ایشیا کپ کے اہم ترین میچ میں آج پاکستان اور بھارت مد مقابل

انتظار کی گھڑیاں تمام ہوئیں اور ایشیا کپ میں آج روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم میچ دبئی میں کھیلا جائے گا جہاں دونوں ہی ٹیموں فتوحات کے ساتھ اگلے راؤنڈ میں قدم رکھنے کی کوشش کریں گی۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھارت کی میزبانی میں جاری ایشیا کپ کا سب سے اہم میچ آج 2 روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جارہا ہے۔

پہلے میچ میں پاکستان نے ہانگ کانگ کو باآسانی 8وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ کا فاتحانہ انداز میں آغاز کیا لیکن بھارت کو نووارد ٹیم کے خلاف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ صرف 26رنز سے میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

دونوں ٹیمیں ایک سال سے زائد کے عرصے کے بعد ایک دوسرے کے مدِمقابل ہوں گی جہاں آخری مرتبہ دونوں ٹیموں کا سامنا چیمپیئنز ٹرافی2017 کے فائنل میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے بھارت کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 180رنز سے شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے اس میچ کو محض ایک کرکٹ کا مقابلہ قرار دیا، لیکن سرحد کی دونوں جانب کروڑوں شائقین کے لیے یہ میچ ہر لحاظ سے ایک کرکٹ میچ سے کہیں زیادہ ہے۔

25 ہزار گنجائش کے حامل دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں جبکہ آج گروپ اے کے اس میچ کو دیکھنے کے لیے دونوں ملکوں کے کروڑوں شائقین بھی ٹی وی سیٹ کے سامنے موجود رہتے ہوئے اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کریں گے۔

دونوں ٹیمیں 1984 سے 2000 کے درمیان متعدد مرتبہ یو اے ای میں ایک دوسرے کے سامنے آچکی ہیں لیکن یہ ان کا جزیرہ نما عرب میں 2006 کے بعد پہلا میچ ہوگا۔

قومی ٹیم کو چیمپیئنز ٹرافی جتوانے والے کپتان سرفراز احمد نے اس تاثر کو رد کردیا کہ پاکستان کو اس میچ میں کسی قسم کا نفسیاتی دباؤ حاصل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ چیمپیئنز ٹرافی کے میچ میں فتح ہمارے ذہنوں میں نہیں ہوگی، یہ ایک سال پرانی بات ہے اور اب ہمیں ایک نئے میچ کا سامنا ہے جبکہ دونوں جگہوں کے ماحول میں بھی کافی فرق ہے لہٰذا ہم میدان میں نئی توانائی اور جوش و جذبے کے ساتھ اتریں گے۔

بھارتی ٹیم اس میچ میں اپنے کپتان ویرات کوہلی کے بغیر میدان میں اترے گی جنہیں اس ایونٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل نہ کرتے ہوئے آرام کرایا گیا ہے تاہم سرفراز احمد کا ماننا ہے کہ کوہلی کی غیرموجودگی سے بھی بھارتی ٹیم پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ویرات کوہلی ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں لیکن میرے خیال میں ان کی غیر موجودگی میں بھی بھارتی ٹیم اچھی ہے۔ بھارت کے پاس اور بھی کئی کھلاڑی ہیں جو اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں لہٰذا میرا نہیں خیال کہ کوہلی کی غیرموجودگی سے زیادہ فرق پڑے گا کیونکہ ان کی بیٹنگ کافی مضبوط ہے۔

سرفراز احمد نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر میدان میں اتریں اور اپنی بہترین کارکردگی دکھائیں، اگر وہ ایسا کریں گے تو ہی ہر میچ میں اچھی کارکردگی دکھا سکیں گے کیونکہ ایونٹ میں مزید 5 ٹیمیں اور ہیں۔

بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہمیشہ ہی بہت سنسنی خیز ہوتا ہے، دونوں ٹیمیں ایک عرصے سے اچھی کرکٹ کھیل رہی ہیں اور ہماری نظریں پاکستان کے خلاف میچ پر مرکوز ہیں لیکن ایونٹ میں شریک دیگر ٹیمیں بھی بہت اچھی ہیں جن کی نظریں ٹائٹل کے حصول پر ہیں۔

پاکستان کے لیے میچ کے اعتبار سے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ سعودہ عرب اور امارات کے دورے پر موجود وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بھی میچ میں شرکت کا امکان ہے اور وہ میچ دیکھنے کے لیے دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم جا سکتے ہیں۔

بھارت نے 1984 میں منعقدہ پہلے ایشیا کپ میں چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور یہ اب تک سب سے زیادہ 6 مرتبہ چیمپیئن بن چکی ہے۔

افغانستان کے خلاف شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہونے والی سری لنکن ٹیم نے 5 مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی جبکہ پاکستان نے 2000 اور 2012 میں چیمپیئن کا تاج سر پر سجایا تھا۔

اس میچ کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو لیکن چند روز بعد ہی پاکستان اور بھارت 23ستمبر کو ایک مرتبہ پھر سپر فور کے میچ میں آمنے سامنے ہوں گے۔

دونوں ٹیموں کا جائزہ لیا جائے تو بھارت کو اسپن کے شعبے میں پاکستان پر برتری حاصل ہے جبکہ فاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں بھارت پیچھے نظر آتا ہے۔

بیٹنگ میں پاکستان کا انحصار ایک مرتبہ پھر فخر زمان، بابر اعظم اور سرفراز احمد کے ساتھ ساتھ تجربہ کار شعیب ملک پر ہو گا جن کا ساتھ دینے کے لیے آصف علی، فہیم اشرف اور شاداب بھی موجود ہوں گے۔

باؤلنگ میں قومی ٹیم کو ایک اسپنر کی کمی محسوس ہو رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے شاداب خان کے ساتھ محمد نواز کی صلاحیتوں کو بھی آزمایا جائے جبکہ باؤلنگ میں محمد عامر، عثمان شنواری اور حسن علی حریف ٹیم کے بلے بازوں کو آزمائیں گے۔

ایک عرصے سے عمدہ کھیل پیش کرنے والے عالمی نمبر 2 بھارتی ٹیم کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ لائن کپتان ویرات کوہلی کی غیر موجودگی میں بھی مضبوط نظر آتی ہے جس کی ذمے داری کپتان روہت شرما، شیکھر دھاون اور لوکیش راہل کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

باؤلنگ میں ہردک پانڈیا، جسپریت بمراہ اور بھوونیشور کمار کا ساتھ دینے کے لیے یزویندر چاہل اور کلدیپ یادو جیسے خطرناک اسپنر بھی موجود ہوں گے۔

تاہم بھارت کا واحد منفی پہلو ان کی مڈل آرڈر بیٹنگ لائن ہے جو ایک عرصے سے جدوجہد کرتی نظر آرہی ہے اور ہانک کانگ کے خلاف میچ میں بھی اس کی جھلک نظر آئی تھی لہٰذا ٹاپ آرڈر کی ناکامی کی صورت میں مڈل آرڈر بیٹنگ کے لیے پاکستانی باؤلنگ کا سامنا بڑا امتحان ہو گا۔

بحیثیت مجموعی دونوں ہی ٹیمیں کاغذ پر انتہائی مضبوط اور ایک دوسرے کے برابر نظر آتی ہیں لہٰذا ایک بہترین مقابلے کی پوری امید رکھی جا سکتی ہے۔

ہار اور جیت سے قطع نظر متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز اور سخت گرم موسم تمام ہی ٹیموں کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے تاہم گزشتہ 10 سال سے امارات کو ہوم گراؤنڈ بنا کر کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کو اس نسبت دیگر ٹیموں پر برتری حاصل ہے۔

میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 4 بجے شروع ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *