این آر او

فواد چوھدری نے آج یہ کہا ھے۔ کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری اپنا آخری الیکشن لڑ چکے ھیں ۔ اب ان کے پاس صرف یہ آپشن بچی ھے۔ کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے اپنی آخری عمر گھر پر گزارنی ھے یا جیل میں ۔
یہ ایک بڑا کلیر کٹ سیدھا پیغام ھے۔ اپنا آخری الیکشن لڑ چکے ھیں سے مراد یہ ھے۔ کہ انہیں کہا جا رھا ھے۔ آپ کی عملی سیاست ختم ھو چکی ھے۔ اور پاکستان کی سیاست میں اب آپ کا مزید کردار یا عمل دخل نہیں رھا۔ نواز شریف کو یہ پیغام پہلے ھی انہیں تاحیات نااھل کرکے اور مسلم لیگ ن کی صدارت سے ھٹا کر دیا جا چکا ھے۔ فواد چوھدری کے بیان کا دوسرا حصہ پہلے حصے کی مزید شکل ھے۔ یعنی نواز شریف اور آصف علی زرداری نے یہ فیصلہ کرنا ھے۔ انہوں نے اپنی عمر کا آخری حصہ گھر میں گزارنا ھے یا جیل میں گزارنا ھے۔ یہ بڑی عجیب و غریب آپشن ھے۔ اگر نوازشریف اور آصف علی زرداری نے جرم کیا ھے۔ تو پھر یہ آپشن مجرموں کو کیسے دی جا سکتی ھے۔ کہ انہوں نے گھر رھنا ھے یا جیل جانا ھے ؟ یہ فیصلہ تو عدالت کرتی ھے۔ اس آپشن کا مطلب پھر یہ ھے۔ کہ اگر دونوں نواز شریف اور آصف علی زرداری عملی سیاست چھوڑنے پر تیار ھو جائیں تو انہیں گھر بیٹھنے کی اجازت ھو گی اور اگر وہ عملی سیاست چھوڑنے پر تیار نہیں ھوئے تو انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ ایک طرح کا این آر او ھے جو نوازشریف اور آصف علی زرداری کو آفر کیا جا رھا ھے۔ نوازشریف پہلے ھی لندن سے واپس آ کر اور جیل جا کر یہ این آر او مسترد کر چکے ھیں ۔ مقتدرہ اب نواز شریف، ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر نیب اور عدالتوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رھی ھے۔ تاکہ یہ این آر او مان لیا جائے۔ اور مقتدرہ کی متضاد پالیسی یہ ھے۔ کہ وہ این آر او آفر کرتے ھیں اور ساتھ ھی یہ پروپیگنڈا بھی کرتے ھیں کہ اپوزیشن این آر او مانگ رھی ھے۔ تاکہ اپوزیشن کی سیاست کو اور کمزور کیا جا سکے۔ لیکن تا حال نوازشریف یا آصف علی زرداری سیاست ترک کرنے کے کسی ایسے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ھیں ۔ چناچہ سزا کے طور پر انہیں کسی بھی وقت جیل میں ڈالا جا سکتا ہے ۔
یاد رھے۔ چند سال پہلے مقتدرہ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ کہ انہوں نے وطن عزیز کی سیاست کو ن لیگ، پیپلزپارٹی، نوازشریف اور آصف علی زرداری کی موجودہ سیاست سے صاف کرنا ھے۔ اس کی بنیادی وجہ ان دونوں جماعتوں کا باھم مل کر اٹھارویں ترمیم کا پاس کرنا ھے۔ اور مقتدرہ کے کنٹرول کو چیلنج کرنا ھے۔ مقتدرہ اس ملک میں کسی ایسی سیاسی پارٹی یا آئینی ترمیم کو پسند نہیں کرتی جو اس ملک میں اس کے کنٹرول یا بالا دستی کو چیلنج کرتی ھو۔ جنرل مشرف اپنے اقتدار کے شروع سالوں میں یہ اعلان کرتے رھے کہ اس ملک سے بے نظیر اور نوازشریف کا سیاسی کردار ختم ھو گیا ھے۔ اور یہ کہ انہوں نے ان دونوں یعنی بے نظیر اور نوازشریف کو کک آوٹ کر دیا ھے۔ اور پھر وہ اسی بے نظیر سے این آر او مانگتے رھے۔ اور پھر اسی آصف علی زرداری کے ھاتھوں اقتدار چھوڑنے پر مجبور ھوئے ۔ بے نظیر کی شہادت اور ملکی و غیر ملکی حالات کی وجہ سے اپنی خواہش کے خلاف مقتدرہ پہلے پیپلزپارٹی اور پھر نواز شریف کو حکومت دینے پر مجبور ھوئ ۔ لیکن ملکی سیاست سے نوازشریف، آصف علی زرداری، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے موجودہ سیاسی کردار کے خاتمے کے اپنے پلان سے پیچھے نہیں ھٹی ۔ اسے التواء میں ڈالے رکھا۔ اور موقعہ ملتے ھی اس پر عمل شروع کر دیا اور یہ عمل تا حال پوری شد و مد کے ساتھ جاری ھے۔ اور اب مقتدرہ اپنے مہروں کے ذریعے ایسے پیغامات جاری کر رھی ھے۔ کہ جیل جانا ھے۔ یا گھر رھنا ھے ؟ اور دوسری جانب دباو میں بے انتہا اضافہ کیا جا رھا ھے۔
لیکن سوال یہ ھے۔ اگر مقتدرہ پہلے اس پلان پر عمل کرنے میں ناکام ھوئ تو اب وہ کیسے اس میں کامیاب ھو سکتی ھے۔ ستم ظریفی یہ ھے کہ اپوزیشن حکومت کو تبدیل کرنا نہیں چاھتی۔ اپوزیشن حکومت سے خود کہہ رھی۔ آپ کام کریں اور ملک چلائیں ۔ لیکن حکومت اور مقتدرہ سے ملک نہیں چل رھا۔ ملکی معاشی و مالیاتی حالات درست نہیں ھو رھے۔ قابو نہیں آ رھے۔ حکومت نے پہلے خود کہا ۔ اسے ملک چلانے کے لیے دس سے بارا ارب ڈالر کی ضرورت ھے۔ جو اسے اب تک نہیں ملے۔ صرف ایک ارب سعودی ڈالر ملے ھیں ۔ جنہیں خرچ نہیں کرنا۔ روپے کی قیمت گر رھی ھے۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس گر رھا ھے۔ شرح ترقی گر رھی ھے۔ زرمبادلہ گر رھا ھے۔ کاروباری و صنعتی سرگرمیاں گر رھی ھیں ۔ بچتیں گر رھی ھیں ۔ قوت خرید گر رھی ھے۔ سرمایہ کاری گر رھی ھے۔ دوسری جانب افراط زر بڑھ رھا ھے۔ ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ بڑھ رھا ھے۔ تجارتی خسارہ بڑھ رھا ھے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رھا ھے۔ روپے کی گراوٹ سے ملکی قرضہ بڑھ رھا ھے۔ ملک سے ڈالر کا فرار بڑھ رھا ھے۔ بے روزگاری بڑھ رھی ھے۔ اور سیاسی عدم استحکام بڑھ رھا ھے۔ آئ ایم ایف کا دباو بڑھ رھا ھے۔ کراس بارڈر ٹیررازم کو لے کر امریکی دباو بڑھ رھا ھے۔ ھم گرے لسٹ پر کھڑے ھیں ۔ اور اب مذھبی آزادی نہ ھونے کے الزام پر امریکہ نے ھمیں بلیک لسٹ کر دیا ھے۔ گویا ملکی و غیر ملکی معاشی و سٹریٹجک حالات ھمارے حق میں نہیں ۔ اور ھم ان حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے ملکی سیاست میں اپنے پلان پر عمل کر رھے ھیں ۔ ملکی سیاست کو اپنے ناپسندیدہ سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں سے پاک کر رھے ھیں ۔ یعنی ھم ھماری ترجیحات کو ملاحظہ کریں ذرا
اول تو ایسا ھونا نہیں ۔ جیسے میں نے پہلے بھی کہا۔ یہ غیر فطری ھے۔ لیکن چلیں ۔ آپ ایسا کر لیں ۔ تو کیا اس کے بعد ملک ترقی کر جائے گا۔ حالات ٹھیک ھو جائیں گے ؟ اپوزیشن تو آپ کو خود ٹائم دے رھی۔ تو پھر ملک چلائیں نہ۔ ملک چلے گا تو سب کو نظر آئے گا اس کے لیے مثبت خبروں کی نہیں مثبت کاموں کی ضرورت ھے۔ این آر او کی نہیں، عوام کا حق رائے دھی تسلیم کرنے کی ضرورت ھے۔ آپ کرپشن کارڈ پر تمام ناپسندیدہ عناصر کو جیل میں ڈال دیں ۔ لیکن گارنٹی دیں ۔ پھر آپ ملک چلا لیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *