جناح کی روح

وینکاٹ ڈھولیپالا  کی کتاب Creating a New Medina: State Power, Islam, and the Quest for Pakistan in Late Colonial North India  معلومات کا  ایک خزانہ ہے جس میں 1940 کی دہائی میں پاکستان کے قیام کے بارے میں ہونے والے مباحث اور گفت و شنید کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔ بہت سے پڑھے لکھے افراد کے خیال میں پاکستان ایک حادثہ کے طور پر قائم ہوا  جس کا باعث مسلم لیگ اور کانگریس  ک ملک کر معاملات حل  کر سکنے میں ناکامی تھی۔ دھولیپالا نے اخبارات، پمفلٹ، کتابیں ، رسالے اور دفتری دستاویزات سے ایک جامع ریسرچ کر کے  یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کا نظریہ، اس کے مخالفین اور حمایتی دونوں کے لیے اتنا غیر مبہم نہیں تھا  اور اس پر عوامی سطح پر بہت بحث و مباحثہ ہوا تھا۔

اس کتاب میں بہت سی اہم اور دلچسپ گفتگو، مباحث اور کہانیاں بیان کی گئی ہیں  اور ایک روحانی اجتماع اور اس میں جناح کی روح کی موجودگی کا بھی ذکر ہے جو سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔یہ خاص  اجتماع 13 مارچ 1955 کو منعقد ہوا۔  اس کی تفصیلات کو ریکارڈ کیا گیا اور جناح پیپرز میں شامل کیا گیا۔ ڈھولیپالا نے جناح پیپرز کی مائیکرو فلم بنائی اور اسے برٹش لائبریری میں شامل کروایا۔ میں نے نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر  کے ڈائریکٹر مسٹر قمر الزمان سے رابطہ کیا  اور اس اہم دستاویز کی ایک کاپی فراہم کرنے کی درخواست کی۔ علمی تحقیق کا شوقین ہونے کی وجہ سے  مسٹر قمر الزمان نے مثبت جواب دیا۔ انہوں نے نیشنل آرکائیوز آف پاکستان سے مجھے اس کی ایک کاپی حاصل کر کے بھیج دی۔ یہ خاص فائل جس کا ریفرنس نمبر ایف 1067 ہے  پچھلی کئی دہائیوں سے عوام کےلیے اوپن ہے  لیکن وینکن ڈھوپیوالا کے اس کی طرف توجہ دلانے سے قبل کسی کی اس طرح توجہ نہیں گئی۔

مکمل فائل 13 صفحات پر مشتمل ہے۔جناح کی روح اور روحانی شخصیت کے بیچ جو مختصر گفتگو ہوئی اس کا تذکرہ فائل کے آخری 2 صفحات میں موجود ہے۔ فائل کا باقی حصہ  روحانی اجتماع سے بلکل غیر متعلق ہے  ۔ یہ اصل میں 'دی سن پبلشنگ ہاوس' کے  مینیجنگ ڈائریکٹر  کی طرف سے بھیجے گئے خطوط کا ایک ریکارڈ ہے  جس میں انہوں نے جناح کی زندگی کے بارے میں تفصیلات مانگی ہیں  تا کہ وہ اپنی کتاب Who’s Who in India, Burma and Ceylonکے اگلے ایڈیشن میں ان تفصیلات کا ذکر شامل کر سکیں۔ ڈائریکٹر نے کچھ سوالات لکھ کر جناح کو بھیجے۔ اس چیز نے جناح کے پیپرز کو آرکائیو کرنے والے شخص کو کنفیوژ کر دیا  اور اس نے فیصلہ کیا کہ اس ریکار کو روحانی اجتماع کے  ریکارڈ کے ساتھ شامل کر دیا جائے  کیونکہ اس معاملے میں بھی کچھ تفصیلات کے لیے سوالات پوچھے گئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جس شخص نے سوال پوچھے تھے وہ ایک روحانی شخصیت تھی  اور جوابات جناح کی روح دے رہی تھی۔ فائل میں اس اجتماع کے سیاق و سباق کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس میں میٹنگ کی لوکیشن کا بھی تذکرہ نہیں  اور نہ ہی اس کے مقاصد اور اس میں شامل لوگوں کا ذکر ہے۔ لیکن جس تاریخ کو یہ سیشن منعقد ہوا  اور گفتگو کے متن کے بارے میں کچھ اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔

یہ سیشن پاکستان کی تاریخ کے اہم موڑ پر واقع ہوا تھا۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے 1954 میں قانون ساز اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔ مولوی تمیز الدین جو اسمبلی کے صدر تھے  نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر دی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر جورج کانسٹینٹائن نے  فیصلہ دیا تھا کہ گورنر جنرل کا فیصلہ غیر قانونی ہے  کیونکہ ان کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ گورنر جنرل نے فیڈرل کورٹ میں اپیل کی اور  اس کے چیف جسٹس محمد منیر سے اس  فیصلے کے خلاف رجوع کیا۔

یہ روحانی اجتما ع تب منعقد ہوا جب مارچ 1955 میں اس اپیل پر کاروائی شروع ہونے کو تھی۔ اس  اجتماع کے مقصد کے بارے میں اس وقت جناح اور ایک روحانی شخصیت کے بیچ جو گفتگو ریکارڈ کی گئی اس سے بھی  اس دور مین سیاست کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم  اس گفتگو کے متن کو دیکھ کر اندازہ لگا  سکتے ہیں، جناح کی روح نے گورنر جنرل اور کنسٹیٹیواینٹ اسمبلی کے صدر کے بیچ اختلافات پر  ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے داخلی امن کی خاطر ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔  لیکن جناح کی روح کو بلایا کیوں گیا؟  یہ آئیڈیا کس کا تھا؟ اس سارے عمل  کا اصل محرک کیا تھا؟ ان سوالوں کے کچھ سیدھے جوابات میسر ہیں۔ چونکہ جناح پاکستان کے بانی تھے اس لیے انہیں عزت اور تقدس کی جگہ پر رکھ کر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ ظاہر کر کے کہ جناح  گورنر جنرل کے ساتھ ہیں، رولنگ ایلیٹ کو  فائدہ پہنچایا جا سکتا تھا  اور یہ بھی  دکھایا جاسکتا تھا کہ جناح اپنی بہن کو سیاست میں داخل ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔

یہ بات ماننے کی بہت سی وجوہات ہیں کہ روحانی اجتماع  کا انعقاد گورنر جنرل کے حکم پر ہی ہوا تھا۔ قدرت اللہ شہاب جو خود ایک روحانی شخصیت اور سینئر بیوروکریٹ تھے   وہ 1950 کی دھائی میں گورنر جنرل  ہاوس کے بہت قریب تھے۔ ان کی مشہور آپ بیتی 'شہابنامہ' میں انہوں نے ان وقتوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے غلام محمد کے ساتھ گزارے تھے۔ شہاب کے مطابق غلام محمد کو ایک دورہ پڑا جس سے ان کی بولنے کی صلاحیت متاثر ہوئی  اور ان کی ذہنی صلاحیتوں پر بھی گہرا اثر پڑا۔ وہ ایک ناقابل سمجھ رویہ اختیار کر چکے تھے اور ان میں بچپنہ جیسے خصوصیات پیدا ہو گئی تھیں۔ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کی وجہ سے  انہیں ریاست کے امور سنبھالنے کے قابل نہیں سمجھا جا رہا تھا۔

اس لیے غالب گمان ہے کہ  یہ ایک درست بات ہو کہ وہ séance  سرکاری سطح پر گورنر جنرل کے دفتر میں ملک غلام محمد کی ایما پر  منعقد ہوا ہو ۔ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت اور ان کی قانونی لڑائیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شاید وہ اس طرح کے روحانی تجربے سے اپنی طاقت واپس حاصل کرنا چاہتے ہوں۔  لیکن اس سے بھی اس عمل کے اصل مقصد کی مناسب وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ اگر اس قانونی جنگ میں جناح کی روح  بھی گورنر جنرل کے ساتھ ہوتی  تو بھی اس رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی  خاص طور پر اس وقت تک جب تک یہ عوام کے سامنے نہیں لائی جاتی۔ مجھے ایسا کوئی اخباری تراشہ یا خبر نہیں ملی  جس میں اس اہم سیشن کی تفصیل شائع ہوئی ہوں۔

پاکستان کی تاریخ میں بھی روحانیت اور خواب جیسے دعوے  کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چونکہ تقسیم ہند کے وقت بھارت یہاں بہت سے  روحانیت کے مقامات چھوڑ گیا تھا  اس لیے پاکستان بھر کا علاقہ اس روحانیت کے اثرات  کے زیر اثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں واصف علی واصف، قد رت اللہ شہاب، کیپٹن وحید بخش سیال جیسے شہرہ آفاق روحانی شخصیات پیدا ہوئی ہیں ۔ ان تمام صوفی شخصیات نے اپنے تحریروں کے ذریعے پاکستان کے روحانی پہلو کو اجاگر کیا  اور دنیا کے سامنے  پاکستان کو اس کردار سے روشناس کروایا جو یہ عالمی اسلامی دنیا میں ادا کر سکتا تھا۔

اس طرح کے ویژن کی بے عقلی بنیادوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے انہیں  سنجیدگی سے دیکھا  اور احتیاط سے پڑھا جانا چاہیے  تا کہ پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں پر ان کا اثر واضح کیا جا سکے  اور ان طریقوں کا تجزیہ کیا جائے جن  کے ذریعے پاکستانی شہری اپنے اور اپنے ملک کے بارے میں  سوچتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *