پاکستان میں شراب نوشی کے مسائل

کچھ دن قبل پاکستان میں شراب کی بوتل نے تہلکہ مچا دیا۔ 30 اکتوبر کو جب تحریک انصاف والے اسلام آباد کو لاک ڈاون کرنے کے ارادے سے اس طرف رواں دواں تھے  تو اس ددوران پولیس نے ایک پی ٹی آئی رہنما  کی گاڑی  میں سے جانی والکر ڈبل بلیک کی بوتل  قبضہ میں لے لی۔ کافی عرصہ سے پاکستانیوں نے خبروں میں شراب کے قصے نہیں سنے تھے ۔ اگرچہ میڈیا پر شراب کا ذکر منع نہیں ہے لیکن بہت کم خبروں اور میڈیا تبصروں میں شراب کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن شراب کی اس ایک بوتل نے جو پولیس والا  لہرا لہرا کر دکھاتا رہا  وہ ٹی وی پر بار بار  دکھائی گئی۔ اس کے ذریعے اپوزیشن کی اخلاقیات کو اور بد کرداری کو سامنے لانے کی بھی کوشش کی گئی۔ سیاستدان نے دعوی کیا کہ بوتل میں شراب نہیں بلکہ شہد ہے۔ لیکن اسی شام اس نے ایک ٹی وی شو پر اپنے ساتھی مہمانوں سے پوچھا کہ ان میں سے کون کون شراب نہیں پیتا۔ ہر طرف خاموشی ہی دیکھنے کو ملی۔ اگر وہ ہاں میں جواب دیتے تو  خود کو مشکل میں ڈال دیتے۔ اگر وہ نہ میں جواب دیتے تو کوئی ان کی بات پر یقین نہ کرتا۔ پاکستان میں مسلمانوں کے لیے شراب حرام ہے او ر اس کے بارے میں گفتگو کرنا برا  سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں  پینا اور پھر اس کی تردید کرنا ہی  سالوں پرانی رسم ہے۔

ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ محمد علی جناح نے  1947میں اس ملک کی بنیاد رکھی  جو خود شراب نوشی کرنے والوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ 1977 میں ذو الفقار علی بھٹو کے دور میں شراب کی دکانیں اور فیکٹریوں پر پابندی عائد کی گئی  جنہوں نے سر عام اعلان کیا تھا کہ : جی میں شراب پیتا ہوں لیکن غریبوں کا خون نہیں پیتا۔

اس سال  بھٹو نے الیکشن جیتنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ملک بھر میں شراب پر  پابندی لگائی جائے۔ ان کو شاید یقین تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھپ کر شراب نوشی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ لیکن 2 سال بعد انہیں پھانسی چڑھا دیا گیا۔ ان دنوں کے بعد پاکستان کا امیر طبقہ اپنے گھروں میں چھپ کر شراب نوشی کر تا ہے  لیکن کمزور طبقہ کو سزا اور کوڑوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، قید میں بھی جانا پڑ سکتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر لوگ مسلمان ہونے کی وجہ سے شراب نوشی نہیں کرتے۔  لیکن اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ غریب بھی ہیں۔ کوئی بھی شخص قانون کے ڈر سے شراب نوشی سے الگ نہیں رہتا۔

جب بھٹو نے شراب نوشی پر پابندی لگائی تو غیر مسلموں کو اس پابندی سے استثنی دیا گیا۔ غیر مسلموں کو لائسنس دینے اور کوٹہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ غیر مسلم مہمان اپنے ہوٹل کے کمرے میں شراب منگوا سکتے تھے لیکن انہیں ایک فارم بھرنا ہوتا تھا کہ وہ شراب طبی وجوہات کی بنا پر استعمال کر رہے ہیں۔ سندھ کے صوبہ میں جہاں میں رہتا ہوں، لائسنس رکھنے والی شراب کی دکانیں  اس پابندی کے وقت سے قائم ہیں۔ قانون کے مطابق یہ سٹورز صرف غیر مسلموں کو شراب مہیا کر سکتی ہیں  لیکن وہ ایسا نہیں کرتے اور بلا امتیاز تمام گاہکوں کو سروس مہیا کرتے ہیں۔ دکان  مالکان کو پولیس کو رشوت دینی پڑتی ہے اور اگر کسی بھی قسم کا جھگڑا ہو جائے تو دکان کی ہمیشہ کے لیے بند ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

قوانین ظالمانہ اور بے وقوفانہ ہو سکتے ہیں۔ پچھلے سال گرمیوں میں کراچی پولیس نے شہر میں  شراب کی دکانوں کو شراب فریزر میں رکھنے پر پابند ی لگا دی تا کہ شراب نوش حضرات کو ٹھنڈی شراب دستیاب نہ رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹھنڈی شراب ہمارے ایمان اور امن کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے لیکن  گرم شراب سے ایسا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، اور یہ عام مشروب کی طرح بے ضرر ہے۔پچھلے سال اکتوبر میں ایک ہائی کورٹ جج نے ایک پٹیشن پر فیصلہ دیتے ہوئے شراب کی تمام سٹورز بند کرنے کا حکم جاری کیا ۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شراب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ عیسائی اور ہندوں کے مذہب میں بھی حرام ہے۔ پابندی کا مطلب یہ تھا کہ صرف ایسے لوگ شرا ب نوشی  کر سکتے ہیں جو بیرون ملک سے مہنگی شراب درآمد کرنے کی سکت رکھتے  ہیں۔  باقی لوگوں کو ملک میں بننے والی گھٹیا شراب  ہی مل سکے گی جس سے شراب نوشی کرنے والوں کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔ 2 سال قبل جب سند ھ میں عید کی چھٹیوں کے دوران شراب پر پابندی لگائی گئی تو گھر کی تیار کردہ شراب پی کر 25 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ جو بچ گئے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ شراب انسان کو موت کے گھاٹ نہ اتارے یا اندھا نہ کر دے تو یہ بری نہیں ہے۔

پارلیمنٹ ممبران، قانون دان، صنعتکار، بیوروکریٹس، نوجوان پرووفیشنلز اور یہاں تک کہ کچھ مذہبی رہنما بھی آزادی سے شراب نوشی کرتے ہیں۔ لیکن ایک  ٹیکسی ڈرائیور اگر سفر کے دوران شراب کی چسکی لے تو اسے جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے یا آنکھوں سے محروم ہونا پڑت سکتا ہے۔یہ ایک لاء اینڈ آرڈر کا معاملہ ہے۔ امیر لوگ اپنے گھروں کے بڑے بڑے لان میں بیٹھ کر شراب پی لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب شراب نوشی کر لے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ امن خراب کرے گا غل غپاڑہ کرے گا۔ اسی لیے ایسے لوگ جو سکاچ خرید سکتے ہیں وہی غریبوں کو مذہبی فرائض یاد دلا رہے ہوتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے غریبوں کا خون پینے والے یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ خون سستی شراب سے مکروہ نہ ہو جائے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی پوری کوشش کرتےہیں کہ وہ کبھی شراب پیتے ہوئے پکڑے نہ جائیں  چاہے ان کے منہ سے بیرل بھر شراب کی بو ہی کیوں نہ آ رہی ہو۔ مجھے یاد ہے میں ایک 74 سالہ بابا جی کے ساتھ ڈنر کر رہا تھا تو وہ شراب کے لیے کوکا کولا کی بوتل استعمال کر رہے تھے اور انہیں خوف تھا کہ ان کی بوتل ان کے کسی بچے کی بوتل سے بدل نہ جائے ۔میں نے اپنے محلے میں شراب خانے پر کام کرنے والوں سے انٹرویو کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے اس سے باز رہنے کی ترغیب دی۔ ان کا سوال تھا کہ میں بجائے شراب نوشی جیسے حساس معاملے پر گفتگو کرنے کے دوسرے پاکستان کے مسائل پر کیوں نہیں  لکھتا ۔

میں نے پوچھا کہ تم یہ بومبے سیپفائر بیچ رہے ہو نا؟ مجھے کیسے پتا چلے گا؟ اس نے جواب دیا۔ کہنے لگا کہ میں کبھی میڈیکل مقاصد کے ساتھ بھی ایک گھونٹ تک نہیں پیتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *