چائے، سگریٹ بند تو سانس بھی بند!

ہفتے کی شام جواد نظیر، مرگیا۔ اسے مرنا ہی تھا ناراض، ناراض رہتا تھا ، کڑھتا تھا، سسک سسک کر جیتا تھا، سگریٹ کے کش پہ کش لگاتا تھا، چائے کے مگ پر مگ پیتا تھا، کھانا صرف اتنا ہی کھاتا تھا کہ زندہ رہ سکے۔ چند روز پہلے نوکری جانے کے آثار پیدا ہوئے تو ملازم کو بلا کر کہا تنخواہ بند تو چائے اور سگریٹ بھی بند۔ تقدیر شاید اسی تاک میں تھی کہ یہ چائے سگریٹ بند کرے تو اس کی سانس ہی بند کردی جائے۔

میں پہلے پہل اسے ملا تو وہ ان دنوں انقلابی ہوتا تھا، پھر دنیا بدلنا چاہتا تھا، اخبار اور ٹی وی میں کیرئیر کی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے عملیت پسند ہونے لگا، انقلابی جب عملیت پسند بنے تو اسے اپنے نظریے اور مفادات دونوں ہی پر مصالحت کرنا پڑتی ہے، بائیں بازو سے لڑھکتا ہوا لکیر کے درمیان میں آیا تو نظریاتی دلدل میں پھنس کر رہ گیا۔ روزمرہ کے مسائل میں گھر کر وہ نظریات سے کہیں آگے نکل چکا تھا۔

بنیادی طور پر وہ تخلیق کار تھا، باریک بین تھا، اردو کے کلاسیکی ادب کا رسیا تھا ، مرزا رجب علی بیگ سرور کی نثر سے لے کر غالب کے فارسی کلام تک، سب اسے ازبر تھا۔ میری نہ تو اس سے گہری دوستی تھی نہ ہی بےتکلفی مگر معلوم نہیں کیوں وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے میرا انتخاب کرتا تھا، میرے جیسے جلدی سوجانے والے فقیر کو رات گئے ایمرجنسی نمبر پر کال آتی، میں سوتے جاگتے فون سنتا تو جواد نظیر ملک، حکمرانوں، حکومت، ادارے، اخبار، میڈیا اور مجھ سمیت ہر ایک سے اپنی ناراضی کا دفتر کھول دیتا۔ میں ہوں ہاں کرتا رہ جاتا، وہ سوال پوچھتا، میں ٹالتا رہتا، وہ سمجھتا تھا کہ مجھے سب علم ہے اور میں جان بوجھ کر جواب نہیں دیتا حالانکہ اکثر باتوں کا مجھے سرے سے علم نہیں ہوتا تھا اور اگر کسی معاملے کا علم بھی ہوتا تو اس لئے خاموش رہتا کہ حقیقت اسے بتا دی تو اس کا دل دکھے گا اور پریشان ہوگا۔ کئی ماہ سے رات گئے آنے والی کالز بند ہوگئیں، مجھے لگتا ہے کہ اس کا لڑنے جھگڑنے کا جذبہ دم توڑ گیا تھا۔ جواد نظیر مرنے سے بہت پہلے ہی مرچکا تھا، وہ جو ہم سے باتیں کرتا تھا گلے شکوے کرتا تھا، ناراض ناراض رہتا تھا وہ تو اس کا بے روح بدن تھا۔وہ کھاتا تھا، پیتا تھا، باتیں کرتا تھا، مگر اندر سے شاید اس دن ہی مرگیا تھا جب اس کی تخلیق رک گئی تھی، جب سے تنخواہ اور زندگی کی ضرورتوں نے اسے زندگی کے بڑے فیصلے کرنے سے روک دیا تھا، جب معاشی مجبوریوں نے اس کی باغیانہ طبیعت کو مصلحت کوشی پر آمادہ کرلیا تو وہ تبھی سے مرگیا تھا۔ آخری کال بھی رات گئے آئی ایک نئے کالم نگار نے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں سخت کالم لکھ ڈالا وہی جواد نظیر جو کبھی خود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شعلہ جوالہ ہوا کرتا تھا، فون پر مجھے کہنے لگا کہ اس کالم نگار کی یہ جرأت کیوں ہوئی، میں نے آئیں بائیں شائیں سے کام لیا تو ناراض جواد نظیر نے مجھے بار بار پوچھا یہ نیا کالم نگار ہے کون؟ اس کا کالم بند کرو۔ یہ اخبار اور اسٹیبلشمنٹ کو لڑوانا چاہتا ہے میں نے کالم نگار کے دفاع میں غلطی سے ایک فقرہ کیا بولا جواد نظیر کا غصہ دو چند ہوگیا مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے تو میں نے اپنی بات بدلی اور کہا اس کالم نگار کو سمجھائوں گا وغیرہ وغیرہ۔ آخری کال بھی رات دیر گئے آئی تھی شاید یہ وہ وقت تھا جب اس کی مجبوریاں، مصلحتیں اور جذبات عروج پر ہوتے تھے، دلچسپ بات یہ تھی کہ رات کو ہونے والے یہ مکالمے دن میں وہ دہراتا نہیں تھا شاید اسے یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس نے رات کیا کہہ ڈالا تھا۔

جواد نظیرگائوں سے بڑا آدمی بننے شہر آیا تھا، ہر مڈل کلاسیئے کی طرح اس نے اپنا قد بڑھانے اور زندگی میں کچھ کر گزرنے کی جدوجہد کی، جب لاہور آیا تو جنرل ضیاء کا دور تھا، نظریاتی کشمکش کا زمانہ تھا، ضیاء الحق کے حامیوں نے لاہور پریس کلب پر قبضہ کیا تو برناگروپ نے الگ سے پریس کلب بنایا، جواد نظیر اس پریس کلب کا صدر یا سیکرٹری منتخب ہوگیا اور اسے اس قدر متحرک کیا کہ یہی اصلی پریس کلب بن گیا، جنرل (ر) چشتی نے ضیاء الحق کے خلاف جو ارشادات پہلی دفعہ کئے تھے وہ اسی دور میں پریس کلب میں ہوئے تھے۔ صحافتی حوالے سے وہ خبروں کی کاٹ چھانٹ اور سرخیاں لگانے کے شعبے سے متعلق تھا، اگر عباس اطہر شہ سرخیوں میں شعر کہتے تھے تو جواد نظیر شہ سرخیوں کے ذریعے سیاست کرتا تھا۔ عباس اطہر کا فن یہ تھا کہ وہ لمبی تقریر کے مدعا کو سات آٹھ لفظوں کی شہ سرخی میں بیان کردیتے تھے، جواد نظیر کا آرٹ یہ تھا کہ وہ بےجان لفظوں میں سیاسی نظریات ڈال کر انہیں بامعنی بنادیتا تھا۔ اس کا بنایا ہوا اخبار اینٹی گورنمنٹ، اینٹی اسٹیٹس کو ہوتا تھا۔ اس کی سرخیاں پڑھ کر حکومت کے خلاف جذبات بڑھکتے تھے، سیاست کا یہ گمنام سپاہی اپنے لفظوں کے ذریعے انقلاب کا متمنی تھا، مگر اسٹیٹس کو کی قوتیں اتنی جلدی شکست نہیں کھاتیں، اکثر ان سے ٹکرانے والے ہی مایوس ہوتے ہیں۔ جواد نظیر کے ساتھ بھی یہی ہوا، تبدیلی کے خواہشمندوں کے ساتھ آئندہ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔

زندگی اور نظریات کی اسٹرگل کے دوران جواد نظیر اچھرہ میں خاور نعیم ہاشمی کے گھر رہتا تھا۔ خاور ہاشمی میرے لئے خاص شفقت رکھتے ہیں۔ جواد سے ابتدائی ملاقاتیں وہیں ہوئیں۔ دفتر کا تعلق الگ تھا میں رپورٹر تھا تو اپنی خبر خاص طور پر جواد نظیر کو دیتا تھا کہ وہ سرخی سے اس میں جان ڈال دیتا تھا، پھر خبر بولتی تھی اور اثر چھوڑتی تھی۔ خاور ہاشمی کے گھر پر ہی جواد نظیر کی شادی کا منصوبہ بنا۔ دوستوں، ساتھیوں نے دھوم دھام سے اہتمام کیا۔ زندگی پھر سے پرانی ڈگر پر چل پڑی اس کی زندگی ٹھیک ٹھاک جارہی تھی، بال بچے، چھوٹا سا کرایے کا گھر، کیریئر کے ساتھ بڑھتی ہوئی تنخواہ۔ بظاہر اس سے اسے قناعت پسند ہوجانا چاہئے تھا مگر اس کی بے چین روح کو چین کہاں تھا، ڈھلتی عمر میں عشق کا روگ پال لیا اور یوں دوسری شادی کرڈالی۔ اب دو گھروں کا بوجھ تھا زندگی کی ناکامیاں تھیں اور سب سے بڑھ کر کیرئیر میں مزید آگے جانے کے رستے بھی بند تھے، بس یہی وقت تھا کہ وہ کڑھنے اور سسکنے لگا اور کہیں اندر سے مرنے لگا۔ وہ زندگی بھر رسک لیتا رہا بہت ہی بہادرانہ فیصلے کرتا رہا لیکن آخری چند سال کی مجبوریوں نے اس سے وہ قوت فیصلہ بھی چھین لی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ زندگی میں محض بیکار پرزہ بن گیا ہے، بس یہی اس کی موت تھی جو لمحہ بہ لمحہ اسے نگلتی رہی، یہاں تک کہ اس کی جان ہی لے گئی۔

جواد نظیر کیا مرا خبریں بنانے والا خود خبر بن گیا۔ وہ ماحول اور سیاست سے ہمیشہ ناآسودہ رہا اور جب موت کو گلے لگایا تب بھی ناآسودہ ہی تھا۔ دراصل وہ جنگی محاذ سے پیچھے بیٹھ کر سپاہیوں کو لڑانے کی بہترین تربیت اور صلاحیت رکھتا تھا، میلوں دور بیٹھ کر وہ سپاہیوں کو جنگ کے گر بتاتا تھا، کچھ عرصے بعد اسے احساس ہونے لگا کہ سپاہی نہ جنگ ٹھیک لڑتے ہیں اور نہ مال غنیمت میں دیانت کا خیال رکھتے ہیں تو اس صحافتی جنرل نے خود سپاہی بن کر محاذ جنگ پر لڑنے کا فیصلہ کیا ،اس کا خیال تھا کہ سپاہی جو غلطیاں کرتے ہیں وہ خود نہیں کرے گا، مگر یہ صحافتی جرنیل یہاں غلطی کر گیا، روس کے برفانی محاذ پر جو سردی جرمن سپاہی کو لگتی تھی وہ جرنیل کو بھی لگی۔ جو مصلحتیں صحافتی رپورٹرز کو پیش نظر رکھنا پڑتی تھیں، ان سے اسے بھی پالا پڑا۔ جرنیل کی سپہ سالاری گئی تو صحافتی جذبہ بھی سرد پڑگیا۔

اچھا ہوا صحافتی قافلے کا شکست خوردہ جرنیل اس دنیا کو چھوڑ گیا کیونکہ ان دنوں صحافت کا مایوس قافلہ آزادی کے آئیڈیل سے ہی برگشتہ نظر آرہا ہے۔ آئیڈیل تباہ ہوچکے، امیدیں دم توڑ گئیں، آزادی کی شمع بجھ گئی،جدوجہد کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، کہیں سے بھی مدد نہیں آرہی، مگر میرا خیال ہے کہ اس مایوسی کے باوجود صحافت میں اور بھی جواد نظیر آئیں گے شاید اسی کی طرح شکست بھی کھائیں گے،لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جلد یا بدیر ایک دن بالآخر کوئی جواد نظیر ضرور فتحیاب ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *