ڈاکٹر عارف علوی 13ویں صدر مملکت کی حیثیت سے آج حلف اٹھائیں گے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ڈاکٹر عارف علوی آج پاکستان کے 13 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نومنتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی سے ان کے عہدے کا حلف لیں گے۔

حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوں گی، جس میں وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزرا، مسلح افواج کے سربراہان اور سیاسی شخصیات شریک ہوں گی۔

خیال رہے کہ 4 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی 352 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔

عارف علوی کون ہیں؟

ڈاکٹر عارف علوی 29 جولائی 1949 کو پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ایک ڈینٹسٹ (دندان ساز) ہیں۔

نومنتخب صدر کا سیاسی سفر5 دہائیوں پر مشتمل ہے اور انہوں نے اس سفر کا آغاز زمانہ طالبِ علمی میں ڈی مونٹمورینسی کالج آف ڈینسٹری لاہور سے کیا جہاں وہ طلبہ یونین کے صدر رہے جبکہ1969 میں سابق صدرِ مملکت جنرل ایوب خان کے دور اقتدار میں وہ طلبہ تحریک کا حصہ رہے۔

عارف علوی 1996 میں وجود میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کے بانیان میں سے ہیں اور یہ ابتدا میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کے کا حصہ رہے، تاہم 1997 میں انہیں سندھ میں پارٹی کا صدر مقرر کردیا گیا تھا۔

1997 میں ہونے والے عام انتخابات میں عارف علوی سندھ اسمبلی کی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار بن کر سامنے آئے تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

2001 میں عارف علوی پی ٹی آئی کے نائب صدر مقرر ہوئے جبکہ 2006 میں انہیں پارٹی کا سیکریٹری جنرل بنادیا گیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے 2008 میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا اسی وجہ سے عارف علوی نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جبکہ 2013 میں ہونے والے انتخابات میں انہوں نے کراچی کے حلقہ این اے 250 سے کامیابی حاصل کی اور ایم کیو ایم پاکستان کی خوشبخت شجاعت کو شکست دی۔

رواں برس جولائی میں ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 247 کراچی سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ممنون حسین کی سبکدوشی

اس سے قبل گزشتہ روز ممنون حسین صدارتی مدت پوری ہونے کے بعد سبکدوش ہوگئے تھے۔

صدارتی مدت ختم ہونے پر ممنون حسین کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے ایوان صدر کے عملے سے الوداعی ملاقاتیں کی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی میں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ صدارت کے منصب کو اس اطمینان کے ساتھ چھوڑ کر جارہے ہیں کہ پاکستان کے عوام کی جانب سے دی گئی اس ذمہ داری کے دوران انہوں نے کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *