تضادات سے بھرا ایک معمہ

 "کارٹیونا لیوک"

جب 1991 میں عمران خان ڈیزرٹ آئی لینڈ ڈسکس نامی بی بی سی ریڈیو پروگرام میں شریک ہوئے تو  انہوں نے لہروں سے جو ریکارڈ محفوظ رکھنے کی کوشش کی وہ  پنک فلائیڈ کے البم ''دی ڈارک سائیڈ آف دی مون" کا حصہ 'us and them' تھا۔ یہ 70 کی دہائی کا ایک جنگ مخالف گانا تھا  جس کے بول کچھ یوں تھے:  ۔ “and the general sat, and the lines on the map they moved from side to side

1997 کے جنرل الیکشنز میں  نواز شریف کی  بھرپور جیت  نے انٹرنیشنل میڈیا کو  غلط ثابت کر دیا ۔  PML-N  نواز شریف کی صدارت میں 136 نیشنل اسمبلی  سیٹیں  جیت گئی۔ اور بے نظیر کی صدارت میں PPP صرف 17 سیٹ لےسکی جس کی حکومت کو کرپشن کے نام سے  پچھلے نومبر  میں برطرف کر دیا گیا تھا۔  عمران کی نئی تحریک انصاف  کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی جبکہBBC رپورٹ کر رہا تھا کہ بینظیر اور عمران خان کے بیچ دوگھوڑوں کی سی ریس لگی ہوئی ہے۔ اور  انہوں نے ایک فلم کریو بھی بھیجا گیا جو  ایک پروگرام بنانے کی غرض سے بھیجا گیا۔ اس پروگرام کا نام 'عمران کا فائنل ٹیسٹ' تھا۔

اس  کے مطابق   عمران خان اور بینظیر بھٹو  نے انٹرنیشنل سٹیج پر بہترین  پاکستانی نمائندگان  کی حیثیت سے  بہت  اچھا کام کیا ہے۔   یہ اس نسل  سے تھے جو مشرق اور مغرب دونوں کے لئے  موزوں تھے ، ایک بہتر دنیا کے خواہش مند تھے اور  خاص طور پر پاکستان کو ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جو ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور خود مختار ہو۔

عمران خان نے پچھلے  اپریل ہولیڈے ان لاہور  میں  اپنی پارٹی لانچ کی تھی ۔ پارٹی کے منشور میں  سیاسی، معاشی اور ذہنی غلامی سے نجات کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی  اور ظلم، غربت، بے روزگاری، بے گھر ہونے اور ان پڑھ لوگوں میں کمی لانا سب سے بڑے مقاصد تھے۔ اس  کے علاوہ، خوف کا خاتمہ ،خواتین کے لئے آذادی  اور پیسا بنانے کی آزادی بھی  منشور میں شامل  تھی۔ ان کا کہنا تھا: " خود اعتمادی  پر تب اثر پڑتا ہے جب ہمارے   لیڈر پیسے مانگنے جاتے ہیں۔  ہمیں اپنے ملک کو  تبدیل کر کے اسے اپنے پیروں پر  کھڑے کرنا ہے"۔

35  سال کی عمر میں 1998 میں  ان کی " آل راؤنڈ ویو " کے نام سے   سوانح عمری  میں انہوں نے سیاسی رائے پیش کی  ۔ انہوں نے لکھا:" میری سیاسی رائے پر میرے والدین کا اثر ہے، اور اسی لئے میں بھی محب الوطن ہوں اور  کولونیلزم کے خلاف ہوں۔ جبکہ  میرے والدین کی طرح میں ہندوستان کے خلاف نہیں ہوں۔ میری نسل نے پاکستان بنتے وقت کی جدوجہد  کو از خود نہیں دیکھا  اور 1947 کے وقت بہے خون کے عینی شاہد نہیں ہیں۔  یہ شبہات اور دشمنی  جو سرحدوں کی وجہ سے ہم نے پال رکھی ہے  ان 2 بد ترین جنگوں کی وجہ سے ہے  اور دونوں ملکوں پر ایک بوجھ بنی ہوئی ہے۔ ہمارے بجٹ کا 65 ٪  فیصد تو ہماری  حفاظت پر لگ جاتا ہے۔ اور صحت اور تعلیم کے لئے کافی نہیں بچتا جو مشکل سے 4 فیصد ہے۔  اور ہو سکتا ہے یہ سننے میں بچگانا لگتا ہو  لیکن  بہت جلد بھارت اور پاکستان میں ایسا رشتہ ہو گا جیسا کہ محمد علی جناح نے تجویز کیا تھا کہ یہ دونون ملک امریکہ اور کینیڈا جیسے پر امن اور دوست ملک بن کر رہیں گے۔  اور یہ دونوں ملکوں کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ "

انہوں نےیہ  بھی کہا کہ پاکستان میں بہت سارے مسائل ہیں جنہیں  حل ہونا چاہئے: ملک میں آبادی تیزی سے  بڑھ رھی ہے،  اور اگر ایسا ہی رہا تو اکیسویں صدی میں  مسائل شدید حد تک بڑھ جائیں گے۔  پورے ملک میں صحت اور تعلیم کے حالات بہت ناقص ہیں۔ اور ملک میں اداوروں کے انفراسٹرکچر کی کمی ہے جس کے باعث  کرپشن پر قابو نہیں  پایا جا  رہا اور  ترقی کی راہیں  ہموار نہیں ہو پا رہیں کیوں کہ   پولیس جیسے اداروں کو بہت کم تنخواہیں ملتی ہیں۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ  30 سال پہلے بھی اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی اور تحریر ہوا تھا کہ  کیا خان کے نظریات نیشل گورنمنٹ کے بارے میں ہیں یا ریجنل گورنمنٹ کے بارے میں۔ " سیاسی طور پر لگتا ہے کہ ملک  حصوں میں بٹ رہا ہے۔ اور اقلیتی صوبے  محسوس کر رہے ہیں کہ  وہ پنجاب اور  مرکزی شہروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔ اور اس کا حل یہ ہی ہے کہ مرکزیت کو ختم کیا جائے ملک کو چھوٹے چھوٹے  صوبوں میں بانٹا جائے  اور ہر صوبہ اپنی بھلائی ،  قانون ، تعلیم اور صحت پر بھرپور کام کرے جیسا کہ امریکہ میں  ہر اسٹیٹ کرتی ہے۔ "

اس کے بعد خان کی 'Indus Journey' نامی  کتاب سامنے آئی  جس میں مائیک گولڈ واٹر کی فوٹو گرافی  شامل تھی۔ یہ کتاب انہوں نے پاکستان کی جنگلی حیات اور جنگلات کو منسوب کی تھی۔ ایچی سن کالج کے بعد عمران خان رائل ورسسٹر گرامر سکول انگلینڈ میں داخل  ہوئے جہاں سے انہوں نے اے لیول اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے انٹرنس امتحانات کی تعلیم حاصل کی۔  انہوں نے اے لیول کے امتحانات صرف 9 ماہ میں پاس کیے اور پھر کیبل کالج آکسفورڈ میں داخل ہوئے  جہاں سے وہ جغرافیا پڑھنے کی خواہش رکھتے تھے۔ یہ فیصلہ درست ثابت نہ ہوا اور 2 ٹرمز کے بعد  انہوں نے پولیٹکس، فلاسفی اور اکنامکس کے شعبہ میں تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ آکسفورڈ میں وہ عام طلبا کی طرح سائیکل استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ ایک بانٹن موٹر بائیک استعمال کرتے تھے ۔

کرسٹوفر سینفورڈ  کی 2009 میں لکھی گئی بائیوگرافی میں خان کو تنہائی پسند قرار دیا گیا ہے۔ جو  چیز خان کی اندرونی زندگی میں واقع ہو تی ہے وہی ان کی باہری زندگی میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ 1984 میں جب انہیں ٹانگ میں چوٹ لگی تو وہ ایک آرٹسٹ دوست ایما سرجینٹ کے گھر رہنے لگے۔ آرٹسٹ نے ان کی جو تصویر اپنے تخیلات میں بنائی اسمیں بھی عمران تنہائی پسند دکھائی دیے اور یہ تصویر بعد میں  'آل راونڈ ویو' نامی میگزین میں شائع ہوئی۔ لیڈی اینا بیلی گولڈ سمتھ کی آٹو بایو گرافی میں بھی ان بدلتے ہوئے موڈ کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ 2001 میں جب گولڈ سمتھ فیملی جہاز کے حادثے سے بال بال بچی اس وقت کے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ عمران نے اپنی بیوی جمائمہ کو کہا تھا: میں نے حادثے کے بارے میں سنا۔ میں ہمیشہ آپ کو کہتا تھا کہ پی آئی اے میں سفر کیا کرو۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمران کی طبیعت میں مزید کرخت پن آنے لگا۔ میں نے بہت کم عمران کی ایسی تصویر  دیکھی ہے جس میں وہ مسکرا رہے ہوں ۔ 2018 کے الیکشن کے بعد جمائمہ خان نے ٹویٹ میں لکھا: 22 سال کی ذلت، مشکلات اور قربانیو ں کے بعد میرے بچوں کا والد پاکستان کا پرائم منسٹر بن گیا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ خان نے ایک شاہانہ زندگی بسر کی ہے۔ سیاسی لیڈرز کےلیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ عالمی اور قومی میڈیا کے رد عمل کے مطابق  جذباتی اور ٹچی محسوس کرنے لگیں۔

اس کی ایک وجہ ان کی خاندانی وراثت ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے خاندان یعنی نیازی فیملی کو خوش کرنا آسان کام نہیں ہوتا تھا۔  زمان پارک جو کہ عمران  خان کے چچا کے نام سے مشہور تھا کے علاقے  میں اتنے زیادہ خان اور نیازی رہتے تھے کہ اسے جراسک پارک سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے لوگ کرکٹ کو بورنگ اور بے ڈھنگ کھیل سمجھتے تھے ۔ کوئی اس کھیل سے  لفط اندوز نہیں ہوتا تھا۔  ماں کے خاندان میں فوجی  افسران سے رشتہ اور تعلق کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ انڈس جورنی ' میں عمران خان لکھتے ہیں کہ ان کے ایک بزرگ ہییبت خان نیازی شیر شاہ سوری کے بڑے جرنیلوں میں سے ایک تھے  اور پنجاب کے گورنر بھی تھے۔  عمران کے ماموں جن کا نام برکی تھا جنرل ایوب کے وزراء میں سے تھے۔ اس لیے 60ء کی دہائی میں  وہ بتاتے ہیں کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے بہت اقددامات کیے گئے تھے۔ ولیم ڈیل رمپل کے عمران خان کے بارے میں لکھے ایک تفصیلی مضمون جس کا عنوان ہے 'آوٹ فار ڈک'، میں بتایا گیا ہے کہ خان نے ڈیلرمپل کو بتایا: 60ء کی دہائی میں ہماری ایکسپورٹس ہانگ کانگ کے برابر تھیں۔ اب ہماری ایکسپورٹس  ہانگ کانگ سے 10 گنا کم ہیں۔

 ولیم ڈیل رمپل نے اپنے مضمون میں عمران کی زندگی میں پیروں اور  نجومیوں کی اہمیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ یوسف صلاح الدین جو عمران کے ساتھ کرکٹر تھے نے بتایا کہ جب عمران ایک نوجوان کھلاڑی تھے تب وہ سپین میں ایک نجومی کے پا س گئے تھے  جس نے کہا تھا کہ اگر عمران سیاست میں گئے تو ان کی زندگی خطرے میں ہو گی۔ 1989 میں ڈیل رمپل خا ن کے ساتھ اس لاہوری پیر کے ہاں تشریف لے گئے جس کی مریدی میں عمران خان تین سال سے تھے۔

مائیکل پالِن نے مئی 2003 میں عمران خان سے ملاقات کی ۔ وہ کہتے ہیں:  عمران میٹنگ میں ہیں اور ہما ر ااستقبال تین خوبصورت کتوں نے دم ہلاتے  ہوئے کیا ۔ کافی  دیر تک یہ کتے دم ہلاتے رہے اور پھر تھک کر آرام کرنے لگے ۔   جب بات چیت شروع ہوئی تو باسل پاو، جو کہ مائیکل کے فوٹو گرافر تھے نہین عمران کی لیبراڈر کی تصویر لی  جو بعد میں پالن کے 'ہمالیہ' (2004) میں شائع ہوئی۔ پچھلے چند ہفتوں میں ایک بار پھر برطانوی اخباروں نے عمران خان کو کوریج دینا شروع کیا ہے ، ٹھیک چالیس سال بعد اس وقت سے جب عمران خان کو ایک شاندار کرکٹرکے طور پر توجہ کا مرکز بنایا گیا تھا۔دی ٹائمز اخبار نے عمران خانکے بارے میں ایک تفصیلی ایڈیٹوریل شائع کیا ہے جس میں پاکستان میں اقتدار پر موجود جماعتوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے عمران کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *