ماہانہ 10000 لوگ آتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب لوگ بکنگ یا آرڈر دینے کے لیے کال کرتے تھے وہ یہ نہیں بتاتے تھے کہ انہوں نے پہلے کہیں سے  ایف سی پاکستان کی معلومات حاصل کی ہیں، تو جہاں تک مالکان کا تعلق تھا،ہم ایسی ٹریفک اکٹھی نہیں کرتے تھے۔ ایٹ اوئے یا فوڈ پانڈا ماڈل کی طرف نہ جانے کی وجہ  یہ تھی کہ ہمارے پاس اکاؤنٹ میں 500000 ہوتے تھے اور جب یہ  پہلے تین ماہ ختم ہو جاتے
ہمارے پاس ماڈل تبدیل کرنے کے لیے فنڈ نہ ہوتا۔ ایٹ اوئے اور فوڈ پانڈا کے ماڈلز میں از خود پیغام رسانی کا  طریقہ نا مناسب  تھا اور اس کے لیے کال
سینٹر تھے۔ دوسرے الفاظ میں  آپ کو ریسٹورنٹ میں ایسی ٹیکنا لوجی لانے کی ضرورت ہے کہ آپ لیے گئے آرڈر کو با آسانی آگے پہنچا سکیں۔ بعد میں ہم نے علاقائی طور پر فنڈنگ کو بڑھایا اور اس سے کال سینٹر ترتیب دینے میں مدد ملی تا کہ جب کوئی گاہک ایٹ اوئے پر کوئی آرڈر دیتا  یہ خود کار طریقے سے ریسٹورنٹ پر چلا جاتا۔ ہم نے تب کاروباری پیمانے کو متوازن کرنا شروع کیا۔ فوڈ پانڈا پہلے ہی مارکیٹ میں چل رہے تھے ہم نے ان کا مقابلہ شروع کیا۔ تقریبا 15 ماہ بعد  وہ ہمارے پاس آئے اور ہم نے ایٹ اوئے کا کاروبار فوڈ پانڈا کے ساتھ چلایا۔

*سوال: ایٹ اوئے ابھی تک کاروبار میں ہے؟

*نعمان سکندر مرزا: ہم نے ایٹ اوئے اور فوڈ پانڈا کو 18 ماہ تک ایک ساتھ چلایا کیوں کہ دونوں کاروبار برابری کے تھے اور ایٹ اوئے کو الگ کرنے کا مطلب تھا کاروبار میں 50 فیصد نقصان۔  صرف تب جب فوڈ پانڈا برابر کے پیمانے پر پہنچ جاتا تو ہم ایٹ اوئے کو الگ کرنے کا اعتماد حاصل کر سکتے تھے، اس کا کوئی خاص اثر کل کاروبار پر مرتب نہیں ہونا تھا، یہ بس گاہکوں کو فوڈ پانڈا کی طرف منتقل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔

*سوال: آپ کی رائے میں کون سے عوامل اس ترقی کی وجہ بنے؟*

نعمان سکندر مرزا: دونوں ریسٹورنٹس کے کاروبار اور گاہکوں  کے میل جول اور کلچر میں تبدیلی واقع ہوئی۔  زیادہ تر لوگ ہوم ڈیلیوری کے طالب ہونے لگے۔ نتیجتا ریسٹورنٹس اپنا معیار بڑھانے لگے اور تجربہ کار لوگوں کو بھرتی کرنے لگے، انہوں نے بڑھتے ہوئے آرڈرز  جو ان کے پاس آ رہے تھے کے ساتھ اپنی سہولیات کو بہتر بنانا شروع کیا چاہے وہ ان کے گاہکوں کی طرف سے ہوں یا فوڈ پانڈا کی طرف سے۔

سوال: فوڈپانڈا ماڈل کیسے کام کرتا ہے؟

نعمان سکندر مرزا: ہم نے ریسٹورنٹس کو اپنے ساتھ سامنے لا کرشروع کیا۔ جب وہ ایسا کرتے ہیں ہم انہیں اپنی ٹیکنا لوجی مہیا کرتے ہیں جو کہ ہمارا ٹیبلٹ ہے، اور ہماری ٹیم ان کو تربیت دیتی ہے کہ ٹیبلٹ کا استعمال کیسے کرنا ہے۔ جب ریسٹورنٹ نمایاں حیثیت کے مالک ہوں تو  انہیں کئی کچن انسٹرکٹر رکھنے کی ضرورت  پڑتی ہے جو یہ یقین دہانی کریں کہ کھانا ٹھیک  تیار کیا یا پکایا جاتا ہے کتنا معیاری ہے اور پیک کر کے اچھے طریقے سے  وقت پر آگے پہنچایا جاتا ہے وغیرہ۔ جب بھی کوئی گاہک ہمارے پاس آرڈر دیتا ہے تو وہ آرڈر 20 سیکنڈ میں ٹیبلٹ میں منتقل ہو جاتا ہے، کاغذی طور پر کوئی ساز باز نہیں ہوتی۔ جب ریسٹورنٹ ایک آرڈر وصول کرتا ہے تو انتظامیہ کی مرضی ہوتی ہے کہ  وہ اسے قبول کریں یا انکار کر دیں۔ اگر وہ قبول کر لیں تو وہ اسے بر وقت تیار کر کے گاہک تک پہنچاتے ہیں۔ ہم پورے پاکستان میں 2500 ریسٹورنٹس پر کام کر رہے ہیں اور ان میں 100 فیصد آرڈر برقی ذرائع سے منتقل ہوتے ہیں۔

سوال: ترسیل کا کام  کون کرتا ہے، ریسٹورنٹ یا فوڈ پانڈا؟

نعمان سکندر مرزا: پاکستان ریسٹورنٹ انڈسٹری کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ جو 2500 ریسٹورنٹ ہم چلاتے ہیں ان میں سے 80 فیصد آرڈر کی ترسیل  وہ خود کرتے ہیں اور باقی 20 فیصد ہماری خدمات حاصل کرتے ہیں۔  ہم عالمی سطح پر 54 ملکوں میں کام کر رہے ہیں، مثلا ترکی میں، ہمارے پلیٹ فارم پر تمام ریسٹورنٹ خود  ترسیل کرتے ہیں، جب کہ سنگا پور میں 100 فیصد آرڈرز  فوڈ پانڈا کے ذریعے ڈیلیور کیے جاتے ہیں۔

سوال: ریسٹورنٹ کا  فوڈ پانڈا سے منسلک ہونے کا کیا فائدہ ہے؟

نعمان سکندر مرزا: ایف ایم سی جی کاروبار کے برعکس ریسٹورنٹس کے پاس اتنا فنڈ نہیں ہے کہ وہ خود کو مارکیٹ میں اتاریں، نہ ہی ان کے پاس تجربہ کار لوگ ہیں، یہی مقام ہے جہاں فوڈ پانڈا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم 500 برانڈ ایک ساتھ چلا سکتے ہیں اور مارکیٹ کوشش میں 200000 ڈالر انویسٹ کر سکتے ہیں ان کے لیے مزید صارفین کو لانے کے لیے۔اگر ان کے نئے آرڈر فوڈ پانڈا کے ذریعے آئیں، وہ ہمیں ان آرڈرز پر کمیشن دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک ریسٹورنٹس دن کے دس آرڈرز حاصل کرتا ہے اور وہ ایک مرتبہ فوڈ پانڈا کی خدمات لیتے ہیں تو وہ  مزید 5 آرڈر دن کے بڑھا سکتے ہیں، اس طرح ترقی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

سوال: آپ کس قسم کی مارکیٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں ؟

نعمان سکندر مرزا: برقی اشتہارات، جو فیس بک، گوگل اور یو ٹیوب پر مشتمل ہیں۔ ہمارے موجودہ گاہکوں  کے ذریعے  ہم معلومات آگے پہنچاتے ہیں، نوٹیفیکیشن، ایس ایم ایس اور ای میل مارکیٹنگ کے ذریعے۔ ہم بیرونی مہم کے  طور پر ریسٹورنٹس کے سکرین پوسٹر بھی لگاتے ہیں،  آج کل ہمارا ایک پوسٹر فیصل آباد اور دوسرا راولپنڈی میں ہے۔  اس کے علاوہ ہم پاکستان میں  ایک ٹی وی مہم بھی چلا رہے ہیں، ہم ریڈیو کو بھی پوری طرح استعمال کرتے ہیں۔

سوال: ان مہمات کا ہدف گاہک ہیں یا ریسٹورنٹس؟

نعمان سکندر مرزا: صرف گاہک۔ ریسٹورنٹ کو مشتہر کرنے کی ذمہ داری بیچنے والی ٹیم کی ہے۔

سوال: کیا آپ تمام ریسٹورنٹس کو اسی طریقے سے ترقی دے رہے ہیں؟

نعمان سکندر مرزا: ہمارے پاس ریسٹورنٹس کی مختلف اقسام ہیں۔ ہم خاص ترقیاں اپنے اونچی سطح کے ساتھیوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوسرے اور تیسرے نمبر کے ریسٹورنٹس کو بہت زیادہ خدمات مہیا کرتے ہیں، جو کہ ایک  بہت متحرک ٹیم پر مشتمل ہوتی ہیں جو ان کے مینیو کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ان کے ساتھ کام کرتے ہیں، یہ یقین دہانی کرتے ہوئے کہ وہ ویب سائٹ پر نمایاں ہیں، آرڈر وصول کرتے ہیں اور مسائل کے حل میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اونچی سطح کے ریسٹورنٹس کی رسائی ایسی سروسز تک ہے، فرق یہ ہے کہ ان کے پاس وقف اکاؤنٹ مینیجر ہوتے ہیں اور وقف مارکیٹنگ بجٹ ہوتا ہے۔

سوال:  اونچی سطح کا ریسٹورنٹ کس چیز کی نشاندہی کرتا ہے؟

نعمان سکندر مرزا:  برانڈ انویسٹمنٹ ، آوٹ لیٹس، فوڈ پانڈا کے ساتھ محرک کردار اور دوسری کسی بھی نوعیت کی انویسٹمنٹ۔ بہت سے دوسرے طریقے بھی ہیں لیکن سب سے اصل چیز ہمارے پلٹ فارم کے ذریعے وصول کیے گئے آرڈرز کی تعداد ہے۔

سوال: کیا آپ کے گاہکوں نے ذاتی طور پر بین الاقوامی شاخیں بنائی ہیں؟

نعمان سکندر مرزا: ہماری درجہ بندی اس بنیاد پر ہے کہ کتنے آرڈر ایک برانڈ کی طرف سے فوڈ پانڈا کے پاس آتے ہیں۔ بہت سے علاقائی ریسٹورنٹس  ہماری سب سے بڑی شاخیں بن چکی ہیں۔ در حقیقت جو شاخ  دکان کے حساب سے ہمارے ساتھ  سب سے زیادہ آرڈرز بناتی ہے وہ لاہور کی علاقائی شاخ ہے۔  ان کے پاس نو دکانیں ہیں اور ان میں سے ایک دکان ایسی ہے جو باقی دکانوں کی بنسبت  روزانہ کے دوگنے آرڈرز بناتی ہے۔ وہ بڑی سطح پر کام کرتے ہیں اور ہر منٹ میں ہمارے لیے نئے آرڈرز بناتے ہیں۔

سوال: پاکستان میں آپ کی سب سے بڑی مارکیٹیں کون سی ہیں؟

نعمان سکندر مرزا: ہماری سب سے بڑی مارکیٹ کراچی ہے۔ ہم لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور اب فیصل آباد میں کاروبار چلاتے ہیں۔ اگلے آٹھ ماہ میں ہم ملتان، حیدر آباد، پشاور، گجرانوالہ، کوئٹہ اور ایبٹ آباد میں اپنی شاخیں کھولیں گے۔

سوال: شہر  میں نئی شاخ لانے کا کیا طریقہ کار ہے؟

نعمان سکندر مرزا: کم از کم 100 ریسٹورنٹ مشتہر ہونے چاہییں۔

سوال: ایبٹ آباد میں 100 ریسٹورنٹس ہیں جو مشتہر ہونے کے لیے تیار ہوں؟

نعمان سکندر مرزا: جی ہاں، پاکستان میں 200 ملین لوگ ہیں۔

سوال: یہ سب ذہنی طور پر تبدیلی   کی علامت ہے کہ گھر پر پکانے کے بر عکس آرڈر
پر منگوانا مہنگا پڑتا ہے؟

نعمان سکندر مرزا: فوڈ پانڈا کے ساتھ، ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات کھانا سستا ہوتا ہے۔

سوال: گھر پر پکانے سے بھی سستا؟

نعمان سکندر مرزا: بالفرض ہمارے ساتھ کے ایف سی کے لیے 50 فیصد ڈسکاؤنٹ کا معائدہ ہو، جہاں کسٹمرز 2 برگر اور 2 چپس 500 روپے میں لے رہے ہوں۔ اسی وقت ہم او پی ٹی پی کے ساتھ 40 فیصد ڈسکاؤنٹ پر چل رہے ہوتے ہیں۔ اس ماہ، ہم نے 200 برانڈز کے ساتھ 50 فیصد ڈسکاؤنٹ پر معائدے کیے۔ ہم یہ مہمات روزانہ باقاعدگی کے ساتھ کرتے ہیں تا کہ یہ آرڈرز  لانے میں ہماری مدد کریں، حتی کہ گھر پر پکانے سے بھی سستی،  تو تنگ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ ثقافت میں یقینا تبدیلی آ رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ ریسٹورنٹس کھل رہے ہیں، لوگ ہوم ڈیلیوری کا انتخاب کر رہے ہیں اور وہ زیادہ کھانوں کے آرڈر دے رہے ہیں، تو خریدنے کی عادت بڑھ چکی ہے۔ بہت سی نیو کلیئر فیملیز ہیں، کوئی بھی گھر  پر نہیں پکا رہا، تو انہیں کہیں سے تو کھانا منگوانا ہو گا۔ ای کامرس پلیٹ فارم  ہماری زندگی میں سہولت لاتا ہے اور ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب اسلام آباد سے مری تک سفر خطر ناک ہو، شاید صرف 5000 لوگ مری جاتے ہوں گے، تو ایک اور روڈ بنائی گئی، 100000 لوگوں نے مری
جانا شروع کر دیا۔ یہی معاملہ ای کامرس کا ہے۔ لوگ زیادہ کھانا منگوانا چاہتے تھے لیکن طریقہ بہت آہستہ تھا، اس نے انہیں ایسا کرنے کے لیے  مجبور کیا۔ جتنا جلدی آپ لوگوں کو کچھ کرنے کی سہولت دیں گے، تو زیادہ جلدی کے ساتھ تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ پاکستان میں آج 52 ملین انٹرنیٹ کنیکشن ہیں۔ آبادی کا ایک چوتھائی حصہ انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اور  انٹرنیٹ کونیکٹیویٹی پچھلے چار سال میں 10 گنا بڑھی ہے۔ سنگا پور کی آبادی 6 ملین ہے، ہمارے پاس سنگا پور  کی آبادی سے دس گنا زیادہ 50 ملین انٹرنیٹ کنیکشن ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر سہولت کے تجربہ میں مدد کرتا ہے۔ فوڈ پانڈہ سے پہلے لاہور اور پاکستان میں گاہک صرف  پانچ ریسٹورنٹس کو جانتے تھے جو کھانا گھر پہنچاتے تھے، لیکن انہیں مینیو کا پتا نہیں ہوتا تھا، ڈیلز کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی تھیں اور شاید وہ فون نمبر بھی نہیں جانتے تھے۔ اس وجہ سے عمل بہت سست رفتار  اور مشکل تھا۔ فوڈ پانڈہ کے ساتھ گاہک 30 سے 50 کے اندر آرڈر دے سکتے ہیں۔ ہماری ایپ خود ہی پتا کر لیتی ہے کہ کسٹمر کس جگہ پہ ہے اور ان کو وہ ریسٹورنٹ دکھا دیتی ہے جو ان کا کھانا ارسال کرے گا۔ وہ تازہ ترین مینیو دیکھ سکتے ہیں، ان کو بس کھانے کا انتخاب کر کے اس کا آرڈر کرنا ہے۔ آرڈر کا تجربہ اس قدر ہموار ہو چکا ہے۔

سوال: گاہک عام طور پر ادائیگی کیسے کرتے ہیں؟

نعمان سکندر مرزا:   ہمارا 90 فیصد کاروبار نقد وصولی پر ڈیلیوری کرتا ہے۔ پاکستان میں کریڈٹ کارڈ کی رسائی بہت سست رفتار ہے۔ یہاں صرف ایک ملین کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والے ہیں اور اگرچہ 37 ملین لوگوں کے پاس ڈیبٹ کارڈ ہیں، ان میں سے بہت سے بینک کے ذریعے آن لائن خریداری کے لیے ایکٹیویٹ نہیں ہیں۔ ہم سٹیٹ بینک آف پاکستان اور منسٹری آف کامرس سے بات کر رہے ہیں کہ وہ ان کارڈز کو ای کامرس مقاصد کے لیے قابل بنائے۔

سوال: کیا فوڈ پانڈا کے ذریعے کام کرنے کا مطلب ہے کہ ریسٹورنٹس کو تجربہ کار خدمتگاروں کی صورت میں مزید سٹاف بھرتی کرنا ہو گا ؟

نعمان  سکندر مرزا:  نہیں۔ ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ اگر آپ ایک ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں اور ڈیلیوری دے رہے ہیں تو  آپ کو آدمیوں  کا اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ اگر آپ 10 ڈیلیوریاں کرتے ہیں، آپ کے پاس پہلے ہی ایک شیف ہوگا کھانا تیار کرنے کے لیے، آپ کے پاس پہلے سے ہی آرڈر لینے والا اور ڈیلیوری دینے والا بندہ ہو گا۔ آپ بس فوڈ پانڈا کے ساتھ منسلک ہوں اور ہم آپ کے لیے اور آرڈر لائیں گے۔ تو سٹاف کی اسی تعداد کی بنیاد پر ہم آپ کی پیداوار اور آمدن کو بڑھائیں گے۔ اب اگر کاروبار 3 یا 5 گنا بڑھ جاتا ہے تو آپ کو مزید ایک ڈیلیوری مینیجر بھرتی کرنا پڑ سکتا ہے، مزید ڈیلیوری دینے والے اور مزید شیف کچن کے لیے۔تاہم، اندرونی طور پر جب ہم کوئی پارٹنر بناتے ہیں، ہم ان کے استعمال کو بڑھاتے ہیں جس کے بعد فردی ذرائع کو بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن انہی کاموں کے لیے وہ پہلے ہی بھرتی کر رہے ہوتے ہیں۔

سوال: کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا تجربہ پیش آیا کہ کوئی گاہک آرڈر منگوائے اور بعد میں ادائیگی سے انکار کر دے؟

نعمان  سکندر مرزا:  جی ہاں، ہم اسے کاروباری نقصان کہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے آئندہ آرڈر دینے کی پابندی لگا دیتے ہیں۔ تاہم، یہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے، زیادہ تر لوگ اپنے معائدے میں پکے ہوتے اور یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: فوڈ کاروبار بہت حد تک بڑھ چکا ہے۔ کیا آپ شہری یا علاقی سطح پر کوئی ظاہری تبدیلی دیکھتے ہیں جو زیادہ آرڈر مہیا نہ کر سکیں لیکن اب زیادہ  کامیابی کے سفر سے گزر رہے ہوں؟

نعمان  سکندر مرزا: پچھلے سال سے ڈی ایچ اے کے بعدہماری کراچی کے بعد دوسری بڑی مارکیٹ گلشن ہے، اگرچہ ہماری نظر ڈی ایچ اے کے بعد کلفٹن میں ترقی لانے کی تھی۔ ہم نے یہ بھی سوچا کہ اسلام آباد ایک بڑی مارکیٹ ہو گی  اور ہم وہاں پر اپنا زور رکھیں گے،جبکہ  اب ہم راولپنڈی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، وہاں اسلام آباد کی نسبت آرڈر دوگنے ہو رہے ہیں۔ نقطہ یہ ہے کہ  کشش پہلے بھی وہاں ہی تھی، ہم نے بھی ان علاقوں پر زیادہ غور نہیں کیا۔ ہم اب بڑی تیزی کے ساتھ فیصل آباد کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔

سوال: آپ کی توسیع ریسٹورنٹ کاروبار کی توسیع پر منحصر ہے۔ یہ کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ کب تک یہ پلاٹو تک پہنچ سکتی ہے؟

نعمان  سکندر مرزا: پاکستان میں ریسٹورنٹ 20 سے 25 فیصد کی شرح تک سالانہ بڑھ رہے ہیں اور یہ کم از کم اگلے 5 سے 10 سال تک چلتا رہے گا۔ پاکستان میں  ابھی شروعات ہے۔ حتیٰ کہ بڑے شہروں میں مارکیٹ ترقی پذیر ہے۔ کراچی میں تقریبا 20 ملین آبادی ہے اور اتنی آبادی کی خدمت کے لیے ریسٹورنٹ کم ہیں۔ دبئی کی آبادی 6 ملین ہے اور شہر میں 10000 ریسٹورنٹ ہیں، کراچی کے پاس اس کی چوتھائی تعداد بھی نہیں ہے۔ میٹرو اور دوسری سطح کے شہروں میں بہت بڑی طاقت ہے۔

سوال: کیا معمولی ڈھابے فوڈپانڈا کی خدمات لے سکتے ہیں؟

نعمان  سکندر مرزا: ہم بسم اللہ بریانی، افغان اور پٹھان ڈھابوں کےساتھ شروعات کر کے کوشش آزمائی کر رہے ہیں، یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ ہم وہاں سے کتنے آرڈر بنا سکتے ہیں۔

سوال: کیا ان ڈھابوں کے گاہک آرڈر گھر منگوانے کو قبول کریں گے؟

نعمان  سکندر مرزا:  میں ایک ڈھابے پر ہر ہفتے انڈہ پراٹھا کھاتا ہوں۔ یہ اس لیے کہ ہم آزما  کر دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں یہاں سے کس قسم نتیجہ ملتا ہے۔ ہمارے پاس کچھ ریسٹورنٹ ہیں جو 70 روپے پلیٹ چکن بریانی بیچتے ہیں اور ہم ماہانہ 300 آرڈر  تیار کرتے ہیں ۔

courtesy : https://aurora.dawn.com/news/1142965/meals-on-wheels

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *