مولانا طارق جمیل اورعمران خان!

مولانا طارق جمیل صاحب نے عمران خان کے بارے میں جو خصوصی ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا ہے , اس حوالے سے بہت ہنگامہ برپا ہے۔ مولانا  سمیت تمام تبلیغی بزرگ کیونکہ دیوبند مکتبہ فکر سے وابستہ ہیں اس لیے مولانا فضل الرحمان کے حمایتیوں میں صف ماتم بچھی ہے۔ جبکہ بریلوی حضرات بھی بہت کھل کر تنقید کررہے ہیں۔ یوں خادم رضوی کے ذریعےسے انہیں جو صدمہ پہنچا ہے اس کا کچھ کتھارسس  ہو نے کا موقع پیدا ہوا ہے
 لیکن جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن اور لبرل حلقوں میں بھی بوجوہ اس پر شدید تنقید جاری ہے
 ہمارے خیال میں یہ رویہ دعوت دین کے بارے میں ہمارے ناقص اور مجرمانہ غفلت کے حامل رویے کی نشان دہی کرتا ہے۔ دعوت کے بارے میں عرض ہے کہ اس میں مدعو کے بارے میں چاہے وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی ، مذہبی ہو یا غیر مذہبی ،حسن ظن ہی قائم کیا جاتا ہے۔ یہ مان کر دوسرے سے مخاطب ہوا جاتا ہے کہ دلیل کی بنیاد ہماری بات مان لی جائے گی ، اور مخاطب حق ماننے میں اخلاص سے کام لے گا۔ ورنہ صاف بات ہے کہ اگر مجھے یقین ہے کہ سننے والا مستقل طور پر ہٹ  دھرم ، متعصب اور بے پروا قسم کا شخص ہے تو دعوت کیسے دی جا سکتی ہے؟ دوسری بات یہ کہ مخاطب کے اندر وہ خوبیاں تلاش کی جاتی ہیں ،  وہ مشترک اقدار متعین کی جاتی ہیں جس سے باہمی احترام اور ہمدردی کا جذبہ جنم لے جو اسے بات ماننے پر مجبور کر سکے۔ چنانچہ  دعوت دینے والا یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا مخاطب مثبت اقدامات  کا وعدہ کرنے میں جھوٹ بول رہا ہے یا  سچ ، وہ تو اس کے منہ سے نکلنے والی ہلکی سی مثبت بات کو انتہائی سنجیدگی سے لے گا اور وقت آنے پر اسے یاد دلاتا رہے گا کہ وہ ایسا اور ایسا کرنے  اور ماننے کا وعدہ کرچکا ہے ۔ یوں وہ آۓ روز مخاطب کے ضمیر پر دباؤ ڈال کر اسے را ہ راست پر لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ چنانجہ ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل صاحب اسی نفسیات کے مطابق ادا کار ہ نر گس، میرا ، وینا ملک سے لے کر طاہر القادری اور دوسرے بری شہرت رکھنے والے مذہبی بہروپیوں سے  بھی ملتے رہے ہیں ۔وہ ہر دور کے حکمرانوں کے پاس  بھی جاتے  رہے ہیں۔   برادرم خورشید ندیم نے البتہ یہ درست فرمایا کہ ایسی کھلی حمایت کا معاملہ انھوں نے پہلی دفعہ کیا ہے۔لیکن میری گزارش یہ ہے کہ اس طرز عمل کو اختیار کرنے  کی  دلیل مولانا طارق جمیل صاحب نے یہ دی ہے عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنھوں نے ریاست مدینہ کی بات کی ہے ۔ ساتھ ہی انھوں نے خاتون اول کا حوالہ دیا کہ وہ روایتی پردہ کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔  یہ عین ممکن ہے  کہ مجھے عمران خان کے عزم  پر ذرہ برابر اعتبار ہو اور نہ بشری بی بی کے پردے میں کوئی نیکی نظر آتی ہو لیکن معاملہ مولانا طارق جمیل کا ہے۔ ان کے مذہبی تصورات سے بہت ہی بنیادی اختلافات کے باوجود مجھے  ذرہ بھر شک نہیں کہ  وہ عمران خان کے دعوے کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں ، بالکل ویسا ہی حسن ظن جیسا اداکارہ نرگس و وینا ملک کے ساتھ۔  اب یہ علیحدہ بات ہے کہ اس دعوتی ایڈونچر کے نتیجے میں عمران خان اپنے شعبے کے وینا ملک ثابت ہوتے ہیں یا سعید انور یا یوسف یوحنا۔ اگر ایسی بات ہے تو وہ ضرور افسوس کا  اظہار کریں گے  ۔ اس لیے ہمارے خیال میں عمران خان کی حمایت میں یہ بیان ہر گز تحریک انصاف کی حمایت نہیں ۔ یہ مولانا صاحب کا اپنا دعوتی جنون ہے جو خیر کی تلاش میں کسی مصلحت ، بدنامی کے کسی خوف  اور کسی طعنے  کو خاطر میں نہیں لاتا۔رہی بات یہ کہ مولانا  کوئی سیاسی سپیس چاہتے ہیں تو بہت ادب سے گزارش ہے کہ یہ ان کی نیت پر شبہ  ہے ۔ ذرا انصاف کیجیے کہ انھوں نے اداکاروں کے ساتھ کون سی سلفیاں اتروائ ہیں یا نواز شریف سمیت کسی بھی حکمران سے کون سا فایدہ اٹھایا؟
مزید گزارش ہے کہ اگر محترم مبشر زیدی کے خدا کے وجود پر سوالات ان کے ذہن کے سچے اشکالات قرار دیے جا سکتے ہیں اور مجھے  تسلیم ہے کہ ایسا ہی ہے تو مولانا طارق جمیل کا عمران خان کے بارے میں اچھا گمان کیوں اخلاص پر مبنی نہیں  سمجھا جا سکتا؟
کوئی کہہ سکتا ہے عمران خان کا پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا اعلان اسی طرح کا سیاسی نعرہ ہے جس طرح کا سو دنوں کا ناممکن العمل پلان سیاسی نعرہ تھا ،جس طرح  IMF سے قرض نہ لینے کا عزم ایک جھوٹا وعدہ تھا، جس طرح میرٹ پر تقرری ،پولیس کو غیر سیاسی بنانے کا فیصلہ ایک جھوٹ تھا اوراس سے ملتے جلتے درجنوں یو ٹرن اور جھوٹ محض اقتدار کے ایوانوں تک  پہچنے کے بہانے تھے ۔اسی طرح ریاست مدینہ کا نعرہ بھی ایک ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں ہے لیکن مولانا صاحب جس پس منطر سے تعلق رکھتے ہیں وہاں اچھا گمان اور نیکی کے عزم کا اسی آخری درجے میں خیال رکھا جاتا ہے جس طرح رسول اکرم نے ایک مجاہد کو ایک کافر کے بارے میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔اس کوچے میں سیاسی مصلحتوں کا کوئی دخل نہیں۔
حضرتِ علی کی مشہور روایت ہے ایک جنگ کے بعد ایک مجاہد صحابی نے بتایا  کہ ایک کافر نے دو دفعہ ایک کافر دشمن کو قابو میں آجا نے کے باوجود چھوڑ دیا ۔ اس نے  تاءب ہو کر اسلام قبول کر نے اور مقابلے پر نہ آنےکاو
عدہ کیا ۔ لیکن جب وہ تیسری دفعہ ،،" مرتد " ہو کر اسی مجاہد سے برسر پیکار ہوا اور پھر ان کی تلوار کے نیچے آیا تو تیسری دفعہ اسی قسم کا ایمان لانے کا اعلان کیا مگر صحابی نے یقین نہ کیا اور اس کی گردن مار دی۔ حضرت علی رضی اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید ناراضی کا اظہار فرمایا اور پوچھا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ تیسری دفعہ وہ سچ نہیں بول رہا تھا؟
  عرض ہے کہ ہم سب  سے اختلاف کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل صاحب یہ مانتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ  ہزار کہہ مکرنیوں کے بعد بھی ہو سکتا ہے اب عمران خان  سچ بول رہے ہوں ۔
سچی بات یہ ہے کہ میری عقل یہی کہتی ہے  کہ مدینہ کی ریاست کے نعرے پر تو یہ منہ اور مسور کی دال کا محاورہ بھی صادق نہیں آتا ۔ یہ ایک بدترین چرب زبانی اور بھدی بڑ ہانکنے کے سوا کچھ نہیں لیکن میرے اندر کا طارق جمیل اب بھی کسی معجزے کا منتظر ہے ۔یہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے۔ میری دعا ہے ہم سب جھوٹے ثابت ہوں اور مولانا طارق جمیل کا گمان درست ثابت ہو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *