موجودہ کشیدگی اور ’’جنگ ِ ستمبر کی یادیں‘‘

''جنگِ ستمبر کی یادیں‘‘ کی تقریبِ رونمائی میں کتاب اور صاحبِ کتاب جناب الطاف حسن قریشی کے حوالے سے گفتگو کے علاوہ بھارت کی پیدا کردہ موجودہ کشیدگی پر بھی اظہار خیال ہوا۔ اتوار کو لوگ چھٹی کے موڈ میں ہوتے ہیں اور اس بار تو عاشورہ کی وجہ سے چار مسلسل چھٹیاں تھیں۔ موسم بھی ابر آلود تھا، گھٹائیں کہیں کھل کر برسیں، کہیں رم جھم کی کیفیت رہی... تقریب کا وقت چار بجے تھا، اور ایشیا کپ ٹورنا منٹ میں پاک،بھارت ٹاکرے کا وقت بھی یہی تھا۔ اس کے باوجود مسلم ٹائون میں نہر کنارے مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ کے زیر اہتمام یہ تقریب بھرپور رہی۔ ٹرسٹ کے آڈیٹوریم میں کوئی نشست خالی نہ تھی... سابق وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری صدر محفل تھے اور اپنے عسکری پسِ منظر کے باعث لیفٹیننٹ جنرل(ر) خالد مقبول اور میجر (ر) نادر پرویز مہمانانِ خصوصی ... ہال اس وقت تالیوں سے گونج اٹھا جب ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے ریٹائرڈ میجر کے لیے اپنی نشست خالی کردی اوراصرار کیا کہ وہ صدر محفل کے ساتھ بیٹھیں... جناب خالد مقبول کی طرف سے یہ نادر پرویز کے لیے احترام کا اظہار تھا جو آرمی سروس میں ان سے سینئر تھے۔ خالد مقبول مئی 1966ء میں کمشنڈآفیسر ہوئے جبکہ نادر پرویز اس سے قبل ایک ینگ آفیسر کے طور پر 1965ء میں دادِ شجاعت دے چکے تھے۔ 1971ء میں وہ مشرقی پاکستان میں تھے۔ وہاں باریسال میں ان کا کارنامہ عسکری تاریخ کا یاد گار حوالہ بن گیا جہاں یرغمال بنائے گئے چار سو خاندانوں کے قتل کا مکتی باہمی فیصلہ کرچکی تھی کہ نادر پرویز کی کمان میں فوجی دستے کی بروقت کا رروائی ان کے ریسکیو کا باعث بن گئی۔ ڈھاکا کے ریس کورس میدان میں سرنڈر کی دستاویز کے بعد بھی نادر پرویز اپنے مورچے میں موجود رہے۔ نادر پرویز مشرقی پاکستان کے محاذ پر ان نوجوان افسروں میں سے تھے جنہوں نے سب سے آخر میں ہتھیار ڈالے اور جنگی قیدی بنے۔ دشمن کی سرزمین پر قید کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ انہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر فرار کا فیصلہ کیا اور پاک سرزمین پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو سقوطِ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں میں شمار کرتے تھے؛ چنانچہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے ساتھ ایئر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کرلی۔ بھٹو دور میں اپوزیشن کی سیاست (اور خصوصاً ایئر مارشل کی رفاقت) ''ان ہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد‘‘ والا معاملہ تھا۔ تب خورشید محمود قصوری بھی اپنے والد محترم میاں محمود علی قصوری کے ساتھ اس قافلہ ٔ سخت جان کی اگلی صفوں میں تھے۔ وہ بتا رہے تھے: نادر پرویز کی شمولیت پر ایئر مارشل بہت خوش تھے، انہوں نے اسے ایک ہیرو کی آمد قرار دیا تھا۔ نوازشریف والی مسلم لیگ نادر پرویز کی دوسری سیاسی محبت تھی، 1985ء سے 1997ء تک وہ پانچ بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وزیر اعظم جونیجو کی کابینہ کے علاوہ وہ میاں صاحب کی1990ء اور 1997ء والی حکومتوں میں بھی وفاقی وزیر رہے۔ ان کا شمار اپنے لیڈر کے بااعتماد ترین ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ 12اکتوبر1999ء کی سہ پہر بھی وہ پرائم منسٹر ہائوس میں تھے۔ وہ اپنے بھائی لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز کے معاملے پر پرائم منسٹر سے بات کرنے آئے تھے‘ جنہیں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کورکمانڈر کوئٹہ کے منصب سے سبکدوش کرکے جبری ریٹائرڈ کردیا تھا۔ ان پر جی ایچ کیو کی اجازت کے بغیر پرائم منسٹرسے ملاقات کا الزام تھا۔ نادر پرویز کیڈٹ کالج حسن ابدال میں پرویز مشرف کے کلاس فیلو رہے تھے۔ ملٹری اکیڈمی کا کول میں وہ ان سے ایک کورس سینئر تھے۔ 12اکتوبر کی فوجی کارروائی کے بعد بھی، انہوں نے اپنے لیڈر اور پارٹی سے وفاداری پر حرف نہ آنے دیا۔ غلطی یہ ہوئی کہ پرانی دوستی کے ناتے پرویز مشرف کو بھی اپنے صاحبزادے کی شادی کا دعوت نامہ بھجوا دیا۔ یہ میاں صاحب کی جلا وطنی کا دور (2004ئ) تھا۔ اس کے بعد بھی اگرچہ نادر پرویز کی سیاسی وفا داری اسی طرح رہی اور وہ ڈکٹیٹر کی کوئی بھی سیاسی عنایت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے لیکن میاں صاحب کے دل میں الجھن پیدا ہوچکی تھی، باقی کام لگائی بجھائی کرنے والوں نے کردیا۔ 2008ء میں فیصل آباد کے حلقہ این اے 85سے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاجی اکرم انصاری کو مل گیا۔ بعد کے پانچ سال بھی اسی طرح گزر گئے اور2013ء میں ان الفاظ کے ساتھ کہ میاں صاحب سے احترام کا رشتہ برقرار رہے گا، نادر پرویز نے مسلم لیگ سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ 
تقریب رونمائی میں نادر پرویز کی گفتگو 1965ء اور1971ء کی جنگ تک محدود رہی‘ جیسے وہ اپنا طویل سیاسی ماضی بھول جانا چاہتے ہوں۔
اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی تیرے نام سے پہلے پہلے
جنرل خالد مقبول کا کہنا تھا: سی پیک کی جلد از جلد تکمیل پاکستان کے مفاد کا اوّلین تقاضا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ نے پاک فوج کو دنیا کی بہترین فوج بنا دیا ہے۔ انہوں نے گورننس کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ، پاکستان میں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل پر زور دیا جس میں ریاستی وسائل پر سب کا یکساں حق ہو۔ جناب خورشید محمود قصوری نے خطبۂ صدارت میں پاکستا ن اور انڈیا میں ''آل آئوٹ وار‘‘ کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کوئی چھوٹی موٹی چھیڑ خانی کی تو پاکستان کی طرف سے اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ آج ہماری دفاعی صلاحیت 1965ء اور1971ء کی نسبت کہیں جدید تر ہے۔ 
پاک، بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کے حوالے سے مودی سرکار ''یو ٹرن‘‘ کو انہوںنے بھارت میں پاکستان مخالف رائے عامہ کے دبائو کا نتیجہ قرار دیااور کہا کہ بھارت کی پانچ بڑی ریاستوں کے انتخابات میں وزیر اعظم مودی، وہاں کی رائے عامہ سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، یہ ریاستی انتخابات، آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ پاکستان (اور خود بھارتی مسلمانوں) کے خلاف یہ زہر خود مودی جیسے لوگوں کا پیدا کردہ ہے‘ جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے نفرت اور انتہا پسندی کی آبیاری کی۔ جناب عطاء الرحمن نے 1965ء کی جنگ کے حوالے سے آپریشن جبرالٹرکا بھی ذکر کیا اور پاکستانی معیشت پر اس جنگ کے مضر اثرات کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا: اس جنگ نے ہندوستان پر ہمارا رعب ختم کردیا ، ورنہ ہندوستان کو 1971ء میں پاکستان کے خلاف جارحیت کی ہمت نہ ہوتی۔
شامی صاحب کہہ رہے تھے : الطاف صاحب پاکستان میں اسلام اور جمہوریت پر مبنی نظریاتی صحافت میں ہمارے قافلہ سالار ہیں۔ 1965ء کی جنگ کے اسباب اور اس کے اثرات و عواقب الگ موضوع ہیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ یہ جنگ لڑی کیسے گئی؟ اور یہی بات ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ جناب سجاد میر نے کہا: ہم سب الطاف صاحب کے پروردہ ہیں، الطاف صاحب نہ ہوتے تو ہم بھی نہ ہوتے۔ سیدارشاد احمد عارف کا کہناتھا: ہمیں ہروقت اپنی ناکامیوں کا رونا روتے رہنے کی بجائے کامیابیوں سے جذبہ حاصل کرنا چاہیے۔ سلمان غنی نے کہا کہ1965ء کی بات کرتے ہوئے ہمیں1971ء کے المیے کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے الطاف صاحب کو نئے پیرایہ اظہار کا بانی قرار دیا۔ سلمان عابد نے نئی نسل کی ذہنی آبیاری میں اردو ڈائجسٹ کے نظریاتی کردار پر روشنی ڈالی۔ ٹرسٹ کے چیئر مین خالد محمود کے اظہار تشکر کے ساتھ، مدتوں یاد رہنے والی یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔ آبر آلود موسم میںپُر تکلف چائے کا اپنا لطف تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *