یہ سلاخوں میں چمکتا چاند اور ایک اذیت ناک سفر

MHTراکاپوشی کے دامن میں یہ ہماری آخری شب تھی۔ ہم شاید ایک دو روز مزید ٹھہر جاتے لیکن نانگا پربت کے قتل نے ہم سب کی روحوں کو بجھا دیا تھا۔ جاپانی بوڑھے بھی جا چکے تھے اور جو سلوک غیر ملکی کوہ نوردوں کے ساتھ ہوا ، اُس کے بعد تو شمال کی برفوں میں سے یہی صدا سرگوشیاں کرتی تھی کہ ۔۔۔اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔۔۔سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ظاہر کسی کرکٹ ٹیم کا دفاع ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں آئے جہاں مہمانوں کو خصوصی طور پر ہلاک کیا جاتا ہے کیونکہ ہم ایک مہمان نواز قوم ہیں۔ ہمارے سٹیڈیم ویران پڑے ہیں اور کسی کرکٹ میچ کو دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔ ہماری کرکٹ ٹیم پوری دنیا میں بھک منگوں کی طرح سوال کرتی پھرتی ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں کھیلنے دو،لیکن ہم آپ کو اپنے ملک میں نہیں بلا سکتے۔ چنانچہ لوگ ترس کھا کر انہیں مدعو کر لیتے ہیں۔
کامران نے مجھ سے کہا تھا کہ سر۔۔۔ آج شب نو بجے کے قریب دیران چوٹی کے عقب میں سے پورا چاند ابھرے گا، اگر آپ پسند کریں تو میں عین وقت پر آپ کو اطلاع کر دوں گا۔۔۔ کھانے کے بعد میں اپنے خیمے میں لیٹا ہوا تھا جب کامران کی گونجدار آواز آئی۔۔۔ سر آ جائیں۔۔۔ دیر نہ کیجیے گا صرف ایک منٹ باقی ہے۔ دیر ان کی برفانی بلندی کے پہلو میں سے ہلکی سی روشنی پھوٹ رہی تھی اور پھر چاند کا تھال یوں ابھر ا ہے کہ چند لمحوں کے لیے تو یوں محسوس ہوا جیسے وہ برف پوش چوٹی پر ٹھہر گیا ہے۔۔۔ اس کی چٹانی نوک پر اٹک گیا ہے۔ یہ دل کو بے پناہ مسرت عطا کرنے والا منظر تھا۔ لگتا تھا کہ دیران کی اصل شکل ہی یہی ہے یعنی برف آلود چوٹی اور اس کی نوک پر ساکت چاند۔۔۔ اور اس شب مجھے احساس ہوا کہ پورا چاند کتنی تیزی سے ابھرتا ہے۔ ہم سب آنکھیں جلدی سے جھپک لیتے تھے۔۔۔ نہ بولتے تھے نہ حرکت کرتے تھے جیسے ہم پر جادو کر دیا گیا ہو اور یہ جادو نہیں تو اور کیا تھا۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چوٹی اور چاند کے تھال کے درمیان ایک جھری سی نظر آنے لگی، ایک لکیر اور پھر جوں جوں چاند اٹھتا گیا نیم تاریک آسمان چوٹی پر اترنے لگا۔۔۔ یہ چاند تماشا صرف چار پانچ منٹ کا تھا۔ کچھ دیر بعد دیران چوٹی اپنے محبوب سے بالکل بچھڑ گئی اور بیس کیمپ کی برفانی ندیوں میں اُس محبوب کا چاندی بدن بسنے لگا۔۔۔ جب کبھی کہیں پورے چاند کی شب میرے پاس اتری تو مجھے ہمیشہ قاسمی صاحب اور فیض صاحب ہی یاد آئے۔
کُنج زنداں میں پڑا سوچتا ہوں۔ کتنا دلچسپ نظارہ ہو گا۔ یہ سلاخوں میں چمکتا چاند تیرے آنگن میں بھی نکلا ہو گا۔
اور فیض صاحب کہتے ہیں:
آج تنہائی کسی ہمدمِ دیریں کی طرح
کرنے آئی ہے میری ساقی گری شام ڈھلے
منتظر ہیں ہم دونوں کہ مہتاب ابھرے
اور جھلکنے لگے تیرا عکس ہر سائے تلے
ویسے تو غالب نے بھی کہا تھا کہ
غالبؔ چُھٹی شراب مگر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر و شب ماہتاب میں
کاش کہ را کاپوشی کے دامن میں کوئی مے خانہ ہوتا اور ہم وہاں سے شراب حاصل کر لیتے کہ ایسی شب ماہتاب دوبارہ کہاں نصیب ہوتی ہے۔ شاید یہ قدیم چینی شاعر لی پو تھا، پورے چاند کی شب کسی جھیل میں ایک کشتی میں مخمور بیٹھے تھے۔ پانیوں میں چاند کا تھال، عکس نظر آیا تو اسے حاصل کرنے کی خاطر جھیل میں کود گئے۔ آج تک باہر نہیں آئے۔ شکر ہے آس پاس کوئی مے خانہ نہ تھا ورنہ ہم نے بھی کہیں نہ کہیں کود ہی جانا تھا۔
ہمارے خیمے جو کل شب چاندنی میں نہائے ہوئے تھے آج سویر سمیٹے گئے اور اب دھوپ میں سلگتے تھے۔ ہم راکاپوشی بیس کیمپ سے کوچ کرنے والے تھے۔ میری مشاورت سے طے پایا کہ ذرا ہمت کر کے دو دن کی بجائے ایک دن میں نیچے اتر جائیں۔ واپسی پر اترائی میں قدرے آسانی ہوتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ میری کوہ نوروی کا سب سے اذیت ناک دن ہو گا۔ ہم رخصت ہونے لگے تو بیس کیمپ کے آغاز میں جس چٹان میں جاپانی کوہ پیما کی راکھ دفن تھی وہاں میرے رکھے ہوئے پھول ابھی تک ترو تازہ تھے۔ میں نے دل ہی دل میں اسے ’’سایا نورا‘‘ یعنی خدا خدا کہا اور سفر کا آغاز کر دیا۔ ایسے دور افتادہ کوہستانی برفانی بلندیوں والے مقامات کو چھوڑتے ہوئے دل ہمیشہ رنج سے بھر جاتا ہے کہ وہاں دوبارہ کبھی آنے کا امکان کم ہوتا ہے اور اس عمر میں تو بالکل نہیں ہوتا کہ عمر کا گھوڑا سرپٹ بھاگ رہا ہے۔ آپ کے قابو میں نہیں اور کسی وقت بھی فنا کی گہرائی میں گر سکتا ہے۔ پہلی شب کی قیام گاہ ہیاکن تک تو سفر خیریت سے گزرا سوائے اس کے کہ میرے تنگ بوٹ پاؤں کو آزار دینے لگے تھے۔ اُن کو دکھی کرنے لگے تھے۔ ہپاکن میں کچھ دیر انتظار کر کے ہم روانہ ہونے لگے تو ایک مقامی شکاری صاحب آ گئے۔ مجھے پہچان لیا اور کہنے لگے تارڑ صاحب آپ اسی راستے سے واپس نہ جائیں جس پر سے آئے تھے۔ میں آپ کو ایک اور راستہ بتاتا ہوں جو جنگلوں اور آبشاروں میں سے گزرتا ہے چونکہ اُدھر ہمارے گھر ہیں اس لیے ہم نے اسے کوہ نوردوں کے لیے بند کر رکھا ہے۔ آئیے آپ کے لیے کھول دیتے ہیں چلے آئیے۔ اس نے ایک جگہ خشک جھاڑیوں کی ایک رکاوٹ تھی اُسے اٹھا کر پرے کر دیا اور خود غائب ہو گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ راستہ نہایت خوش منظر تھا لیکن مختصر تھا اور وہاں سے ہمیں پتھریلے اور تنگ پہاڑی نالے کی خشک گزرگاہ میں داخل ہو کر نیچے اترنا تھا۔ چند لمحوں کے بعد احساس ہوا کہ وہ شکاری دراصل مجھے شکار کر گیا ہے۔ شدید بدن کو جلاتی دھوپ ، بڑے بڑے پتھر جن پر چڑھتے اترتے پھسلتے گرتے ٹانگوں کو زخمی کرتے میں چلتا نہ تھا گرتا پڑتا بے حال ہوتا تھا حالانکہ کامران مجھے مسلسل سہارا دے کر سنبھالتا تھا اور جمیل نمکول والا پانی پلاتا تھا۔۔۔ لیکن سب سے ناقابل برداشت اذیت میرے تنگ بوٹ تھے، میرے پاؤں زخمی ہو چکے تھے، ناخنوں کے اندر سے محسوس ہوتا تھا کہ خون رسنے کو ہے۔ میں شاید اس دوران نیم بے ہوش سا بھی ہوا لیکن کامران نے مجھے سنبھال لیا۔ بمشکل اس ندی تک پہنچے جہاں ہم نے اوپر جاتے کھانا کھایا تھا۔ میں نے وہ ہولناک بوٹ اتارے اور نیلے جوگرز پہن لیے جو آرامدہ تو تھے لیکن میرے زخمی ہو چکے پاؤں کا علاج نہ کر سکتے تھے۔ پنڈلیوں پر آئی ہوئی خراشوں پر کریم لگائی اور ہمت کر کے پھر سے چلنے لگا۔ بالکل ویسے جیسے ایک ایسا شخص لڑ کھڑاتا اپاہج سا ہو کر چلتا ہے جس کے تلووں میں باریک شیشے کی کرچیاں کُھب گئی ہوں۔۔۔ بالآخر وہ چوڑا راستہ شروع ہو گیا جو بل کھاتا نیچے جا رہا تھا۔ یہاں سے مناپن بھی نظر آنے لگا جس پر شام اتر رہی تھی۔ آخری ایک کلو میٹر میں اپنے بدن کے ساتھ نہیں ذہن کے ساتھ چلا کہ گرنا نہیں، ایک قدم اور۔۔۔ ایک اور قدم۔۔۔ اپنے آپ کو سنبھالو۔۔۔ جمیل مجھے سہارا دینا چاہتا تھا لیکن میں جانتا تھا اس نے مجھے تھاما تو میں فوراً ڈھے جاؤں گا۔ جیسے ایک گرتی ہوئی دیوار کچھ دیر قائم رہ سکتی ہے لیکن اسے ذرا ہاتھ لگائیے تو وہ فوراً ڈھے جائے گی۔
مناپن گاؤں میں کہیں کہیں روشنیاں دمکنے لگی تھیں، رات ہونے کو تھی جب میں دیران ریسٹ ہاؤس کی پناہ گاہ میں داخل ہوا اور مسمار ہو گیا۔ میرا پورا بدن اکڑ چکا تھا اور سہارے کے بغیر نہ ایک سیڑھی اتر سکتا تھا نہ چڑھ سکتا تھا۔ بستر پر دھم سے گر تو جاتا تھا پر اٹھا نہ جاتا تھا۔ مجھے مجبوراً ایک واکنگ سٹک کا سہارا اس لیے لینا پڑا کہ کموڈ پر بیٹھ کر اٹھنا بھی تو ہوتا ہے۔
کیا میں اس شب کوہ نوردی سے تائب ہو گیا؟ میں سوچ رہا تھا کہ میری پرانی ٹیم کے کچھ ساتھی ایورسٹ کے بیس کیمپ تک اکتوبر کے آخر میں جا رہے تھے توہمت کر کے میں بھی ساتھ چلاؤں۔۔۔ کوہ نورد کبھی تائب نہیں ہوتے۔ کیونکہ ایک بار کوئی عشق میں مبتلا ہو جائے تو کہاں تائب ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *