مایوسی کیوں گناہ ہے

میں ایک شخص کی کہانی پڑھ رہی تھی وہ لکھتا ہے میرے بہنوئی کا چچازاد جس کا نام جمیل خان تھا پیدائشی دماغی طور پر کمزور تھا شروع میں تو گھر والے اس کی کیفیت سمجھ نہیں پائے لیکن جب وہ دوسال کا ہو گیا اور اس نے غوں غاں کے علاوہ کچھ الفاظ ادا نہ کیے تو والدین کو فکر ہوئی وہ اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے بلکہ کئی ڈاکٹروں کو دکھایا سب نے یہی کہا بچہ دماغی اعتبار سے نارمل نہیں ہے اس کا کوئی علاج بھی میڈیکل سائنس میں نہیں ہے جوں جوں اس کی عمر بڑھتی جائے گی یہ دیوانگی کی طرف بڑھتا جائے گا پھر یہی ہوا وہ دس سال کی عمر میں دو ڈھائی سال کے بچے جیسی حرکتیں کرتا زبان سے پورے الفاظ ادا نہیں ہوتے تھے کھانا بھی زبردستی کھلانا پڑتا تھا دبلا پتلا سا یہ لڑکا خاندان والوں کے لیے ایک مسلہ بن گیا والدین اس کی کڑی نگرانی کرتے تھے لیکن وہ پھر بھی آنکھ بچا کر گھر سے نکل جاتا نیم دیوانگی کے عالم میں وہ اکثر ریلوے اسٹیشن کا رخ کرتا جہاں ٹرین روانگی کے لیے تیار کھڑی ہوتی تو بلا ٹکٹ اس میں سوار ہو جاتا اسے بچپن ہی سے اسٹیشن پر کھڑے ہو کر ٹرینیں دیکھنے کا جنون تھا کوئی دیکھ لیتا تو انگلی پکڑ کر گھر لے آتا اس کے ایک قریبی عزیز ریلوے اسٹیشن میں پارسل کلرک تھے وہ اس بچے سے بہت پیار کرتے تھے وہ اسے اپنے پاس بٹھا لیتے جس کی وجہ سے ریلوے کا عملہ اسے پہچاننے لگ گیا تھا وہ اکیلا ریل میں سوار ہوتا تو اسے بہلا پھسلا کر اتار لیا کرتے تھے لیکن بڑے ہونے پر وہ اکثر ریل میں سوار ہو جاتا جس کی وجہ سے گھر والوں کو پریشانی اٹھانی پڑتی ایک مرتبہ وہ اسی طرح پشاور بھی پہنچ گیا وہاں ایک شناسا ٹکٹ چیکر نے اسے دیکھ لیا اور واپس گھر پہنچایا اس کے مشورے پر اس کے والد نے اس کے بازو پر اس کا نام اور ایڈریس گدوا دیا لہذا وہ جس کو بھی ملتا وہ اسے گھر چھوڑ جاتا یا فون پر گھر والوں کو اطلاع دے دیتا وہ اسے لے جاتے جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا اس کا سفر کا شوق بڑھتا گیا اکثر بلا ٹکٹ ریل میں سوار ہو کر پورے ملک کی سیر کر آتا ریلوے والے بھی اس سے مانوس ہو چکے تھے جو نہیں جانتے تھے وہ اس کی حرکات و سکنات سے ابنارمل ہونے کا اندازہ کر لیتے اور چھوڑ دیتے گھر والے بھی کہاں تک اس کے پیچھے بھاگتے انہوں نے بھی لا پرواہی برتنا شروع کر دی ایک بار وہ ریل میں سوار ہوا تو کئی دن تک اس کی خیر خبر نہ ملی ماں کو تشویش ہوئی کسی مصیبت میں نہ پھنس گیا ہو اس کے والد نے ریلوے اسٹیشن جا کر عملے سے اپنی پریشانی بیان کی ان کے عزیز نے کئی اسٹیشنوں پر فون کر کے اس کا حلیہ بتا کر تلاش میں مدد مانگی چند روز گذرنے کے بعد ایک اسٹیشن ماسٹر نے انہیں فون پر اطلاع بجھوائی کہ جمیل خان وہاں کے ریلوے اسٹشن پر نیم مردہ حالت میں ملا تھا جس پر اسے مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا اس کے لواحقین فورا اس کو لے جائیں وہ جانجنی کے عالم میں یہ اطلاع والدین پر بجلی بن کر گری اس کا باپ اور بھائی فورا روانہ ہو گئے جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں تفصیل بتائی گئی کہ جمیل خان کئی بار پہلے بھی اس اسٹیشن پر اترا کرتا تھا وہ یہاں گھومتا پھرتا رہتا تھا لیکن کچھ روز پہلے وہ اچانک ٹرین کی چھت پر کھڑا نظر آیا الیکٹرک ٹرین تھی کسی بجلی کے ننگے تار کو چھوجانے سے اسے شدید جھٹکا لگا اور وہ نیچے آن گرا اور بے ہوش ہو گیا تب سے وہ نیم مردہ حالت میں ہے اس کے گھر والے ہسپتال پہنچے تو اس کی حالت مردوں سے بھی بد تر تھی اس کا پورا جسم جھلس چکا تھا صرف چہرہ بچا تھا اسے اسٹریچر پر لٹایا ہوا تھا ہلکی سی سانس کی آمدورفت سے پتہ چلتا تھا کہ زندہ ہے ڈاکٹر مایوسی ظاہر کر رہے تھے ان کے نزدیک وہ اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا اس کے والد نے بیٹوں سے کہا اسے آخری وقت میں سفر کے جھٹکے دینا مناسب نہ ہوگا ہم یہیں ٹہیر جاتے ہیں گھر فون کر کے بتا دو کہ ہم اس کی میت لا رہے ہیں اس کی قبر کھدوا لیں کفن دفن کا انتظام کر رکھیں اس حالت میں میت زیادہ دیر رکھنا مناسب نہ ہو گا گھر میں اس اطلاع پر صف ماتم بچھ گئی جمیل کے والد نے ہسپتال والوں سے کہہ کر میت گاڑی کا انتظام کر لیا اور اس کی سانسیں ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے لیکن جمیل کی ماں کو اپنے بیٹے کی موت کا یقین نہیں آتا تھا اس نے ریلوے اسٹیشن جا کر فون پ شوہر سے رابطہ کیا اور حالت پوچھی شوہر نے بجلی کا جھٹکا لگنے کا بتا اور کہا ڈاکٹروں نے مایوسی ظاہر کی لہذا ہم اس انتظار میں ہیں اس کی ماں یہ سن کر تڑپ اٹھی اس نے کہا کچھ بھی ہو جب تک سانس ہے وہ جس حالت میں بھی ہے اسے لے کر آؤ میں اسے زندہ دیکھنا چاہتی ہوں اسے راستے میں کچھ نہیں ہوگا خدا کے لیے میری بات مان لو اپنی بیوی کی تڑپ دیکھ کر اس کے والد مجبور ہو گئے کہ اسے واپس گھر لے جائیں کیونکہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ یہ کیفیت چند گھنٹوں کی بھی ہو سکتی ہے اور چند دنوں کی بھی ہم کچھ کہہ نہیں سکتے انہوں نے روانگی کا بندوبست کیا اور اسے گھر لے آئے اس کی قبر کھودی جا چکی تھی کفن بھی تیار تھا مگر ابھی اس کی مدھم سانسوں کا سلسلہ جاری تھا تڑپتی ہوئی ماں اس کے گرد منڈلانے لگی وہ اللہ سے التجائیں اور دعائیں کرتی جا رہی تھی اس نے شوہر سے کہا اس کو ہسپتال لے چلو یہ بچ جائے گا کچھ لوگوں نے بھی یہی مشورہ دیا کہ جب تک سانس ہے تب تک آس رکھو اس کو ہسپتال لے جاؤ انہوں نے دوبارہ اسے ایمبولینس میں ڈالا اور ہسپتال لے گئے ایمر جنسی میں ڈاکٹر نے دیکھتے ہی کہا یہ اسی فیصد جل چکا ہے آپکے کہنے پر ایڈمٹ تو کر لیتے ہیں مگر اس کا بچنا مشکل ہے لیکن ماں کی دعاؤں سے چھتیس گھنٹے بعد اسے اچانک ہوش آ گیا یہ ایک ایسا معجزہ تھا جو ڈاکٹروں کے مطابق شاز و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور میڈیکل سائنس اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کر سکتی اس کے آبلے آپ ہی آپ خشک ہونے لگے تھے ڈاکٹروں نے مریض کی قوت مزاحمت مضبوط دیکھ کر پوری تندہی سے اس کا علاج شروع کر دیا دوائیں تو محض بہانہ تھیں قدرت اس پر مہر بان تھی وہ موت کے منہ سے نکل کردھیرے دھیرے صحت یاب ہوتا گیا وہ چھ مہینے ہسپتال رہا اس کے گھر والوں اور ڈاکٹروں نے اسے خصوصی توجہ دی چھ مہینے کے بعد ہسپتال کے ڈاکترز اور عملے نے اسے ڈھیروں محبتوں کے ساتھ ہسپتال سیڈسچارج کیا
وہ بیماری جو جان لیوا تھی اسے راس آگئی اس کی صحت پہلے سے کہیں اچھی ہو گئی اس کی خوراک حیرت انگیز طور پر بڑھنے لگی پہلے دگنی پھر تگنی ہو گئی وہ ایک وقت میں آٹھ آٹھ روٹیاں کھا جاتا وہ اتنا طاقتور ہو گیا کہ جو کام دو تین بندے مل کر نہ کر پاتے وہ اکیلا کر لیتا اور ذرہ بھی نہ تھکتا اس کو سب پہلوان کہنے لگے جمیل خان ماشا اللہ آج بھی زندہ سلامت خوشگوار زندگی گذار رہا ہے جو لڑکا قبر میں اتارہ جانے والا تھا وہ ماں کی دعا سے اتنا تندرست و توانا ہو گیا ۔۔۔۔۔آپ سوچ رہے ہونگے میرا یہ کہانی بتانے کا مقصد؟ میرے پاکستانیویہ ملک بیمار ہے شائد کسی کو اس کے بچنے کی امید نہیں امریکہ ،انڈیا ،اسرائیل اس کی قبر کھود چکے ہیں ہمارا میڈیا لوگوں کو مایوسی کی انتہاؤں تک لے جا رہا ہے لیکن میں مایوس نہیں ہوں اور میری طرح کے کروڑوں لوگ ہیں جو اس کو قائد اعظم کے اصل پاکستان کی صورت میں دیکھنے کے آرزو مند ہیں عمران خان نے اس کے علاج کا ذمہ اٹھا لیا ہے اس کی جان لیوا بیماری جو کرپشن کے کینسر کی صورت اس کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی وہ انشا اللہ ختم ہو جائے گی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہم بڑے بڑے کرائسز سے نکلے ہیں ستر سال سے صرف ایوب خان کا دور نکال دیں تو ہم نے سیاست کے گرداب میں پھنس کر کھویا ہے پایا کچھ نہیں لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا جب اندھیرہ بہت گہرا ہو جاتا ہے تب اس سے روشنی کی کرن پھوٹتی ہے دراصل ہم نے اپنے ملک کا حق ادا ہی نہیں کیا ہم صرف اس کی لاش نوچتے رہے ارے ہم تو مسلمان ہیں جب پیاسے ہوں تو بارش کی دعا کریں اللہ فورا پانی برسا دیتا ہے کبھی کسی کو بھوکا نہیں سلاتا یہ شیطان کی پھیلائی باتیں ہیں کہ تم اگر کرپشن نہیں کرو گے تو بھوکے مر جاؤ گے جس جس نے حرام کا پیسہ کھایا وہ کبھی سکھی نہیں رہا پوری قوم جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہے ہم دوسری قوموں کی طرح سور بندر نہیں بنے لیکن اللہ کی نافرمانی کر کے ہم ان سے بد تر ہو چکے ہیں ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں ہر رشتہ کھو گیا ہے کسی کو کسی کا اعتبار نہیں رہا نفس و نفسی کا عالم ہے اس سے بڑا عذاب کیا ہو گا کہ مسند پر بیٹھا باپ اپنی اولاد سے لاتعلق ہو جاتا ہے صرف مال بچانے کے لیے اس وقت ہم سب کو ایک ماں کی طرح دعا سے دوا سے اپنا ملک بچانا ہے یہ مت سوچیں کہ امریکہ نے امداد بند کر دی تو ہم مر جائیں گے کچھ نہیں ہوگا ایک در بند ہوتا ہے تو اللہ سو دروازے کھول دیتا ہے حضور صلی اللہ وسلم کے زمانے میں اس سے بھی برا دور تھا جہالت ،بت پرستی ،غربت ،کیا نہیں تھا بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے حضور نے کتنی تکلیفیں اٹھائیں مگر اسلام کا بول بالا کیا جنگیں لڑیں تکلیفیں سہیں مگر ثابت قدم رہے بے شک ہم گناہ گار لوگ ہیں لیکن ہیں تو اسی نبی کی امت امریکہ کی طرف دیکھنے کی بجائے کیوں نہ اپنے اللہ سے مدد مانگیں اپنے اعمال ٹھیک کریں اپنی نیت ٹھیک کریں میڈیاکی مت سنیں ان کا تو یہ کام ہے انہوں نے بھی کمال جھوٹ سے روزی کمانی ہے انشا اللہ یہ ملک اس بیماری سے نکل کر توانا ہو کر ابھرے گا مایوسی گناہ ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *