ہم عالمی غربت کے خلاف جد وجہد کررہے تھے۔ اب کیا تبدیلی واقع ہونے والی ہے؟

"بل گیٹس /ملنڈا گیٹس"

آپ کے خیال میں پچھلے 25 سال میں دنیا میں غریب لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے یا کمی؟

یہ گفتگو کے آغاز کے لحاظ سے بہت اچھا سوال ہے۔ کیونکہ کہ عام طور پر ہر شخص اس کا غلط جواب دیتا ہے۔ میڈیا کے گمراہ کن اورپریشان کن پروپیگنڈا کی وجہ سے عوام کو لگتا ہے کہ دنیا میں غربت بڑھ رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ فرق نہیں پڑ رھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نئی صدی کےآغاز کے بعد اب تک 5 ارب لوگ غربت پر قابو پا چکے ہیں۔ 1اعشاریہ 9 ڈالر یومیہ گزارہ کرنے والوں کی تعداد میں یہ شاندار کمی  ایک ایسی حقیقت ہے جسے بہت کم لوگ تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن گارنٹی نہیں ہے کہ یہ ایسے ہی چلے گا۔  اب غربت کے مقابلے میں ترقی کی رفتار رک گئی ہے۔ موجودہ پیشین گوئیوں اور اندازون کے مطابق  بہت غریب لوگوں کی تعداد 500 ملین پر ہی رکی رہے گی۔ اگر بہت بُرے حالات آ گئے تو یہ پھر سے بڑھنے لگے گی۔

ایسی صورتحال اس وقت دنیا کو کیوں درپیش ہے؟  اس کی وجہ دو ڈیموگرافک ٹرینڈز   کی تقسیم ہے۔

پہلی یہ کہ بھارت اور چین جیسے بڑے ملکوں میں غربت میں نمایاں کمی آئی ہے  اور افریقہ میں بہت سے ممالک میں  غربت اتنی بڑھ گئی ہے کہ یہ دنیا کے سب سے زیاد چینلجنگ علاقے بن چکے ہیں۔ سب سہارن افریقہ کے تقریبا ایک درجن ممالک میں  غربت نے اپنے پنجے گاڑ ھ لیے ہیں ۔ وہاں شدت پسندی کے واقعات، موسم کی تبدیلی، کمزور حکومتیں  اور کمزور نظام صحت اور تعلیم کی وجہ سے یہ صورتحال درپیش ہے۔ اس کے علاوہ غربت ایسے علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہے جہاں عوام کو غربت پر قابو پانے کی سہولیات مہیا نہ ہوں یا بہت محدود ہوں۔

دوسری چیز یہ ہے کہ یہ درجن ممالک دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ میں ہر خاتون اوسطا 2 بچے پیدا کرتی ہے۔ نائجیریا میں جو کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے، میں ایک عورت اوسطا 7 بچوں کو جنم دیتی ہے۔  ان بچوں کی پیدائش کے اعداد وشمار کو علاقائی لحاظ سے نہیں دیکھا جاتا۔ ایسے علاقوں میں زیادہ بچے پیدا ہوتے ہین جہاں غربت نے قدم جمائے ہوئے ہوں۔ ان ٹرینڈز کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ  زیادہ تر ایسے علاقوں میں بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہوتا ہے جہاں  جوان افراد کے پاس  اپنی بقا کے لیے  ہی وسائل مہیا ہوتے ہیں  اور ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے خاندان، معاشرے یا ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی جگہوں  پر بڑھتی ہوئی ہمیشہ کی غربت کا  یہ دوہرا طریق یہ ظاہر کرتا ہے کہ کیوں 2050  دنیا کے سب سے غریب لوگوں میں سے 40 فیصد سے زیادہ کا تعلق  دو ممالک یعنی ڈیموکریٹک ریپبلک آر کانگو اور نائجیریا سے ہو گا۔

ان تخمینوں کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ  یہ سٹیٹس کو پر مبنی ہیں۔ ہم سٹیٹس کو پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر عوام کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں  تو وہ قسمت بدل سکتے ہیں۔  خاص طور پرنوجوان تو واقعی ایسا کر سکتے ہیں  کیونکہ ان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ  وہ اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں  اور وہ نئےنئے خیالات  اور ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر  بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔  ایسی کیا چیز ہے جو ان نوجوانوں کو اپنے ممالک کا مستقبل بدلنے میں مددگار ثابت ہو گی؟ ہم اس بات سے سیکھ سکتے ہیں کہ ماضی میں ہم نے کیسے کامیابی حاصل کی۔ ہم نے لوگوں پر انویسٹ کیا،  اور خاص طور پر انہیں تعلیم اور صحت کی سہولت دینے میں کردار ادا کیا۔ انہیں جدت کی طرف بھی راغب کیا۔

عام طور پر لیڈر  سڑکوں، بندرگاہوں، پلوں  پر رقم خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان سے فوائد جلدی حاصل ہو تے ہیں۔ جب وہ سکولوں اور صحت کے شعبہ کو مضبوط کرتے ہیں  تو معاشی پہلو سے نتائج بہت دیر سے آتے ہیں اور دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر انویسٹمنٹ کے اثرات میں اس سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس طرح کی انویسٹمنٹ کا فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ 1990 میں ایک عام چینی نوجوان صرف آٹھویں گریڈ تک تعلیم حاصل کرتا تھا۔  اب حکومت کی سکول کے نظام میں انویسٹمنٹ کی بدولت ایک عام چینی شہری کالج تک تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ 90ء میں ہر تین میں سے ایک چینی بچہ ناقص خوراک کھانے پر مجبور تھا۔ اب ذرعی ترقی کی وجہ سے اور بہتر نظام صحت کی بدولت  10 میں سے ایک بچہ اس مسئلہ کا شکار ہے۔

بھارت میں  جدت کی وجہ سے شاندار بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ 1960 کے بیسٹ سیلر 'دی پاپولیشن بم' میں پیشین گوئی کی گئی کہ قحط اور کھانے پر لڑائی  ملک بھر میں پھیل جائے گی۔ لیکن جو چیز ملک بھر میں پھیلی وہ نئی ذریع تکنیک، ٹیکنالوجی، تھی اور اب بھارتی کسان 50 سالہ پہلے کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ گندم اگاتے ہیں۔

اب جو چیلنج ہے وہ  دنیا بھر کے بڑھتے ہوئے غریب ممالک میں  اسی طرح کی انویسٹ منٹ کا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے  اور ان کے مستقبل بھی ان کے ماضی قریب کی طرح ہی ہیں تو  دنیا مزید غریب ہوتی جائے گی۔ لیکن اگر وہ کر لیتے ہیں تو ہم اس دنیا سے غربت کا خاتمہ ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ جن منصوبوں کی ہم بات کر رہے ہیں وہ مستقبل بعید تک ہی ممکن ہو پائیں گے  لیکن اسکے لیے ہمیں ابھی سے پلاننگ شروع کرنی ہو گی۔ خاص طور پر سب سہارن افریقہ  کے علاقوں میں فوری طور پر تعلیم اور صحت کے شعبہ میں انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے  کیونکہ ان علاقوں میں زیادہ آبادی نوجوان طبقہ کی ہے۔  ایسے بچے پیدا ہو رہے ہیں یا ہونے والے ہیں جو  اس بر اعظم کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ انہیں نوجوانوں اور بچوں کو ہی اپنے معاشرے کو جدت کی رہ پر ڈالنا ہو گا۔ انہیں اپنے معاشرے  میں موجود فارمز کو چھوٹے بزنسز میں بدلنا ہو گا، ہر نوجوان کے لیے بینک اکاونٹ  ان کے موبائل پر مہیا کرنا ہو  گا کہ اس ان لوگوں کو ملیریا اور دوسری نظر انداز کی گئی بیماریوں سے نجات دلائی جا سکے۔

ہماری تنظیم کا مشن یہ ہے کہ ہر شخص کو اس قابل بنا یا جائے کہ وہ ایک صحتمند وار با مقصد زندگی جی سکے۔ کچھ پہلوں سے یہ مقصد حاصل کرنا ماضی کے مقابلے میں مستقبل میں زیادہ مشکل ثابت ہو سکتاہے۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ماضی قریب کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممکن ہے  اگرچہ ماہرین کے مطابق یہ ایک ناممکن چیز گردانی جاتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہم کیسے ایک دوسرے کے تعاون سے اس مقصد میں کامیابی کے  سازگار حالات پیدا کر سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *