جب لکشمی چوک میں ہر طرف علی اعجاز نظر آتے تھے

80 کے عشرے کا آغاز ہوا تو راقم نے پہلی دفعہ گھر چھوڑا اور لاہور شہر آیا۔ گھر میں بوجوہ ٹی وی نہیں تھا، سینیما بھی گناہ کی زندگی میں پہلا قدم سمجھا جاتا تھا۔

ایک دفعہ عید پر سینیما میں جا کر زندگی کی پہلی فلم دیکھی۔ اس کا نام تھا 'ایک گناہ اور سہی۔' اس کے ڈائیلاگ اور گانے آج تک یاد ہیں۔ اس کے بعد پڑنے والے جوتے اس سے بھی زیادہ یاد ہیں۔

لاہور والدین نے پڑھنے کے لیے بھیجا تھا لیکن ہم نے یہاں آ کر بچپن کی محرومیوں کا ازالہ کیا اور سینیما گھروں کو ہی کلاس روم سمجھ لیا۔ اس وقت ایک بھرپور سینیما انڈسٹری موجود تھی اور اردو میں سماجی اصلاحی فلمیں بناتی تھی اور تھوڑی سی فحاشی عریانی دکھا کر اس کے خلاف تبلیغ بھی کرتی تھی۔ پنجابی فموں میں جاگیرداروں کے خلاف گنڈاسہ آ چکا تھا۔ پھر جنرل ضیا کے مارشل لا نے اپنی گرفت کو ثقافتی دھاروں میں پھیلانا شروع کر دیا۔ لاہور میں ایک الحمرا سینیما ہوتا تھا جو One Million Years BC جیسی فلموں کو، جب انسان ننگا تھا، کہہ کر دکھاتا تھا۔

ایک مون لائٹ سینیما تھا عین لکشمی چوک کے بیچ۔ اس پر جب چھاپہ پڑا تو سینیما کے اندر کام کرنے والوں کو تو سزائیں ہوئیںت جو اس کے احاطے میں مونگ پھلی یا گنڈیریاں بیچتے تھے انھیں بھی کوڑے مارے گئے۔

ماضی کو مڑ کر دیکھیں تو سب چانن ہو جاتا ہے لیکن اس وقت کس کو سمجھ نہیں آئی کہ ایک نادیدہ ثقافتی انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے۔ جب سینیما کے باہر کھڑے ریڑھی لگا کر روزی کمانے والے مزدور کو بھی کوڑے پڑنے لگیں تو سینیما انڈسٹری اپنی سمت بدلتی ہے، فلم بدلتی ہے، رائٹر بدلتا ہے، کہانی بھی بدل جاتی ہے۔

علی اعجاز دبئی چلو میں

دبئی چلو علی اعجاز کے کریئر کا سنگِ میل ثابت ہوئی

اس بدلتے منظرنامے میں میں نے پہی دفعہ علی اعجاز کو دیکھا۔ پی ٹی وی پر ایک طویل دورانیے کا ڈراما بنا، 'دبئی چلو۔' اس کے ہدایت کار تھے ہمارے سابق ساتھی عارف وقار۔ ڈراما کیا تھا، گھر گھر کی کہانی تھی۔ جب یہ ڈراما چلا تھا میں نے گنتی کی کہ ہمارے محلے کے 17 گھروں میں سے نوجوان دبئی اور دوسری خلیجی ریاستوں میں مزدوری کر رہے تھے۔ محلے میں کل گھر 22 تھے اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ سب دبئی چلو کے کردار تھے۔

علی اعجاز اس ڈرامے کے ہیرو تھے، ایک معصوم پنجابی نوجوان جو دبئی جانے کے شوق میں نوسربازوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ اس وقت تک علی اعجاز نوجوان تھے لیکن ان کو رول اکثر بابوں والے ملتے تھے۔ اکثر اپنی ہی عمر کی ہیروئن کے دادے کا کردار ادا کرتے نظر آتے تھے۔ دبئی چلو ڈراما اتنا ہٹ ہوا کہ اپنے وقت کے انتہائی کامیاب ہدایت کار حیدر علی چوہدری نے اس پر فلم بنا ڈالی اور ایک اچھا کام یہ کیا کہ زیادہ تر کاسٹ ٹی وی کی رکھی۔ دوچار گانے اور ڈانس ڈالے اور فلم بھی سپرہٹ ہوئی۔

اس کے بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری میں علی اعجاز اور ننھا کا دور شروع ہو گیا۔ علی اعجاز کامیڈی کے سلطان راہی ثابت ہوئے یعنی ایک ساتھ چار چار فلمیں۔ چند سال ایسے گزرنے کہ لکشمی چوک میں جدھر بھی نظر اٹھاؤ، صرف علی اعجاز اور ننھا نظر آتے تھے۔

اس انقلاب سے سب سے زیادہ حیرت خود ان دونوں کو ہوتی تھی جو انقلاب کا مرکز تھے۔ ایک دفعہ بقول علی اعجاز کے ننھا نے اپنے وقت کی سب سے مقبول ہیروئن رانی سے کہا کہ 'تم سے ضرور کوئی گناہ ہوا ہو گا جو تمھیں ہمارے جیسے ہیرو مل رہے ہیں۔'

علی اعجاز اتنی فلموں میں ہیرو آئے لیکن ان کے چہرے پر ایک ابدی حیرت کا تاثر رہتا تھا کہ یا اللہ تو نے مجھے میری اوقات سے زیادہ دے دیا ہے۔ کردار بھی ایسے ہی ملتے تھے، کبھی ٹیکسی ڈرائیور، تو کبھی بےروزگار نوجوان۔ رومینٹک ہیرو بننے سے بیزار ہیرو۔ ایک دفعہ سکرین پر انجمن کا عاشق بننے سے انکار کرتے ہیں تو انجمن زناٹے کا تھپڑ مارتی ہے۔ ظاہر ہے پھر مان جاتے ہیں۔

سالا صاحبایک فلم 'سالا صاحب' میں علی اعجاز اپنے ہونے والے سالے ننھا پر شراب نوشی کا الزام لگا کر پکڑوا دیتے ہیں اور پولیس سے کہتے ہیں کہ اسے کوڑے مارو۔ ننھا کو کوڑوں کی سزا ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ ہسپتال میں پیٹھ پر پٹیاں باندھ کر انتقام کا عہد کرتا ہے۔ میں نے 80 کے عشرے کی اتنی زبردست اور مزاحیہ عکاسی کسی اور فلم میں نہیں دیکھی۔

مرحوم فلم انڈسٹری کے حساب سے کافی کفایت شعار تھے اور ان کے دوست مذاق میں کہتے تھے کہ پاکستان کا پہلا ہیرو ہے جس نے ایک سو فلمیں چار سوٹوں اور چھ ٹی شرٹوں میں بھگتا دی ہیں۔ اس سے پہلے پاکستانی فلموں میں مزاحیہ ہیرو کی روایت کچھ عرصہ رہی تھی جس میں رنگیلا اور منور ظریف مسکراہٹیں بکھیرا کرتے تھے۔

منور ظریف علی اعجاز کے کلاس فیلو اور بچپن کے دوست تھے۔ ان کے ایک قریبی دوست نے انکشاف کیا کہ اداکاری میں منور ظریف علی اعجاز کے استاد تھے اور خود منور ظریف نے اداکاری سیکھنے کے لیے ایک بندریا رکھی ہوئی تھی جس کی نقل کر کے وہ ایکشن کامیڈی سیکھتے تھے۔

علی اعجاز ان چند نیک روحوں میں سے تھے جو ہمیشہ اپنے ٹیلنٹ سے زیادہ اپنی خوش قسمتی کو اپنی کامیابی کی وجہ بتاتے تھے۔ محنتی تھے اور محنت کرنے والوں کی قدر کرنا جانتے تھے۔ جب کبھی ٹی وی پر دیکھا یا ایک دفعہ خود انٹرویو کیا تو اپنے آپ کو اور اپنی اداکاری کو ایک آدھ جگت لگا کر اپنے ساتھی فنکاروں کی تعریف میں لگ جاتے۔

ان کے انتقال سے کوئی پرانا باب ختم نہیں ہوا بلکہ اندھیرے زمانوں میں ہنسنے ہنسانے کی جو رسم انھوں نے ڈالی تھی وہ جاری و ساری ہے۔ پاکستان کے ٹیلی ویژن پر وہ کامیڈین راج کرتے ہیں جن کو ہماری اشرافیہ اجڈ اور پھکڑ باز سمجھتی ہے۔

بلکہ ہمارے برگر بچے اور بچیاں جنھیں یہ بھی نہیں پتہ کہ فیصل آباد کبھی لائل پور تھا، اب سٹینڈ اپ کامیڈی کرتے ہیں۔ ذمے دار اور باوقار پیشوں سے وابستہ خواتین بھی سٹینڈ اپ کامیڈی کرتی ہیں اور ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں میں سے ایسے لطیفے نکالتی ہیں کہ ہم بےاختیار ہنس دیتے ہیں۔

یہ علی اعجاز اور ننھا جیسے لوگوں کا فیض ہے کہ ان کے بعد آنے والے ہمیں ہنسا رہے ہیں اور ہم پر مسکراہٹوں کے نئے جہان کھول رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *