آشیانہ کیس میں شہباز شریف کا 14 روزہ ریمانڈ، رمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتاری

اسلام آباد: احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا جبکہ رمضان شوگر ملز کیس میں جسمانی ریمانڈ سے متعلق نیب کی استدعا مسترد کردی گئی۔

واضح رہے کہ شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کے سلسلے میں 5 اکتوبر سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں ہیں جبکہ شوگر ملز کیس میں ان کی گرفتاری آج ڈالی گئی ہے۔

احتساب عدالت میں آج شہباز شریف کی چوتھی پیشی تھی، جس کے لیے انہیں اسلام آباد سے لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر احتساب عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

نیب لاہور کی جانب سے شہباز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔

کمرہ عدالت کے باہر شور سے سماعت میں خلل

آج سماعت کے آغاز پر  باہر موجود وکلاء نے کمرہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا، جس سے سماعت میں خلل پڑا۔

شہباز شریف نے کہا کہ 'جج صاحب یہ کارکن نہیں، وکلاء دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں'۔

اس موقع پر جج نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ 'یہ وکلاء آپ کے لیے آئے ہیں'؟

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ 'ہم نے ان وکلا کو نہیں بلایا، ہم تو چاہتے ہیں کہ اچھے حالات میں سماعت ہو'۔

جس پر احتساب عدالت کے جج نے برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 'میں ان حالات میں سماعت نہیں کرسکتا'۔

شہباز شریف کی رمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتاری

دوران سماعت نیب لاہور نے رمضان شوگر ملز کیس میں بھی شہباز شریف کی گرفتاری ڈال دی۔

نیب وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف کی گرفتاری آج 10 نومبر کو ڈالی گئی ہے۔

جس پر شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عدالت کو جو نئی درخواست دی گئی ہے، وہ غلط بنیاد پر دی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کہتا ہے کہ ایک کیس میں گرفتار شخص کو دوسرے کیسز میں گرفتار سمجھا جائے گا۔

جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف پر نیا کیس الگ ہے جبکہ موجودہ کیس ثبوت کے ساتھ ہے۔

نیب کی شہباز شریف کے مزید 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا

دوران سماعت نیب نے شہباز شریف سے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ میں مزید 15 دن کی توسیع کی استدعا کی۔

تاہم شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کی مثال دیتے ہوئے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔

شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد شہباز شریف کے کیس میں پارٹی بن گئے ہیں اور مختلف ٹاک شوز میں انٹرویوز دے رہے ہیں۔

امجد پرویز نے دلائل کے دوران کہا کہ شہباز شریف کو نیب نے پہلی بار جون 2018 میں بلایا، ان کو جب بھی بلایا گیا وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوتے رہے اور انہوں نے تحقیقات میں ہر طرح کا تعاون کیا ہے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ آج تک آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں نیب کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دے سکی، لہذا کوئی وجہ نہیں جس پر مزید ریمانڈ دیا جائے۔

سماعت کے بعد احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں شہباز شریف کو مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر  نیب کی تحویل میں دے دیا جبکہ رمضان شوگر ملز کیس میں ان کا جسمانی ریمانڈ نہیں دیا گیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) کو اب 24 نومبر کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل اور شہباز شریف پر عائد الزامات

نیب آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد پہلے ہی گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈی جی فواد حسن فواد کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کی آخری پیشی پر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو آمنے سامنے بٹھایا گیا۔ نیب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر فواد حسن فواد نے کہا تھا کہ 'میاں صاحب آپ نے جیسے کہا میں ویسے کرتا رہا'۔

نیب کے مطابق شہباز شریف پر الزام ہے کہ انھوں نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب آشیانہ اسکیم کے لیے لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر منسوخ کروا کے پیراگون کی پراکسی کمپنی 'کاسا' کو دلوا دیا۔

نیب کا الزام ہے کہ شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا اور پھر یہی ٹھیکہ پی ایل ڈی سی کو واپس دلایا جس سے قومی خزانے کو 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسلٹنسی کانٹریکٹ ایم ایس انجینئر کسلٹنسی کو 19کروڑ 20 لاکھ روپے میں دیا جبکہ نیسپاک کا تخمینہ 3 کروڑ روپے تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *