استادِ محترم سے اختلاف!

استادِ محترم! مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف۔ اختلاف کا اظہار اس لئے کر رہا ہوں کہ آپ کی تعلیم و تربیت نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا، سچ تو یہ ہے کہ مجھے برباد کر کے رکھ دیا، آپ ہمیں درویشی سکھاتے رہے جبکہ زمانہ عیاری کا تھا آپ ہمیں عیاری کے دو چار سبق یاد کرا دیتے تو شاید ہم بھی کچھ ترقی کر جاتے۔ آپ ہمیں سکوت کی تلقین کرتے رہے زمانہ ہنگاموں کا تھا اس لئے ہنگاموں اورشور شرابے میں پلنے والے لوگ آگے بڑھتے رہے اور ہم آپ کے خاموش اور سکوت کے متلاشی شاگرد کونوں کھدروں میں دھکیلے جاتے رہے اسی لئے استادِ محترم! مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف آپ عظیم شاعر اور پختہ کار غزل گو ہیں مگر ہمیں عشق کا صحیح رستہ بھی نہ دکھا سکے آپ کا شعر ہے؎

کب نکلتا ہے کوئی دل میں اتر جانے کے بعد

اس گلی کے دوسری جانب کوئی رستہ نہیں

گورنمنٹ کالج سرگودھا میں آپ کی شاگردی کے زمانے سے ہی اس شعر کو حرز جان بنا لیا لیکن حقیقت بالکل برعکس نکلی۔ استادِ محترم! آپ نے کہا کب نکلتا ہے کوئی دل میں اتر جانے کے بعد مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی دل میں اترے اور کئی دل سے نکلے۔ یہ ایک نہیں تھا کئی تھے اور کئی ہیں۔ آپ کا خیال تھا کہ یہ بند گلی ہے مگر استادِ محترم اس گلی کے کئی خفیہ راستے ہیں جن کا آپ کو علم ہی نہ ہو سکا اسی لئے استادِ محترم! مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف۔

آپ کو ننگ و نام والے کھاتے رہے اور خیال خام والے ستاتے رہے۔ آپ کی تعلیم کے مطابق ہم خیال خام کو رد کرتے رہے مگر کیا کریں وہی قومی ایوارڈ پاتے رہے وہی جشن منواتے رہے اور وہی عہدے پاتے رہے خیال پختہ والے پیچھے سے پیچھے رہتے گئے۔ آپ ہمیں سمجھاتے رہے کہ زندگی کو اپنی نظر سے دیکھنا چاہئے کیونکہ عام زاویے شخصیت کو کھا جاتے ہیں مگر استادِمحترم! یہی عام زاویے، یہی پاپولر اور مقبول عام باتیں ہی زمانے کا چلن ہیں یہی ترقی کا گُر اور آگے بڑھنے کا نسخہ ہیں مگر آپ کے ارشادات ہمیشہ ہماری ترقی کے آڑے آتے رہے، اسی لئے استادِ محترم! مجھے آپ سے اختلاف ہے شدید اختلاف۔

آپ اکائی کے جڑے رہنے کی بات کرتے رہے اور ریزہ ریزہ کاموں سے منع کرتے رہے حتیٰ کہ آپ نے تو آب حیات پینے سے بھی گریز کیا کیونکہ اس آب حیات میں چھپے ہوئے زہر کے جام نظر آتے تھے میں سرعام یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم میں سے ہر کوئی آب حیات کا متمنی ہے لگتا یہ ہے کہ آپ نہ ہماری طویل العمری چاہتے ہیں اور نہ ہی ترقی، اسی لئے تو استادِ محترم، مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف۔

آپ کو زندگی میں کھلی کھلی عداوتیں راس آتی تھیں آپ کو زہرخند سلام بھی اچھے نہیں لگتے مگر یہ سب خیالی باتیں ہیں ہم تو انہی زہرخند سلاموں میں پلے بڑھے ہیں ہم تو انہی کے عادی ہیں سچ تو یہ ہے کہ ہمیں انہی زہرخند سلاموں ہی سے جلا ملتی ہے ترقی بھی ہم حسد اور جلن سے بچ کر اور خوشامد و چاپلوسی سے ہی حاصل کرتے ہیں۔

استادِ محترم! آپ ہمیں کچھ اور پڑھاتے رہے دنیا کی ہم سے طلب کچھ اور تھی آپ مولانا اصغر علی روحیؔ، صوفی ضیاء الحق، قاضی عبدالنبی کوکب اور مجید امجد کو اپنا آئیڈیل مانتے رہے لیکن دنیا داری میں تو وہ لوگ مکمل طور پر ناکام تھے کیا یہ کوئی بڑا دنیاوی عہدہ حاصل کر سکے یا پھر تاریخ میں کسی نے ان کا نام سنہری حروف میں لکھا؟ ہرگز نہیں۔ تو اے استادِ محترم! براہ کرم اپنے شاگردوں کو کچھ ایسا سبق پڑھائیں کہ وہ دنیا داری سیکھیں انہیں مطلب براری آ جائےاور وہ صفوں کو روند کر اپنی منزل مراد پا لیں۔ ظاہر ہے آپ ایسا نہیں کریں گے، اسی لئے استادِ محترم! مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف۔

بچپن اور لڑکپن کے سبق کہاں بھولتے ہیں آپ ہمیں توازن، تحمل اور برداشت کا سبق دیتے رہے مگر چلن کچھ اور ہے انتہاء پسندی، ضد اور جارحیت کا دور دورہ ہے توازن کو منافقت تحمل کو بزدلی اور امن پسندی کو کمزوری پر محمول کیا جاتا ہے۔ استادِ محترم! اسی لئے مجھے آپ سے اختلاف ہے کہ آپ آئوٹ آف فیشن ہو چکے ہیں مجھے فیشن کے ساتھ ہی چلنے دیں ورنہ میں مزید پیچھے رہ جائوں گا۔ اسی لئے مجھے آپ سے شدید اختلاف ہے!

آپ خود تحقیق کے آدمی ہیں اپنے شاگردوں کو بھی تحقیق کا درس دیتے رہے۔ جس کسی نے آپ کی آواز پر صاد کہا وہ مارا گیا۔ دور ہے ترغیب کا، تحریص کا۔ ایسے دور میں محقق نہیں سرقہ بازوں کی ضرورت ہوتی ہے مقالہ لکھنا ہے یا تحقیق کرنی ہے تو کچھ اِدھر سے اٹھایا کچھ اُدھر سے چرایا اور تحریر و تحقیق مکمل۔ اب کون آپ کی طرح برسوں عربی مخطوطوں پر سَر کھپاتا پھرے۔ استادِ محترم مجھے معاف کیجئے۔ آپ نے تھوڑی نقل اور تھوڑی سرقہ بازی سکھائی ہوتی تو میں بھی آج اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگا لیتا کسی نہ کسی مضمون پر پی ایچ ڈی کھڑکا ہی دیتا۔ مگر صد افسوس اے استاد محترم آپ نے ہمیں یہ سب کچھ نہ سکھایا اسی لئے مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف! آپ نے عمر بھر معلمی کو سب سے اعلیٰ پیشہ سمجھا اور شاگردوں کو پڑھانا، لکھانا اور سکھانا عبادت گردانا، آپ کے شاگرد بھی اس جال میں پھنستے چلے گئے میں خود آپ جیسے اساتذہ کو دیکھ کر معلم بن گیا چودہ سال اس کوچے کی خاک چھانی اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ آپ جیسوں کاہی کام ہے آپ ہی کو ساجے۔ نہ دولت، نہ معاشرے میں عزت اور نہ ہی دنیاوی لذت۔ بس میں تو اسے خیر باد کہہ چکا لیکن میرا آپ سے گلہ ہے کہ آپ نے ہمیں ہمیشہ معلمی کے فوائد اور درجے بتائے کبھی اس کی خامیوں اور تلخ حقائق کی طرف توجہ نہ دلائی یہی وجہ ہے کہ آپ کے بہت سے شاگرد معلمی کی افسانوی دنیا میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اگر آپ اس کے مادی اور دنیاوی پہلوئوں سے آگاہ کر دیتے تو ہم کوئلوں کے کاروبار سے منہ کالا کر لیتے لیکن دنیاوی فوائد تو سمیٹ سکتے۔ اسی لئے، اسی لئے اے استادِ محترم مجھے آپ سے اختلاف ہے، شدید اختلاف!! کیا کیا گلہ کروں کون کون سی شکایتیں شکایت کروں آپ حقیقت نگار نہیں طلسم گر ہیں آپ کے جادو کے اسیر آپ ہی کی طرح شرمیلے ہیں حد تو یہ ہے کہ آپ پر 550صفحات کی کتاب لکھنے والے پروفیسر زاہد منیر عامر نے بھی ارمغان خورشید کے بارے میں تب انکشاف کیا جب یہ زیور طبع سے آراستہ ہو چکی تھی اور پھر اس قدر معرکۃ الآراء کام کرنے والے آج اس رونمائی سے بھی غائب ہیں بیرون ملک کا دورہ تو ایک بہانہ ہے آپ کا کوئی شاگرد اپنا کوئی کارنامہ، اپنی کوئی تعریف اپنی کوئی ستائش بھی آپ کی موجودگی میں نہیں سننا چاہتا مبادا آپ اسے ناپسندفرمائیں۔ اے استادِ محترم مجھے آپ سے اختلاف اسی لئے ہے کہ آپ ہماری پسند، نا پسند تک میں دخیل ہیں۔ اسی لئے مجھے اختلاف ہے۔ شدید اختلاف!

(یہ ڈاکٹر خورشید رضوی پر زاہد منیر عامر کی کتاب ’’ارمغان خورشید ‘‘کی رونمائی میں الحمراء کلچرل کمپلیکس میں پڑھا جانے والا مضمون ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *