بلوچستان میں پشتون صوبے کا مطالبہ

aaaaaبلوچستان جہاں امن و امان کی صورتحال انتہائی حد تک مخدوش ہوچکی ہے اور بلوچوں کے باغی گروہ کی جانب سے آزاد بلوچستان کے مطالبات بھی سامنے آچکے ہیں، وہاں کل بروز پیر مورخہ یکم جولائی کو پشتون قومی موومنٹ کی جانب سے ایک ایسا مطالبہ سامنے آیا ہے جس کے مضمرات بلوچستان کی سیاسی فضا کو اتھل پتھل کرکے رکھ سکتے ہیں۔

ڈان اخبار کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق پشتون قومی موومنٹ کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پشتون عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سبّی اور ژوب کے ضلعوں پر مشتمل ایک نیا صوبہ قائم کیا جائے۔

پشتون قومی موومنٹ کے سربراہ اور دیگر رہنماؤں نے اتوار کی رات گئے باچا چوک پر ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں رہنے والے پشتونوں کو برابر کے حقوق نہیں دیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک علیحدہ صوبہ ہی ان کے حقوق کی ضمانت دے سکتا ہے۔ رفیق پشتون نے کہا کہ بلوچستان میں پشتونوں کی اپنی علیحدہ کوئی شناخت نہیں ہے، جبکہ ایک شناخت کے بغیر معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنا ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2011ء میں پختونخوا ملّی عوامی پارٹی  (پی ایم اے پی) بھی اس طرز کا ایک مطالبہ کرچکی ہے۔ گیارہ اگست 2011ء کو جاری کیے گئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک بیان میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ملک میں زبان، ثقافت، تاریخ اور جغرافیہ کی بنیاد پر نئے صوبے تشکیل دے۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ پی ایم اے پی طویل عرصے سے بلوچستان میں پشتون آبادی پر مشتمل جنوبی پختوانخوا صوبہ قائم کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *