نور جہاں کا راج پورے ہندوستان پر

"جہانگیر کے معاملات پر ایک خاتون کا کنٹرول ہے جیسا کہ پہلے تھا، ایسی صورتحال پیدا کر لی گئی ہے کہ انصاف کی فراہمی اورعوامی معاملات سے لے کر سونے اور اٹھنے کے وقت اور طریقے بھی خاتون کی مرضی کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔ یہ خاتون ایک دیوی سے زیادہ خوبصورت  اور ایک شیطان سے زیادہ چالاک ہیں۔ " یہ الفاظ 1617 میں ایک برطانوی سفارتکار تھامس رو نے  ایک بر صغیر کے بادشاہ  کی 20 ویں بیوی جن کا نام نور جہان تھا کے اس پر اثر و رسوخ کو بیان کرتے ہوئے لکھے۔ ہر طرف مردووں کو خواتین کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خطرہ محسوس ہونے لگا تھا، خاص طور پر ایسے مردوں کے لیے جو نسل پرستی اور عورت دشمنی کے پرچار کرنے والوں میں تھے۔

اسی طرح کی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے روبی لال نے بھی اپنی کتاب ‘empress’ لکھی  جو کہ ایک ایسی خاتون کی سوانح حیات پر مشتمل ہے جسے پہلے تو اس کے خاوند کے دشمن صفت جانشینوں نے تاریخ سے غائب کرنا چاہا اور پھر کولونیل مورخین نے اور قوم پرستوں نے فراموش کیے رکھا کیونکہ وہ اپنے انداز سے صرف بادشاہ کی تاریخ لکھنے کے خواہش مند تھے۔ لال ایک ایسی خاتون کی کہانی بیان کرتے ہیں جو شاہی محل میں کسی خاص لالچ یا غلط طریقے سے بلندیوں کو چھونے کی حامی نہیں تھیں لیکن پھر بھی کامیابی کی منازل طے کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ ایک شاندار کہانی ہے جس میں ایک نسل پرستی اور عورت دشمنی کے دور میں ایک با اعتماد خاتون نے بادشاہ کا دل جیت کر اقتدار تک بلواسطہ رسائی حاصل کی۔

نور جہاں کا پیدائشی نام مہر النسا تھا اور وہ مہاجر والدین  عصمت اور غیاث کی بیٹی تھیں  جو ایران سے بھاگ کر ہندوستان آئے تھے۔ وہ جلدی میں ایران سے بھاگے تھے اس لیے انہیں ایک کاروان کے ساتھ مل کر سفر کرنا پڑا باوجود اس حقیقت کہ عصمت حاملہ تھیں۔ انہوں نے افغانستان کے شہر قندھار کے ایک روڈ کے کنارے بچی کو جنم دیا۔ بچی کی پیدائش نے مشکلات کا شکار قافلے کو ایک مسکراہٹ چہرے پر سجانے کا موقع دیا۔

ہمیشہ سے امید اور جزبہ ہی ہجرت  کا حصہ رہا ہے جس کے بعد غیاث اور عصمت  آخر کار ایک گھر میں اچھی زندگی گزارنے لگے۔ اپنی نسل اور ایک قریبی ساتھی کی مدد سے وہ بہت جلد دربار کے قریب ہونے میں کامیاب ہوتے گئے۔  اس وقت مغل بادشاہ  اکبر  اقتدار میں تھے جو  چار بڑے مغل بادشاہوں میں سے دوسرے تھے۔؛  وہ اس وقت  مذہب اور ثقافت کے بیچ ہم آہنگی کی کوشش کرنے کے لیے جانے جاتے تھے ۔

لال نے کتاب میں بیان کیا ہے کہ اس وقت بیٹیوں والوں  کو دربار میں کیسے حالات سے گزرنا پڑتا تھا۔ شرفا کی بیٹیاں  روایتی  طریقے سے تعلیم حاصل نہیں کرتی تھیں  بلکہ انہیں رسم و رواج، رشتے نبھانے اور سماجی معاملات کے بارے میں سکھایا جاتا تھا۔  جب مہر بلوغت کی عمر کو پہنچیں تب تک ان کی والدہ کو بادشاہ کے دربار میں بادشاہ کی  ایران النسل بیوی سلمہ کی طرف سے  آنے کے دعوت نامے ملنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

انہی دعوتوں میں سے ایک پر  کہیں نور جہاں کا سامنا  شہزادے سلیم سے ہوا  جنہیں بعد میں جہانگیر بننا تھا۔  مہر اور جہانگیر کی پہلی ملاقات کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا۔ البتہ سب لوگ اس بات پر سب متفق ہیں یہ اسی ملاقات کے بعد بادشاہ اتنا فکر مند ہو گیا کہ اس نے  جلدی سے نور جہان کی کسی دوسرے مرد سے شادی کے حالات پیدا کر لیے۔

بظاہر 1594 میں  بیاہی جانے والی 17 سالہ نور جہان کو  اپنے شوہر کے ساتھ  دور دراز کے صوبے بہار  بھیج دیا گیا جہاں ان کے خاوند کو ایک شاہی سطح کا عہد ہ دے دیا گیا۔   اگلے 12 سال مہروالنساء  بیمار حال بنگال میں اپنی رضاعی ماں کے ساتھ گزارے جب کہ ان کے شوہر زیادہ تر وقت ان سے دور رہے جنگی مصروفیات میں رہے۔ پھر وہ کچھ عرصہ کے لیے واپس آئے اور نور جہاں حاملہ ہو گئیں۔ انہوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس کو لاڈلی کا نام دیا گیا۔  مرکزی دربار میں  شہزادہ سلیم بادشاہ  جہانگیر بن گئے  جن کے  لئے 300 جوان اور خوبصورت لڑکیاں  موجود تھیں۔" لیکن کوئی بھی اتنی دلنشیں نہیں تھی کہ ان کے بچپن کا پیار بھلا سکے۔

11مئی 1611  کو مہروالنسا جن کے شوہر وفات پا چکے تھے  نے جہانگیر سے شادی کر لی۔   انہوں نے حرم میں بہت تیزی سے پہچان بنائی۔ انہوں نے فارسی درباریوں سے بہت عزت کمائی اور اپنی بیک گراونڈ کی وجہ سے بھی انہیں عزت و مرتبہ کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اپنے نئے خاوند کے ساتھ وہ بہت چالاکی اور بہادری سے پیش آتی تھیں ۔ وہ اپنے خاوند کے سامنے ایسا رویہ اپناتی جیسے وہ ایک چالاک شکاری ہوں اور ہمیشہ ان کی عزت نفس کو جگانے کی کوشش میں لگی رہتیں۔

اس دور کی پینٹنگز میں انہیں پیلس گارڈن میں خاوند کے ساتھ چاند کی روشنی میں ٹہلتے اور ایک محبت بھرے انداز میں راز داری کی باتیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ نور جہاں اپنے خاوند کو سفر کرنے پر بھی ابھارتی تھیں تا کہ وہ کورٹ کی پابندیوں سے کچھ دیر کےلیے نجات حاصل کر سکیں اور تا کہ اپنے خاوند کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کر سکیں۔ دونوں میاں بیوی اپنے نوکروں، گھوڑوں، ہاتھیوں، ٹینٹ اور کارپٹس کے ساتھ مختلف جگہوں کی سیر کو جاتے تھے ۔ وہ رات کو خربوزوں کے کھیتوں سے لے کر مہینوں لمبے سفر پر کشمیر اور دوسرے ہمالیہ کے آس پاس کے علاقوں کی سیر کو جاتے تھے۔ لیکن پھر حالات اچانک بدل گئے۔ جتنی جلدی سے نور جہاں ترقی کر رہی تھین اور اقتدار پر قابض ہوتی جا رہی تھیں اتنی ہی تیزی سے ان کا زوال بھی منتظر تھا۔

لال کی کتاب فیمنسٹ ہسٹوریوگرافی کی بہت اچھی مثال ہے۔ اس کتاب میں نو ر جہاں کو ایک نا مکمل کردار کی صورت میں پیش کیا گیا ہے  لیکن انہیں بہت بہادر  بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب  خواتین ہر لحاظ سے مردوں کی محتاج تھیں ، وہاں نور جہان نے اپنی خوبصورتی اور اداوں کے ساتھ ساتھ چالاکی اور دھمکی جیسے عوامل  کو استعمال کرتے ہوئے  اپنی زندگی میں ترقی اور طاقت کے حصول کو ممکن بنایا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *