ریاستِ مدینہ اور آج کا پاکستان

مدینے کی ریاست کیسی تھی؟ ایک جدید ریاست، اس ماڈل سے کیسے استفادہ کر سکتی ہے؟
ریاستِ مدینہ، ایک ارتقائی ریاست ہے۔ اپنی تشکیل سے عہدِ فاروقی تک، یہ بہت سے مراحل سے گزری۔ اس سفر کو سمجھے بغیر اُس ریاست کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ مراحل، کیا تھے، آج ان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں: 
1۔ ریاست کی تشکیل سے پہلے، مدنی معاشرے میں دعوت کی ایک تحریک برپا ہوئی۔ ہجرت سے پہلے، نبیﷺ حج کے موقع پر باہر سے آنے والے عازمینِ حج سے ملتے اور ان تک اپنی دعوت پہنچاتے۔ ان میں مدینہ سے آنے والے بھی شامل تھے۔ دو سال کی جدوجہد کا حاصل یہ ہوا کہ یہاں کے اہم قبائل کے سرداروں نے اسلام قبول کر لیا‘ اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ واپس جا کر مدینے میں اسلام کی دعوت پھیلائی۔ یہاں تک کہ مدینہ کی اکثریت مسلمان ہو گی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے آپﷺ کو دعوت دی کہ اب آپ اللہ کے رسول اور حکمران کی حیثیت سے مدینہ تشریف لائیں۔ گویا رائے عامہ کی تائید سے آپ نے یہاں کا نظم سنبھالا۔
2۔ آپ مدینہ تشریف لائے تو یہاں چاربڑے گروہوں سے آپ کو واسطہ ہوا۔ایک اہلِ ایمان جو تاریخ میں انصار کہلائے۔دوسرے مشرکین۔تیسرے منافقین جو اصلاً مشرک تھے مگرانہوں نے معاشرتی دباؤ میں بظاہر اسلام قبول کر لیا مگر دل سے ایمان نہیں لائے۔ چوتھے یہودی قبائل جو زیادہ تر مدینہ کے نواع میں آباد تھے۔ ایک مستحکم ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے، آپ نے ان سب کو اعتماد میں لیا۔ یہود سے معاہدے کیے، جنہیں اجتماعی حیثیت میں ''میثاقِ مدینہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں شہریوں اور ریاست کے حقوق و فرائض کا ذکر ہے۔ یہود اور مسلمان، سب کو سیاسی و سماجی حیثیت میں ایک امت قرار دیا گیا ہے۔
3۔ میثاقِ مدینہ سے اہلِ عرب پہلی بار جدید ریاست کے تصور سے روشناس ہوئے۔ یہ جزیرہ نمائے عرب میں ایک قبائلی معاشرہ سے جدید ریاست کی طرف پہلا قدم تھا۔ 'میثاقِ مدینہ‘ جدید مفہوم میں ریاست اور شہریوں کے مابین ایک عمرانی معاہدہ تھا۔ اسے دنیا کا پہلا تحریری آئین بھی کہا گیا۔ اس میں ریاست کا مفہوم طے ہوا اور جدید ریاست کے بعض دیگر لوازمات کا بھی تذکرہ ہوا۔ میثاقِ مدینہ سے پہلے، آپؐ نے اس طرز کا ایک معاہدہ قریشی اور یثرب کے مسلمانوں کے مابین بھی کرایا۔
4۔ مدینہ ایک زرعی معاشرہ تھا۔ مکہ سے آنے والے تجارتی مزاج رکھتے تھے۔ سب سے پہلا مسئلہ ان کی معیشت کا اہتمام کرنا تھا۔ مواخات کے ذریعے رسول اللہﷺ نے ہنگامی بنیادوں پر ایک قلیل مدتی حکمتِ عملی تشکیل دی۔ تدریجاً لوگوں نے اپنی معیشت کو اپنے طور پر مستحکم کر لیا‘ اور یوں مقامی معاشی نظام کا حصہ بن گئے۔
5۔ یہ ریاست ابتدا ہی میں استحکام کے بحران کا شکار ہوئی۔ اسے خارجی اور داخلی سطح پر مسائل نے گھیر لیا۔ ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر ہوا اور اہلِ مدینہ کو اپنا دفاع کرنا پڑا۔ داخلی طور پر یہود نے مکہ کے کفار سے مل کر مدینہ کی ریاست کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہا۔ یہ ان معاہدوں کی صریح خلاف ورزی تھی جو ابتدا میں ہوئے اور جنہیں تاریخ میں 'میثاقِ مدینہ ‘ کہا گیا۔ دوسری طرف منافقین نے داخلی سطح پر مسلم معاشرے کو غیر مستحکم کیا۔ ان میں وہ سیاسی گروہ اور افراد ممتاز تھے جو مدینہ کی سیادت کے متمنی تھے مگر رسول اللہﷺ کی تشریف آوری سے ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ان میں سرِ فہرست عبداللہ ابن ابی تھا۔
6۔ بطور سربراہ مملکت، اللہ کے رسولﷺ کو ان چاروں گروہوں سے نمٹنا تھا۔ رسول اللہ نے بیرونی خطرات سے نمٹنے کو ترجیح دی کیونکہ بیرونی دشمن پے در پے جنگ مسلط کر رہا تھا۔ اس دوران میں آپ نے داخلی سیاسی مخالفین کو نظر انداز کیا۔ منافقین نے آپ کو اور مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی مگر آپ نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ ان کی سیاسی قوت کو سیاسی طریقے سے توڑا۔ آپ نے یہ بنیادی حقیقت سامنے رکھی کہ جب کسی گروہ کو ایک ریاست میں سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے تو اس کے ساتھ عمومی تصور جزا و سزا کے ساتھ معاملہ نہیں کیا جا سکتا۔ 
7۔ سماجی تبدیلی چونکہ تدریج کے ساتھ آتی ہے، اس لیے یہاں بھی اصلاحِ معاشرت کا کام تدریجاً آگے بڑھتا رہا۔ قدیم سماجی رسوم و رواج‘ جو انسانی تکریم کے خلاف تھے‘ اور استحصال پر مبنی تھے، انہیں ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ جیسے غلامی کا ادارہ۔ جیسے سود پر مبنی معاشی استحصال۔ جیسے شراب نوشی اور جوا۔ تدریجاً معاشرے کے اخلاقی معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش ہوتی رہی۔
غلامی اور سود وہاں کے نظامِ معیشت کے اہم ستون تھے۔ انہیں تادیر برداشت کیا گیا کیوں کہ ان کو یک دم ختم کرنے کا نتیجہ معاشی انارکی تھا اور اسے گوارا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سود کے خاتمے کا آپ نے اعلان کیا لیکن غلامی کے خاتمے کی جانب پیش رفت ابھی جاری تھی۔ 
8۔ مشرکینِ مکہ کی مخالفت آہستہ آہستہ دم توڑ گئی اور 8 ہجری میں مکہ فتح ہو گیا۔ یہ تاریخ ساز واقعہ تھا جب جزیرہ نمائے عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپﷺ نے ایک تاریخی اقدام کیا اور فتح کے دن کو عام معافی کا دن قرار دے دیا۔ یہ انتقام پر مبنی معاشرتی نظامِ اقدار میں جوہری تبدیلی تھی۔
9۔ خطبہ حجۃ الوداع، آپﷺ کا آخری عوامی خطاب تھا۔ اللہ نے خبر دے دی تھی کہ دین اب مکمل ہو چکا۔ گویا ایک رسول کا مشن بھی تمام ہوا۔ آپﷺ پر واضح تھا کہ اب خالقِ حقیقی سے ملاقات کا وقت قریب آ پہنچا۔ اس لیے حج کے موقع پر، آپ نے آخری نصیحتیں فرمائیں اور بعض عملی اقدامات کا اعلان کیا‘ جن میں سود کا خاتمہ بھی شامل تھا۔
10۔ یہ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ریاستِ مدینہ کی مختصر داستان ہے۔ یہ ان واقعات کا بیان ہے جن کا تعلق عالمِ اسباب سے ہے۔ تاہم یہ واضح رہنا چاہیے یہ ایک الٰہی منصوبہ تھا۔ مطلوب دنیا میں کوئی ریاست قائم کرنا نہیں بلکہ اتمامِ حجت تھا۔ اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعے، جزیرہ نمائے عرب میں ایک انقلاب برپا کرکے بتایا کہ کیسے اسی طرح ایک قیامت کبریٰ برپا ہوگی اور اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کرے گا۔ مدینہ میں غیب سے بھی مدد ہوئی جیسے بدر اور احد میں فرشتوں کا اترنا۔
اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے موقع پر حق و باطل کو الگ الگ کر دیا جیسے وہ قیامت میں کرے گا۔ یہاںجزا و سزا کا نفاذ بھی ہو گیا‘ جیسے قیامت میں ہونا ہے۔ اہلِ ایمان کو فتح، زمین کا اقتدار، دنیا کی نعمتیں اور امن نصیب ہوا۔ جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والوں پر موت کی سزا نافذ ہو گئی۔ اس کا تعلق عموی قانونِ جزا و سزا سے نہیں، قانونِ اتمامِ حجت سے ہے جو رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔ 
11۔ مدینے کی ریاست، عہدِ صدیقِ اکبرؓ میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی جب ایک بار پھر اسے داخلی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے ریاست کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ کچھ نے نبوت کا اعلان کر کے الگ امت بنانے کی کوشش کی؛ تاہم اب ریاست ابتدائی مراحل کی نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ اس نے قوت کے ساتھ ان بغاوتوں کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور اس میں کامیاب رہی۔
12۔ عہدِ فاروقی، مدینے کی ریاست کا دورِ عروج ہے۔ اب وہ وقت آیا جب اس کے داخلی نظام ہائے معیشت و معاشرت وجود میں آئے۔ اب یہ کوئی سٹی سٹیٹ یا قومی ریاست نہیں تھی، اس نے ایک عالمی سلطنت کی حیثیت اختیار کر لی۔ اب معاشی وسائل کی کمی نہیں تھی۔ اس دور کے تمدن کے حوالے سے دیکھیے تو جدید ترین ترقی یافتہ ریاست قائم ہو گئی۔ اب وہ وقت آیا جب زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ تھا۔
ریاست مدینہ کے تفہیم میں دو باتیں اہم ہیں: اس کے ارتقائی مراحل اور اس کا ایک الہامی سکیم کا حصہ ہونا۔ جب تک یہ تمام تر پس منظر اور تناظر سامنے نہ ہو، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ موجود ہ دور میں ایک فلاحی ریاست کی تشکیل میں اس ماڈل سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا۔ اگلے کالم میں، انشااللہ اس موضوع پر بات ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *