سرفراز احمد نے یاسر شاہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ہتھیار قرار دے دیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے لیگ اسپینر یاسر شاہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ترین ہتھیار قرار دے دیا۔

میچ سے دو روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ میں بہترین تیار کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنچورین کی وکٹ بہت خطرناک ہے اور یہاں چوتھے دن 200 یا زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

سرفراز احمد نے کہا کہ اگر انہوں نے ٹاس جیتی تو وہ پہلے بیٹنگ ہی کریں گے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں مہمان ٹیموں کو ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا رہا ہے بالخصوص جنوبی ایشیا کی ٹیموں کو یہاں شدید مشکلات پیش آتی ہے۔

انہوں نے فاسٹ باؤلنگ کو مدد گار پچ پر بھی عالمی ریکارڈ یافتہ لیگ اسپینر یاسر شاہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ترین ہتھیار قرار دے دیا۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ نے گزشتہ 3 سالوں میں ٹاپ کلاس لیگ اسپنر کا سامنا نہیں کیا جس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز کو سمجھنے میں مکی آرتھر سے بھی مدد ملے گی کیونکہ وہ وہاں کے مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقی ٹیم کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان کے تجربہ کار بیٹسمین اظہر علی نے کہا ہے کہ ٹیم کا مورال بلند ہے اور تمام کھلاڑی جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا بتایا کہ 2013 میں پاکستان کا دورہ جنوبی افریقہ بہت خراب ثابت ہوا تھا، تاہم اس دورے میں پاکستان ٹیم کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ میزبان ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں زیر کرے۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کو پاکستان کے خلاف تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں فٹنس مسائل کا سامنا ہے جہاں ان کے اہم باؤلرز ویرون فلینڈر اور لنگی نگیڈی باکسنگ ڈے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔

جنوبی افریقہ کو 2012 کے مقابلے میں اس مرتبہ اپنے ورلڈ کلاس بیٹسمین اے بی ڈویلیئرز کی بھی خدمات حاصل نہیں ہوں گی اور بیٹنگ کے شعبے کا پورا انحصار ہاشم آملہ پر ہوگا، جبکہ باؤلنگ کے شعبے میں تمام ذمہ داریاں فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین پر ہوگی۔

ادھر ڈیل اسٹین کا میچ سے قبل کہنا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ ریکارڈ بنانے کے بجائے کھیل پر مزکور ہوگی۔

خیال رہے کہ ڈیل اسٹین ٹیسٹ کرکٹ میں صرف ایک وکٹ لے کر جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ لیجنڈ کرکٹر شان پولک کے پاس ہے جنہوں نے 108 میچوں میں 421 وکٹیں حاصل کی ہوئی ہیں جبکہ ڈیل اسٹین بھی 88 ٹیسٹ میچوں میں اتنی ہی وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ 26 دسمبر سے سنچورین میں کھلا جائے گا۔

باکسنگ ڈے ٹیسٹ کیا ہے؟

کرسمس کے اگلے روز یعنی 26 دسمبر کو باکسنگ ڈے کہا جاتا ہے اور آسٹریلیا کے تاریخی میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ہر سال 26 دسمبر سے 30 دسمبر کے درمیان کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کہلاتا ہے، جس میں آسٹریلیا کے مقابلے میں کوئی بھی دوسری قومی ٹیم میدان میں اترتی ہے۔

رواں سال میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف بھارتی ٹیم باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیلے گی۔

آسٹریلیا کا میلبورن کرکٹ گراؤنڈ 1980 کے بعد سے ہر سال 26 دسمبر کو ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرتا چلا آرہا ہے۔

پاکستان ٹیم اب تک 4 بار 'باکسنگ ڈے ٹیسٹ' کھیل چکی ہے، پہلی بار 1983 میں کھیلا گیا میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا جبکہ 2004 میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 9 وکٹ سے شکست دی۔

2009 میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 170 رنز سے ہرایا جبکہ 2016 میں کھیلا جانے والا باکسنگ ڈے ٹیسٹ بھی کینگروز کے نام رہا جو اس نے ایک اننگز اور 18 رنز سے اپنے نام کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *