محمد سعید شیخ۔ہم تمہیں بھولے نہیں!

ممتاز افسانہ نگار محمد سعید شیخ تین روز پیشتر انتقال کر گئے۔ میں نے ان کی زندگی میں ان کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں یہ کالم پڑھا تھا۔ آج اس کی اشاعت اس اعلیٰ درجے کے انسان اور افسانہ نگار کو میری طرف سے خراج تحسین کے لئے ہے۔

’’محمد سعید شیخ سے میرا زیادہ تعارف نہیں تھا۔ ان سے صرف دو تین دفعہ اس تقریب سے قبل میری ملاقات ہوئی تھی۔ ایک دفعہ اوکاڑہ میں جہاں وہ اسسٹنٹ کمشنر تھے لوگ وہاں ان کے افسانوں کی تعریف کر رہے تھے میں نے سعید شیخ کے افسانے نہیں پڑھے تھے۔ تاہم جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے بھی رسم زمانہ کے مطابق ان کے افسانوں کی تعریف کی بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ اپنا مجموعہ شائع کیوں نہیں کراتے؟ اس پر انہوں نے انکساری سے کہا ان دنوں ترتیب دے رہا ہوں شاید جلدی شائع ہو جائے۔ پھر ایک دن ایک دوست سے میں نے پوچھا کہ کیا سعید شیخ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو پیٹ بھر کر روٹی کھانے اور اختیارات کا لطف اٹھانے کے ساتھ ساتھ خود کو ادیب مشہور کر کے عزت اور مقبولیت کے ’’بُلے‘‘ بھی لوٹنا چاہتے ہیں؟ شاعری،افسانے اور ڈرامے کے بارے میں ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں چنانچہ میں نے اس کی رائے پر اعتبار کرنے کے بجائے تازہ ادبی جرائد میں سے سعید شیخ کا کوئی افسانہ تلاش کرنا شروع کر دیا مگر اتفاق سے اس سہ ماہی میں ان کا کوئی افسانہ شائع نہیں ہوا تھا۔ کچھ عرصے بعد چیچہ وطنی سے ادریس قمر اور اسلم شیخ میرے پاس آئے ان کے ہاتھ میں ’’تلافی‘‘ کے نام سے ایک افسانوی مجموعہ تھا جو محمد سعید شیخ کی کہانیوں کی اولین کتاب تھی انہوں نے بتایا کہ چیچہ وطنی میں اس کتاب کی تعارفی تقریب منعقد ہو رہی ہے اور آپ نے اس میں مضمون پڑھنا ہے۔ میں نے پوچھا:کیا یہ بہت ضروری ہے۔ کہنے لگے :ہاں بہت ضروری ہے کہ شیخ صاحب اچھے آدمی ہی نہیں اچھے افسانہ نگار بھی ہیں میں نے کہا ٹھیک ہے کتاب دے جائیں اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے جہاں زندگی میں اتنے جھوٹ بولے ہیں۔ وہاں ایک جھوٹ اور سہی، چیچہ وطنی والی تقریب تو ملتوی ہو گئی لیکن اس دوران میں نے تلافی کے چند افسانے پڑھ ڈالے یہ اس کتاب کے پہلے تین افسانے تھے۔ چاند اور ایئر کنڈیشنر، پرائسچت اور انٹروورٹ ! میں یہ افسانے پڑھ کر سخت حیران ہوا میں نے اس سے پہلے اتنے تاثر کے حامل افسانے بہت کم پڑھے تھے چنانچہ جب مجھے سعید شیخ کے دوسرے افسانوی مجموعے ’’تسخیر‘‘ کے بارے میں اظہار خیال کرنے کے لئے جعفر شیرازی نے ساہیوال میں مدعو کیا تو میں نے حضرت علیؓ کے مقولے کہ ’’یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے‘‘ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جعفر شیرازی کی دعوت قبول کر لی۔

اور خواتین و حضرات یہ سطور لکھتے ہوئے دراصل میں اپنی اس مسرت کا اظہار کر رہا ہوں کیونکہ اردو افسانے کے بارے میں دشمنوں نے جو افواہیں اڑا رکھی تھیں کہ یہ روبہ زوال ہے بلکہ اسے زوال آ چکا ہے یہ افواہیں ہمیشہ کی طرح آج بھی غلط ثابت ہوئی ہیں۔ دراصل یہ افواہیں روبہ زوال افسانہ نگاروں کے حواری پھیلاتے ہیں، ان حواریوں کے نزدیک افسانہ صرف وہی ہوتا ہے جو ان کا ’’ڈبہ پیر‘‘ لکھتا ہے۔ دراصل سعید شیخ کے افسانے پڑھ کر مجھے غصہ آ گیا ہے میں نے تسخیر کے 272صفحات میں سے پونے دو سو صفحے پڑھے ہیں اور باقی اس لئے نہیں پڑھے کہ یہ کتاب اگر ختم ہو گئی تو اس کے بعد کیا پڑھوں گا کیونکہ 1988اور 1989ء کی آج کی تاریخ تک طارق محمود کے افسانوں کے علاوہ کوئی قابل ذکر افسانوی مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ طارق محمود کی کتاب بھی میں نے اسی خوف سے ابھی تک ختم نہیں کی جس خوف کی بنا پر میں نے سعید شیخ کی کتاب ادھوری چھوڑ دی ہے تسخیر میں تلاش، شناختی کارڈ اور خوشبو، واپسی، ہینگ اوور، ریگزار، احساس کا بوجھ، تسخیر اور وراثت اور ’’جسم سے جاں تک‘‘ والے افسانے ہی پڑھ سکا ہوں سات شعروں والی غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں سے اگر دو شعر بھی اچھے نکل آئیں تو غزل کامیاب سمجھی جاتی ہے تو پھر محمد سعید شیخ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ میں نے ان کے جتنے بھی افسانے پڑھے ہیں ،میری رائے میں ان میں سے ایک افسانہ بھی کمزور نہیں ہے؟ میں نہیں جانتا شیخ صاحب عملی زندگی میں کیسے انسان ہیں لیکن ان کے افسانے ایک انتہائی درد مند شخص کے افسانے ہیں وہ انسان کے خارج اور باطن کی کہانی سناتے ہیں۔ زندگی کے بے حد خوبصورت اور بے حد کمزور ،مکروہ گوشوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں پتا ہے افسانہ کہاں سے شروع کرنا ہے، اس کے درمیان میں کیا ہونا ہے اور اس کا اختتام کیسے کرنا ہے وہ اپنے کرداروں کی پوری نفسیات، ان کی زبان، ان کے لباس، ان کے رہن سہن،ان کی نیکیوں اور ان کی کمینگیوں سے پوری طرح واقف ہیں انہیں یہ بھی علم ہے کہ نثر کے اونٹ کو تخلیقی نثر کے خیمے میں کیسے داخل کیا جاتا ہے۔ وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اردو افسانے کو محمد سعید شیخ کی صورت میں ایک سچا افسانہ نگار بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے۔ بیٹھے بٹھائے اس لئے کہ ہمارے بہت سے نقاد تو اچھے افسانہ نگاروں کو منظر عام پر لانے کے بجائے ان کی رپٹ درج کرا دیتے ہیں۔ سعید شیخ نہ صرف یہ کہ چپکے سے کہیں سے نکل آیا ہے بلکہ میں اسے تخریب کار افسانہ نگار کہوں گا کہ اس نے جعلی افسانہ نگاروں کے ہیڈکوارٹر میں تخلیقی بم رکھ دیا ہے اور اب میں اس بم کے پھٹنے کا منتظر ہوں۔ محمد سعید شیخ نے اپنے افسانوں کی صورت میں پاکستانی قوم کا جو اعمال نامہ لکھا ہے اگر انہوں نے مرنے کے بعد فرشتوں کو وہی دکھا دیا تو انہوں نے کہنا ہے شیخ صاحب جنت میں جس دروازے سے داخل ہونا ہے داخل ہو جائیں اور کوئی پتا نہیں شیخ صاحب دوزخ کی طرف لپکیں کہ وہاں انہیں اپنے افسانوں کے لئے بہتر کردار مل سکیں گے۔ (ساہیوال میں پڑھا گیا)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *