پامیلا گیلر۔۔ حملے کا ہدف بننے والے خاکوں کے مقابلے کی محرک، صلیبی مہم جو

pamilaنیویارک: پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکے بنانے کے مقابلے ، جس پر ٹیکساس میں 2مسلح افراد نے حملہ کیا،کی محرک، اسلام مخالف صلیبی مہم جو، پامیلا گیلرکہتی ہے کہ اس کے متنازعہ مقابلے کا مقصد آزادی اظہار کا مظاہرہ کرنا تھا۔
نیویارک کی 56سالہ رہائشی ،پامیلانے میڈیا کو بتایا کہ گارلینڈکے مضافاتی مقام ڈیلس میں منعقد کردہ ، اس کے مقابلے کا مقصد آزادی اظہار کی منزل کا حصول تھا۔
ایک یہودی خاندان میں پیدا ہونے والی اور نیویارک کے قریب لانگ آئی لینڈ میں پرورش پانے والی گیلر دو اسلام مخالف گروہوں: دی امریکن فریڈم ڈیفنس انیشی ایٹو اور سٹاپ دی اسلامائزیشن آف امریکہ کی صدر ہے۔
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے گیلر نے مزید ہرزہ سرائی کی، ’’جو کچھ ہوا، وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس کانفرنس کی اشد ضرورت تھی۔یہ خیال کہ ایک متشدد جنگ جاری ہے، آزادی اظہار پر ایک متشدد حملے سے واضح طور پر ثابت ہو گیا ہے۔‘‘
اسلام کی جارہانہ لفظی مخالفت میں کبھی پیچھے نہ رہنے والی گیلر اسلام کو امریکہ میں ’’بتدریج سرایت کرتی ہوئی شریعت‘‘ قرار دے کر اس کی مذمت کرتی ہے۔
گیلر اس سے قبل بھی متعدد اسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس نے نیویارک اور دیگر شہروں میں اسلام مخالف اشتہارات لگائے۔ حکومت نے ان اشتہارت کو اتارنے کی کوشش کی تو گیلر معاملے کو عدالت لے گئی اور کیس جیت گئی۔
2010ء میں، گراؤنڈ زیرو، وہ مقام جہاں کبھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر تھا، کے قریب ایک مسجد اور مسلمانوں کے ثقافتی مرکز کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور آیا تو گیلر نے اس منصوبے کو ’’امریکہ کی آنکھ میں خنجر‘‘ قرار دیا۔
امریکہ کی ایک شہری حقوق کی محافظ تنظیم، ساؤدرن پاورٹی لاء سینٹر نے اس اشتعال انگیز مقابلے کے انعقاد کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’پامیلا اسلام مخالف تحریک کی سب سے نمایاں اور شعلہ بیان شخصیت ہے۔وہ بے رحمانہ حد تک زہرخندہے اور اسلام کے متعلق اپنی شدید بلیغ تنقید کے معاملے میں نہایت بدتمیز اور غیر شائستہ ہے۔ مثلاً اس کا یہ بیان بھی قابل مذمت ہے کہ صدر اوباما سیاہ فام امریکی مسلمانوں کے جد امجد میلکولم ایکس کی پیاری اولاد ہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *