دو ارب ڈالر ماہانہ خسارے سے لیکر انڈے‘ مرغی اور کٹّے تک

گزشتہ والے حکمران بلاشبہ بے ایمان ضرور تھے‘ مگر بہرحال مخبوط الحواس ہرگز نہیں تھے ‘جبکہ اب معاملہ بالکل ہی الٹ ہے۔ سو دن گزر گئے‘ مگر حکمرانوں کی ساری ٹیم ہی کا یہ حال ہے کہ کسی کو کچھ خبر نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور اسے دراصل کرنا کیا ہے۔ وزیر اطلاعات (دونوں: مرکزی اور پنجاب کا) خیال ہے کہ ان کا کام صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ سابقہ حکمران خاندان کو مسلسل یہ اطلاع دیتے رہیں کہ ان کا مقدر جیل ہے اور کرپشن میں ان کو ابھی مزید سزائیں ہونے والی ہیں۔ الحمد للہ ان سو دنوں میں کسی وزیر اطلاعات نے پوری قوم کو کوئی اچھی اطلاع نہیں دی۔ اچھی اطلاع سے مراد ایسی اطلاع ‘جس سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا کوئی امکان پیدا ہوا ہو۔ اسے کوئی ریلیف ملا ہو۔ اسے مہنگائی میں کمی کی خوشخبری دی ہو۔ زرِ مبادلہ میں بہتری کی خبر دی ہو۔ کشکول توڑ دینے کی اطلاع دی ہو۔ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی خوشخبری سنائی ہو۔ کسی بڑے منصوبے کے شروع کرنے کی کوئی خبر دی ہو؛ حتیٰ کہ ملتان ‘لاہور موٹروے جو بالکل مکمل ہونے کے قریب تھی اور اس پر اگر اسی رفتار سے کام ہوتا‘ جس رفتار سے سابقہ حکومت کے دور میں ہو رہا تھا تو اب تک چالو ہو چکی ہوتی ‘کی تکمیل کی ہی کوئی اطلاع دی ہوتی تو ان کی وزارت کو اعلیٰ نمبروں میں پاس کر دیا جاتا‘ مگر وزیر اطلاعات صاحبان نے عموماً اور اپنے فواد چودھری صاحب نے خصوصاً مسلسل سو دن تک بری اطلاعات دینے کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے‘ اس ریکارڈ کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا جانا چاہئے۔
لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ سب سے زیادہ مایوس اسد عمر نے کیا ہے؛ اگر اپوزیشن میں ہی رہتے تو بہت اچھا تھا کہ ان کی عزت بھی برقرار رہتی اور ان کی معیشت بارے ٹامک ٹوئیوں کی حقیقت بھی نہ کھلتی۔ موصوف ملکی اقتصادیات کے سمندر میں اسی طرح غوطے کھا رہے ہیں‘ جس طرح جنوری کے مہینے میں نیند میں سوئے ہوئے کسی شخص کو چارپائی سمیت یخ بستہ تالاب میں پھینک دیا جائے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ تیرنا بھی نہ جانتا ہو؛ حالانکہ موصوف تقریباً ہر وہ کام اب خود کر رہے ہیں‘ جس کے خلاف اسمبلی میں تقریریں فرمایا کرتے تھے لیکن بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ جو کام اسحاق ڈار مفرور جیسا بدنیت اور بے ایمان شخص کر لینے میں کامیاب ہو جاتا تھا‘ وہ اپنے نیک نیت اسد عمر صاحب سے نہیں ہو پاتا۔
اسحاق ڈار کا معیشت اور اقتصادیات سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ موصوف اکاؤنٹینٹ تھا اور ساری زندگی بینکوں سے لین دین کرتا رہا‘ اسی لین دین کے دوران اس نے ایک بات سیکھی کہ کم قیمت والے Assets کو کس طرح بڑھا چڑھا کر دکھانا ہے اور معمولی گارنٹیوں اور ضمانتوں کے عوض کس طرح زیادہ رقم والے قرضے لینے ہیں۔ اوور انوائسنگ کیسے کرنی ہے اور کک بیک کیسے حاصل کرنا ہے۔ وہ ملکی معیشت کو انڈسٹری اور بینک کے درمیان ہونے والے لین دین کی بنیاد پر چلاتا رہا۔ اس دوران قرضوں کی ری شیڈولنگ اور فراڈ بازی پر مبنی ایل سی کھلوانے کا تجربہ بھی بروئے کار لایا گیا اور ملکی معیشت ''دلی شہر نمونہ، اندروں مٹی باہروں چونا‘‘ کی کہاوت کے عین مطابق چلائی گئی۔ سب کو باہر سے سب اچھا نظر آ رہا تھا لیکن برا ہو ان سو دنوں کا۔ ان سو دنوں نے اسد عمر کی ساری کاغذی دانشوری اور معیشت پر ہوائی دسترس کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی ہے۔ ڈالر نے روپے کو وہ جوتے مارے ہیں کہ ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
ڈالر ایک سو چار روپے سے ایک سو چوالیس روپے کا ہو کر بمشکل پلٹا ہے اور اب ایک سو انتالیس روپے کا ہے ‘جو ملکی تاریخ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بلند ترین شرح تبادلہ ہے۔ جب ڈالر ایک سو چوالیس روپے سے پلٹ کر ایک سو انتالیس پر آیا تو کئی لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرتے دیکھا۔ موت دیکھ کر بخار قبول کرنے والی کہاوت کی ایسی تفسیر اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔
مخبوط الحواسی اپنے عروج پر ہے۔ کبھی ملکی معیشت دو سو ارب ڈالر کی ‘اس فرضی وصولی کے ذریعے چلانے کا پروگرام بنایا جاتا ہے‘ جو سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں‘ بلکہ پڑے ہوئے ''ہیں‘‘ بھی کب؟ پڑے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے اس سارے شور شرابے میں ان دو سو ارب ڈالر کے مالکان نے (اگر واقعی یہ دو سو ارب ڈالر ہیں بھی) اب تک ان کو نکال کر کہیں ''بنے‘‘ لگا دیا ہوگا۔ ان دو سو ارب ڈالر کے مالکان کو پہلی مہلت تو تب مل گئی تھی جب مسمی طارق باجوہ (جو اس وقت چیئرمین ایف بی آر تھے) نے ساری بھاگ دوڑ کا ڈراما کرنے کے بعد اچانک اپنے ہاتھ اس کیس سے اٹھا لیے تھے؛ اگر یہ دو سو ارب ڈالر اب بھی سوئس بینکوں میں موجود ہیں تو ناجائز کمائی کے جرم میں نہیں ‘بلکہ مالکان کی اس حماقت کے جرم میں ضبط ہونے چاہئیں‘ جو انہوں نے اس رقم کو ابھی تک وہیں رکھ کر کی ہے۔
خیر سے ہوا یہ کہ اپنے اسد عمر صاحب کو طارق باجوہ نے ایک بار پھر گولی دے کر قائل کر لیا کہ فی الحال اس رقم کا کلیم نہیں کیا جا سکتا اور اسد عمر نے یہ بات مان بھی لی۔ اس خوبی پر بہرحال طارق باجوہ کا ایک عدد گولڈ میڈل ضرور بنتا ہے‘ پھر اس کے بعد ملکی معیشت چلانے کیلئے وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں بیچ کر کام چلانے کی کوشش کی گئی۔ اشتہارات دیے گئے۔ نیلامی ہوئی‘ بلکہ ایک چھوڑ دو بار کی گئی۔ شنید ہے‘ آدھی گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں اور میرا خیال ہے کہ جو باقی بچی ہیں وہ ایسے سفید ہاتھی ہیں‘ جو بکنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہی حال تین ناقابل استعمال اور کنڈم ہیلی کاپٹروں کی فروخت کا ہوا اور وہ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ نئی حکومت کا خیال تھا کہ ملکی معیشت کو چلانے کیلئے ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافے وغیرہ جیسی فضولیات میں پڑنے کی بجائے فوری نتائج کے حصول کیلئے وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی، گورنر ہاؤس کو عجائب گھر بنا کر، وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنا کر اور وزیراعظم ہاؤس کی آٹھ بھینسیں بیچ کر ملکی معیشت کو اس کے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ الحمد للہ صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس نہ عمران خان کے کام آ رہا ہے اور نہ ہی یونیورسٹی بن سکا ہے۔ گورنر ہاؤسوں کو اتوار کے روز عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے‘ اس کا واحد نقصان یہ ہوا ہے گورنر صاحبان اتوار کے دن تسلی سے آرام بھی نہیں کر سکتے۔ شنید ہے‘ اتوار کو عوام گورنر ہاؤسوں میں جو کیاریاں اور لان خراب کرتی ہے‘ اس کی دیکھ بھال کا خرچہ بڑھ گیا ہے اور مالی اتوار کی رات سے اگلی اتوار کی صبح تک اس تجویز کے خالق کو جھولی اٹھا اٹھا کر ''دعائیں‘‘ دیتے ہیں۔
بھینسوں کی فروخت تے 23 لاکھ کی خطیر رقم وصول ہوئی۔ گمان ہے کہ اس کا نصف تو ان کو بیچنے کے سلسلے میں دیے جانے والوں اشتہاروں پر لگ گیا ہوگا۔ ادھر شنید یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ کا بجلی کا بل گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں اب زیادہ آ رہا ہے‘ واللہ عالم۔ خیر سے گاڑیاں کی دو قسطوں میں فروخت ہوئی ہیں۔ ان دو قسطوں والی نیلامی میں ایک سو دو گاڑیوں میں سے کل 61 گاڑیاں نیلام ہوئی ہیں اور اس عظیم نیلام عام سے 20 کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں۔ باقی 41 گاڑیاں ابھی وزیراعظم ہاؤس میں کھڑی ہیں اور ایک بدخواہ کا کہنا ہے کہ یہ 41گاڑیاں اسی طرح وہیں کھڑی رہیں گی۔ یقینا یہ بدخواہ ن لیگ کا ہوگا۔
ملک کو اس وقت تجارت میں ماہانہ تقریباً دو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ دو ارب ڈالر سے مراد آج کے ڈالر کے مطابق ‘جو 138 روپے تصور کیا جائے‘ تو یہ رقم 2 کھرب 76 ارب روپے ماہانہ بنتی ہے۔ اب اس خطیر رقم کا خسارہ کیسے پورا کیا جائے؟ یہ خسارہ صرف ملکی درآمد اور برآمد کا باہمی فرق ہے۔ 2 کرب76 ارب روپے ماہانہ کا خسارہ پورا کرنے کیلئے وزیراعظم نے مرغیوں، انڈوں اور کٹوں کے ذریعے پورا کرنے کا جو منصوبہ پیش کیا ہے‘ اس کے بارے میں یہ عاجز کیا عرض کر سکتا ہے؟ اس کے بارے میں تو صرف جناب اسد عمر صاحب ہی کوئی ارشاد فرما سکتے ہیں‘ تاہم مجھے تو صرف اتنا پتا ہے کہ اگر میرے پاس دو دیسی مرغیاں ہوتیں اور میں ان کے دو انڈے روزانہ فی انڈا ایک ڈالر کے حساب سے (بشرطیکہ) امپورٹ کرنے والا کوئی انتہائی (اُلو کا پٹھا ہوتا) ایکسپورٹ کرتا تو ڈالر کی قدر میں گزشتہ ہفتے ہونیوالے اضافے کے باعث مجھے روزانہ آٹھ روپے کا زیادہ نفع ہوتا۔ رہ گئی بات‘ ملکی قرضوں میں اربوں ڈالر کے اضافے کی! تو یہ ہماری اگلی حکومتیں ادا کریں گی۔ ویسے ہی جیسے یہ حکومت پچھلی حکومتوں کے قرضے اتارنے کیلئے دربدر پھر رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *