تحریک انصاف کے فالوورز کا مخمصہ

تحریک انصاف کے فالوورز کا مخمصہ یہ ھے۔ ان کا لیڈر عمران خان اپنے بائیس سال کے سیاسی کیرئر اور خاص طور پر نوازشریف کے پانچ سالہ دور حکومت میں ایک ھائ مورل گراونڈ پر کھڑے ھو کر جن باتوں کے دعوے کرتا رھا۔ جو خواب دکھاتا رھا۔ جو امیدیں دلاتا رھا۔ جس مثالیت پسندی کو پروان چڑھاتا رھا۔ اور اپنے مخالفین کے خلاف جن ایشوز پر پروپیگنڈہ کرتا رھا۔ عمران خان کے فالوورز نہ صرف ان پر یقین کرتے رھے۔ بلکہ ان فالوورز کی توقعات کا لیول اسقدر بلند اور پختہ ھو چکا تھا۔ کہ انہیں یقین اور اعتماد تھا۔ جونہی عمران خان کی حکومت بنی۔ ان دعووں پر عملدرآمد شروع ھو جائے گا۔ ھمارے خیال میں تحریک انصاف کے فالوورز کا اس میں اتنا قصور بھی نہیں ۔ یہ عملیت پسندی اور مثالیت پسندی کے درمیان مقابلہ تھا۔ نوجوان اور شاید کچھ بڑی عمر کے لوگ بھی رومانیت کا شکار ھوتے ھیں ۔ میں خود رومان پرور ھوں ۔ لیکن سیاست میں اب رومانیت کا حامی نہیں رھا۔ اتنے سالوں کی سیاسی جدوجہد کے بعد رومانیت بچتی بھی نہیں اور خاص طور پر جب آپ نے پاک سیاست کے اصل دکھ اور اصل سچ کو سمجھ لیا ھو۔ لیکن تحریک انصاف کے فالوورز کچھ سننے اور کچھ سمجھنے کو تیار نہیں تھے۔ عمران خان نے اپنی ھائ مورل گراونڈ پر کھڑے ھو کر اپنے فالوورز کو کچھ ایسے ھی متاثر کر لیا تھا۔ دوسرے عام لوگوں کے مسائل، دکھ،مشکلات، ناآسودہ خواہشات ، ضروریات اور امیر اور حکومتی طبقوں سے شکایات اور مخاصمت وہ محرکات ھیں ۔ جن کا ہمیشہ استحصال اور استمعال کیا گیا ۔ اور اقتدار میں آنے کے لیے انہیں سیڑھی بنایا گیا۔ ان محرکات کے علاوہ اپنے فالوورز کی اپنے ملک سے محبت اور حب الوطنی کو بھی ایکسپلائٹ کیا گیا۔ خاص طور پر تارکین وطن اس ایکسپلائٹیشن میں سر فہرست رھے۔
مثالیت پسندی اور حب الوطنی کو ایکسپلائٹ کرنے کے لیے کچھ جذباتی اور نفسیاتی سلوگنز دیے گئے۔ جن کے متعلق ھمیں تب بھی معلوم تھا۔ ان پر عملدرآمد نہیں ھو سکے گا۔ لیکن ھوا ایسی تھی۔ کہ سب اونچی اڑان میں تھے۔ یہ سلوگنز کچھ یہ تھے۔ ایک غریب ملک میں اتنے وسیع و عریض گورنر ھاوسز اور وزیراعظم ہاوس کی کیا ضرورت ھے۔ جن پر بے بہا خرچہ آتا ھے۔ چناچہ ھماری حکومت کے پہلے دن ھی گورنر ھاوسز کی دیواروں پر بلڈوزرز چلا دیے جائیں گے۔ گورنر ہاوسز اور وزیراعظم ہاوس کو یونورسٹی اور لائبریریز میں تبدیل کر دیا جاے گا۔ یہاں تک کہ عمران خان نے اپنے پہلے قومی خطاب میں پھر انہی باتوں کا اعادہ کیا۔ ھم تب کہتے تھے۔ سیکیورٹی ایشو کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ۔ یہ صرف ایکسپلائٹیشن ھے۔ لیکن تحریک انصاف کے فالوورز اس پر یقین کرکے بیٹھے تھے۔ اب پوری تحریک انصاف بتا رھی ھے۔ سیکیورٹی ایشو کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ۔ اسی طرح ڈنمارک کے وزیراعظم کے سائیکل پر دفتر جانے کو پروپیگیٹ کیا گیا۔ اور وزیراعظم اور وزیر اعلی کی مسلسل گوشمالی کی گئ۔ یہ غریب عوام کے ٹیکسز کے پیسوں پر خصوصی ھوائ جہازوں اور ھیلی کاپٹر پر سفر کی عیاشی کرتے ھیں ۔ پروٹوکول انجواے کرتے ھیں ۔ اور آج دیکھ لیں پوری تحریک انصاف یہ ثابت کرنے میں لگی ھے۔ خصوصی ھوائ جہازوں اور ھیلی کاپٹر پر سفر سستا پڑتا ھے۔ اور محفوظ ھے۔ یعنی آپ تب جھوٹ بولتے تھے۔ یا اب بول رھے ھیں ۔ چلیں سرکاری ھوائ سفر کر لیں لیکن سرکاری ھیلی کاپٹر پر سسرال جانا کس ذمرے میں آتا ھے۔ پھر قرضوں کو لے کر نوازشریف حکومت کو کھینچا گیا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا۔ یہ کہا گیا ھم کبھی قرض نہیں لیں گے۔ بلکہ آئی ایم ایف کا سابقہ قرض اس کے منہ پر ماریں گے۔ اور اب کہا جا رھا ھے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں۔ کیا آپ نے تب یہ کہا تھا اگر خزانہ خالی ھوا تو قرض لیں گے۔ بلکہ آپ نے تو یہ کہا تھا۔ ھم تارکین وطن کے ذریعے بیس ارب ڈالر اکھٹے کر لیں گے۔ وہ پراجیکٹ کہاں گیا۔ آپ لوٹی ھوئ رقم واپس لا رھے تھے۔ وہ کہاں ھے۔ کوئ آغاز ھی ھوا ھو۔ وہ نوازشریف کے چوری کردہ 300 سو ھزار ارب روپے کدھر ھیں ۔ وہ سوئٹزرلینڈ میں رکھے 200 ارب ڈالر کہاں ھیں ۔ تحریک انصاف کے فالوورز کہتے ھیں انتظار کریں ابھی حکومت کو دس دن ھی ھوے ھیں ۔ ٹھیک ھے۔ لیکن کچھ حیل و حجت تو نظر آئے ۔ کچھ کام شروع ھوتا تو دکھائ دے۔ اور ھاں کام سے یاد ایا۔ آپ کہتے تھے۔ صرف تین سو ٹیکنیکل افراد اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ وہ تین سو افراد کہاں ھیں ۔ کوئ رابطہ ھوا۔ کوئ سلیکشن شروع ھوئ ۔ اور ستم ظریفی یہ کہ آپ نے حکومت چلانے کے لیے جو ٹیم چنی ھے۔ وہ روز کوی نہ کوئ لطیفہ چھوڑ دیتی ھے۔ آپ مذاق بن کے رہ گئے ھیں ۔ آپ کے پسندیدہ اینکرز اور کالم نگار آپ کی روز کلاس لے رھے ھیں ۔ اور ھاں آپ نے یہ دعوی بھی کیا تھا آپ نوجوانوں کو پروموٹ کریں گے۔ آپ پڑھے لکھے لوگ آگے لائیں گے۔ آپ نے اب تک جتنی نامزدگیاں کی ھیں ۔ وزراء، وزراء اعلی اور گورنرز تمام ستر اسی کے پیٹے میں ھیں ۔ واجبی طور پر تعلیم یافتہ ھیں ۔ اور آمریت کی پیداوار ھیں ۔ اور تحریک انصاف کے فالوورز کو جب کوئ جواب نہیں اتا۔ تو ایک ھی گھسا پٹا جواب دیتے ہیں ۔ نواز شریف بھی یہی کرتا تھا۔ خدا کا خوف کریں ۔ اگر آپ نے بھی وھی کچھ کرنا تھا جو نوازشریف کرتا تھا۔ تو آپ کس تبدیلی کا دعوی کر رھے تھے۔ ابھی تو آپ نے خارجہ، داخلہ اور معیشت کے معاملات میں سنجیدہ ایشوز کو فیس کرنا ھے۔ اور آپ ابھی سے نان ایشوز میں پھنس گئے ھیں ۔ مخول بن گئے ھیں ۔ پہلی حکومت ھے جو پہلے ھفتے اتنی شدید تنقید کی زد میں آ چکی ھے۔ اور وجہ یہ ھے ۔ آپ جس ھائ مورل گراونڈ پر کھڑے ھو کر بھاشن دیتے رھے۔ اس نے لوگوں کی توقعات بہت بڑھا دی تھیں ۔ آپ اپنے ھی کیے گئے دعووں، وعدوں ، خوابوں اور تنقید کی پکڑ میں آ چکے ھیں ۔ اور یہ ابھی آغاز ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *