روس کاشام کو کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کا مشورہ

Russian Foreign Minister Sergey Lavrov visit in Ukraine.روس نے شام کو امریکی حملے سے بچنے کا ایک اور منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دیدے۔

واضح رہے کہ ماسکو شامی صدر بشارالاسد کا مضبوط ترین حریف ہے اور اس نے طبلِ جنگ کے دوران شام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صدر اوبامہ کی جانب سے متوقع حملے سے بچنے کیلئے اس پر عمل کرے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اپنے شامی ہم منصب ولید المعلم سے ماسکو میں ملاقات میں دمشق پر کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے پر زور دیا ہے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے۔

لاروف نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ شام اس پر رضامند ہے لیکن اگر کیمیائی ہتھیاروں کو بین الا قوامی کنٹرول میں دے دیا جاتا ہے تو یہ فوجی حملے سے نبرد آزما ہونے کیلئے مدد گار ہو گا پھر ہم فوری طور پر اس پر اگلی کارروائی کریں گے۔

معلم نے روس کے اس اقدام کو سراہا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا ہے کہ بشار الاسد اس کی منظوری دیں گے۔

روس کی سرکاری نیوز ایجینسی آئی ٹی اے آر کیمطابق معلم نے کہا کہ میں نے سنجیدگی سے اس حوالے سے سرگئی کی گفتگو کو سنا ہے۔

‘ اسی کے ساتھ، میں کہوں گا کہ ہم روسی قیادت کی جانب سے شامی لیڈرشپ اور عوام کی حفاظت اور ملکی تحفظ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔’

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تشویش کا اظہار کیا کہ منصوبہ ایک تباہ کن حربہ ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے روس کے اس اقدام کو سراہا بھی ہے۔

انہوں نے قانوں سازوں سے کہا کہ اگر شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی میں دیدے تو یہ ایک بڑا قدم ہو گا اور اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے پیر کے روز کہا ہے کہ شام میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایسے مخصوص زون قائم کئے جائیں جہاں یہ ہتھیار تباہ کئے جاسکیں۔

بان کی مون نے رپورٹرز سے  کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ کے کارکن شام میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کرتے ہیں تو وہ سیکیورٹی کونسل کو ایسے زونز تجویز کریں گے اور ساتھ کونسل کی شام کے معاملے پر ‘ شرمناک بے عملی’ پر بھی قابو پانا ممکن ہوگا۔

فوری طور پر وائٹ ہاوس نے روس یا اقوام متحدہ کے منصوبے کے حوالے سے رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا اصرار ہے کہ شام پر حملے کے بعد اس کا سیاسی حل ڈھونڈنے میں آسانی ہوجائےگی۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ شام کے صدر نے اپنی ہی عوام پرزہریلی گیس استعمال کی ہے اور اسے اس کی سزا ملنی چاہئے لیکن پیر کے روز شامی صدر بشارالاسد نے پھر یہ دوہرایا ہے کہ اس نے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کئے۔

دوسری جانب چین نے ایک مرتبہ پھر امریکہ پر زور دیا ہے کہ شامی بحران کواقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے حل کیا جائے، سلامتی کونسل میں معاملہ واپس لا کر اسے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

پیر کو چین کے وزیر خارجہ وانگ وی نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں شام کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

چینی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران امریکی وزیر خارجہ پر زور دیا کہ شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ واپس لیا جائے اور معاملہ اقوام متحدہ کے سپرد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے کے بغیر شام پر حملہ مناسب نہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے امریکی اتحادی ممالک کو کہا کہ وہ فوجی کارروائی سے قبل ایکشن کے بعد ممکنہ خطرناک نتائج کے بارے میں سوچیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *