کراچی میں گوئلیانی کی ضرورت ہے

babar sattarنوے کی دہائی میں نیویارک میں کئی نو گو ایریا موجود تھے۔ٹائم سکوائرجسم فروشی، جوئے اور جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔لٹیروں کے غضب سے بچنے کے لیے وہاں جانے والوں کو ہدایت کی جاتی تھی کہ اپنے پاس کم از کم دس ڈالر ضرور رکھیں۔امریکہ میں جرائم کے خاتمے کے کئی وجوہات ہیں لیکن نیویارک کے امن کو واپس لانے میں سب سے اہم کردار گوئلیانی نے ادا کیا جو 1994ء سے 2001ء تک نیویارک کے میئر رہ چکے ہیں۔
1982ء میں جمس ویلیم اور جارج کیلنگ نے بروکن ونڈو فارمولا پیش کیاجس کے مطابق کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ مسئلہ شروع ہوتے ہی اس کو ختم کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں ، اگر کوئی کھڑکی ٹوٹ جائے تو اسی وقت مرمت کی جائے اس سے پہلے کہ مزیدکھڑکیاں ٹوٹنا شروع ہو جائیں۔ افراتفری سے بغاوت جنم لیتے ہیں اور چھوٹے جرائم کو ختم نہ کیا جائے تو وہ پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیں گے۔ جہاں افراتفری شروع ہوتی ہے وہاں سے مہذب لوگ نقل مکانی کرتے ہیں اور باقی رہنے والے حالات کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتے۔
گوئلیانی نے بل بریٹن کو پولیس کمشنر مقرر کیا جس نے پولیس پر بروکن ونڈو تھیوری لاگو کر دی۔بریٹن نے ایک کمپیوٹر بروگرام متعارف کرایا جس میں جرائم کا روزانہ کی بنیاد پر گراف بنایا جاتا تھا اور اس گراف کے ذریعے اس علاقے کے پولیس افیسر کی روزانہ کی کارکردگی پر نظر رکھی جاتی تھی۔اس دوران وفاقی حکومت نے بھی خصوصی فنڈ جاری کیے جس کو7000 نئے پولیس افیسر بھرتی کرنے پر خرچ کیا گیا۔ المختصر کسی بھی جرم کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی نے جرائم پیشہ افراد کو غیر قانونی کاموں سے رکنے پر مجبور کیا۔
ہم نے بروکن ونڈو تھیوری کو موٹر وے میں استعمال ہوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔جو ڈرائیور حضرات لوکل سڑکوں میں کسی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے وہ موٹر وے میں آتے ہی سیٹ بیلٹ باندھنے اور اپنے لین میں سفر کرنے سے لیکر جرمانہ ادا کرنے تک تمام قوانین کی خوش اسلوبی سے پیروی کرتے ہیں۔اسی طرح لیڈرشپ کا بھی قانون کی بالادستی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔جب ذولفقار چیمہ کو موٹر وے پولیس کا آئی جی بنایا گیا تو نہ صرف جرمانے میں اضافہ کیا گیا جب کہ پولیس کی کارکردگی میں بھی واضح تبدیلی آئی۔یہ حقیقت ہے کہ پولیسنگ کا مطلب لوگوں سے قانون کی تعمیل کروانا ہے نہ کہ سزا دینا ،لیکن جرائم کو روکنے کے لیے سزا کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
جرائم کے بارے میں مسلم لیگ ن کا نقطہ نظر کمزور اور غیر یقینی دیکھائی دیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے۔اگر کہا جائے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کوئی تبدیلی آئی بھی ہے یا نہیں ، تاہم وزیر داخلہ نثار علی خان اپنے پیشرو رحمان ملک کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ دیکھائی دے رہے ہیں اور وہ مسئلے حل کرنے کی کو شش کر رہے ہیں جن کے بارے میں عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سمجھداری سے پالیسی بنانا صحیح سمت کی جانب ایک قدم ہے۔ رینجر سے اپریشن کروانا، پولیس میں تغیر و تبدل، نگران کمیٹی کاقیام جس کی قیادت وزیر اعلیٰ خود کریں گے،خفیہ اداروں اور دوسرے سکیورٹی ایجنسیزکواس عمل میں شامل کرنا ، یہ سب ایک اچھی پالیسی کی نشاندہی کر رہی ہیں لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے’’ حلوے کا ضائقہ کھانے کے بعد پتا چلے گا‘‘۔سندھ کے سیاسی پارٹیاں کراچی کے معاملے میں ملوث ہیں اور کراچی میں امن کسی بھی وقت صرف ایک خوش فہمی ثابت ہو سکتی ہے۔
وفاقی حکومت کی ثابت قدمی کا امتحان تب شروع ہوگا جب سیاسی پارٹیوں میں بے چینی کا آغاز ہوگا کیونکہ اس اپریشن کی صورت میں ان پارٹیوں کے عسکری ونگ حملے کی زد میں آئیں گے اور ان سے غضب شدہ مال ضبط اور بھتہ خوری کی کمائی بند ہو جائے گی۔ اگر اپریشن شفاف طریقے سے انجام پائے اور وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ کراچی میں دوبارہ کسی بھی صورت میں غیر قانونی کام کو برداشت نہیں کیا جائے گا تب عوام بھی کراچی کی امن کو برقرار رکھنے میں حکومت کے شانہ بشانہ اٹھ کھڑی ہوگی۔
کراچی میں محدود اپریشن کے لیے سیاسی پارٹیوں میں ہم اہنگی پیدا ہونے کہ وجہ یہ ہے کہ وہاں طالبان بھی شامل ہو گئے ہیں جو دوسرے جرائم پیشہ گروہوں کے مقابلے میں کافی مضبوط پوزیشن قائم کر چکے ہیں۔اور وہ ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی امن کراچی سے جڑی ہوئی ہے اور اس معاملے میں کسی گروہ(چاہے وہ طالبان ہوں یا سیاسی عسکری ونگ)میں تفریق نہیں کرنی چاہیے۔
قیام امن کے لیے محدود اپریشن ضروری ہے لیکن پاکستان کے حالات کے تناظر میں یہ ناکافی معلوم ہوتی ہے ۔پاکستان میں اس وقت تک مکمل امن قائم نہیں ہو سکتی جب تک دہشت گردوں کو ملنے والی مدد کے تین ذرائع بند نہ کیے جائیں۔ اسلام آباد میں حکومت گرانے کا مطالبہ کرنے والا سکندر خان ہو یا لشکر جھنگوی اور لال مسجد کے مولوی حضرات، ان سب کے تانے بانے کسی نہ کسی صورت میں ہمارے اپنے خفیہ ایجنسیوں سے جا کے ملتے ہیں جو جہادی منصوبوں اور دوسرے کاموں کے لیے غیر ریاستی عناصر کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ہر بار ہمیں کہاجاتا ہے کہ یہ الزام غلط ہے اور ہر بار ایک نئی کہانی سامنے آتی ہے۔اگر حکومت پاکستان سے دہشت گردی کی لہر کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو انہیں اس بات کو یقینی بنانی پڑے گی کہ کسی بھی عسکری گروپ کا ریاستی اداروں سے کوئی واسطہ نہ ہو۔
دوسرا زریعہ ہمارے دوست عرب ممالک ہیں ۔اگر کسی کو کوئی شک ہے کہ عرب ممالک دوسرے ملکوں میں دہشت گردی میں ملوث ہیں تو جان کیری کا بیان ان کا شک دور کرنے کے لیے کافی ہے کہ عرب ممالک شام پر ہونے والے حملے پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اور یہ بھی کہ سعودی انٹیلی جنس کے چیف شہزادہ بندر بن سلطان نے کہا ہے کہ اگر روس شام کے معاملے میں پیچھے ہٹ گیا تو روس میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کی سکیورٹی کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں، جہان چیچن جنگجوؤں کے حملے کا خطرہ ہے۔
ٓٓٓدہشت گردوں کو تقویت پہنچانے کا آخری ذریعہ ہمارے ملک کے وہ مولوی حضرات اور مدارس ہیں جو فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو اپنی آئیڈیالوجی مضبوط کرنے کوموقع ملتا ہے، جبکہ عوام گو مگو کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے کہ صحیح کون ہے اور غلط کون۔ریاستی اداروں کے پشت پناہی اور ہمارے عرب دوستوں کی حمایت اور مدارس کے فرقہ ورانہ لیٹریچر کے بغیر دہشت گرد کچھ عرصے کے لیے ہمیں نقصان تو پہنچا سکتے ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *