ایک پریشان کن معمہ

ایک ہولناک اور سیاسی طور پر پریشان کن سال کے بعد میرے لیے  2018 کی سب سے پریشان کن چیز سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے سی ای او میاں جاوید کی ہتھکڑیوں والی لاش کی تصویر  ہے۔ لگتا ہے کہ مرحوم نے بغیر ایک چارٹر کے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا ہوا تھا، اور  اس وجہ سے گریجویٹ ڈگری جاری کرنے کا اہل نہیں تھا۔ شاگردوں نے احتجاج کیا تو خبر ہمارے انتھک چیف جسٹس  تک پہنچی جنہوں نے نیب کو تحقیق کرنے کا حکم دیا۔

مسٹر احمد کو گرفتار کیا گیا اور اکتوبر میں حراست میں لیا گیا، جو صرف پچھلے ہفتے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ یہ تو کیس کی عام تفصیلات ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ انہیں کس طرح کے دباؤ میں رکھا گیا۔ نیب عہدیداران اپنے شکنجے میں پھنسے ہوئے بد قسمتوں کے ساتھ ہمدردی اور حساسیت کے لیے نہیں جانے جاتے۔

حال ہی میں نیب کے چیئر مین جاوید اقبال نے دعویٰ کیا کہ ان کی آرگنائزیشن کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے  اور یہ کہ وہ کسی قسم کی انتقامی کاروائیاں نہیں کرتے۔ اچھا تو انہوں نے مجھے  بے وقوف بنایا ہو گا۔ جب سے 60 سال قبل ایوب خان کے زیر نگرانی احتساب کا سلسلہ شروع ہوا تب سے اس کا مقصد سیاسی حریفوں کو کچلنا تھا۔ جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں، تب سے اب تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔

نیب کے سربراہ نے جولائی انتخابات سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے اپنی ساکھ کھو دی جب انہوں نے نواز شریف پر 4.9 بلین ڈالر انڈیا بھیجنے کے دعوے پر تحقیق کا حکم دیا تھا۔ یہ الزام اسلام آباد کی ایک اخبار کے ایک کالم کی بنیاد پر لگایا گیا تھا جو  جسٹس اقبال کی نظرمیں آیا  جس میں یہ ہندسہ درج تھا۔

حقیقت میں یہ ہندسہ بذات خود  فرضی ہے۔ اسے ورلڈ بینک  کی تحقیق سے لیا گیا جس میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہر علاقے سے کتنی رقم مہاجرین اپنے گھروں کو بھیجتے تھے۔ پاکستان سے بھارت جتنے لوگوں نے ہجرت کی ان کی بھارت اپنے خان دان کے پاس جانے والی کل رقم 4.9 بلین ڈالر  بنتی ہے۔ چونکہ یہ رقم قومی خزانے میں نہیں پہنچی اس لیے یہ فرض کر لیا گیا کہ  یہ رقم نواز شریف نے غائب کی ہے۔

میں اس دعوے کی حساسیت کالم چھپنے سے قبل اس کے بارے میں چھان بین کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہوں لیکن یہ سمجھ پانا مشکل ہے کہ کیسے نیب چیئرمین، ایک ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج، ایسے کسی مضحکہ خیز الزام میں دلچسپی لے سکتا ہے۔ اس سے بھی آگے کی بے وقوفی دیکھیے۔

 عمران خان جیسے سیاست دان بھی اس دعوی پر شور ڈالنے میں مصروف ہو گئے میڈیا پر پروپیگنڈا کیا گیا اور پھر اس کہانی کو کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا گیا۔ لیکن  جب سابق وزیر اعظم نے ہتک عزت کا ایک ارب ہرجانے کا نوٹس بھیجا تب بھی جسٹس اقبال  نے معذرت کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن پاکستان میں غلط خبر کی وجہ سے کبھی کوئی شخص ہتک عزت کے دعوے کے کیس کی سنجیدگی سے پیروی نہیں کرتا اس لیے کوئی بھی نتائج سے بے پرواہ ہو کر کسی کے کردار پر بھی کیچڑ اچھال سکتا ہے۔

میری پریشانی صرف سرگودھا کے پروفیسر کی موت اور ہتھکڑی لگی لاش سے متعلق نہیں ہے  اور نہ ہی میرا تعلق نیب چئیرمین کے الفاظ اور کام سے ہے۔مجھے صرف یہ پریشانی لاحق ہے کہ اس احتساب کے عمل کو کیسے بھر پور طریقے سے سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ در حقیقت نواز شریف کو  بھی یاد ہونا چاہیے کہ ان کے احتساب کمشین نے کیسے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کو نشانہ بنایا۔

دوسرے ممالک میں بھی ایسے ہی اینٹی کرپشن ادارے ہیں لیکن عام طور پر مشکوک افراد کو 90 دنوں تک جرم ثابت کیے بغیر ہتھکڑیاں لگا کر دھکیلتے ہوئے جیل نہیں لے جایا جاتا۔ نیب کو اتنے کھلے اختیارات دیتے ہوئے ہم نے ایک  ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جو کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔

واضح طور پر ہم معاشرے سے رشوت خوری ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا کرنے کے لیے نظام اور عمل کو سیاسی حصار سے آزاد اور غیر جانبدار ہونا ہو گا۔ 2.6 بلین روپے کے بجٹ کے ساتھ نیب بہت ساری تحقیقات چلا سکتی ہے اور چلاتی ہے۔ تاہم، یہ حقیقت کہ بر سر اقتدار  جماعت کے صرف چند ارکان  کے خلاف جانچ پڑتا ل کا عمل دیکھنے کو ملا ہے باوجود اس بات کے کہ ان کے خلاف بڑے اور اہم نوعیت کے الزامات ہیں  اس کی وجہ یہ ہے کہ  نیب عہدایداران جانتے ہیں کہ  وہ حزب اختلاف کے خلاف تو کاروائیاں کر سکتے ہیں لیکن حکومت سے جڑے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے سے  ان کا بجٹ روکا جا سکتا ہے۔ ۔

شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے پبلک اکاؤنٹس کا چیئرمین  مقرر کرنے میں اتنا عرصہ لگنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ عمران خان کو ڈر تھا کہ اپوزیشن لیڈر آڈیٹر جنرل  سے اپنی پارٹی کے لوگوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی خود بھی مستقبل میں آڈٹ  کے اعتراضات سے بچنا چاہتی تھی۔ سچ یہ ہے کہ جب سب سیاستدان یہ کہتے ہیں کہ وہ کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو  تب بھی وہ نہیں چاہ رہے ہوتے کہ ان کی اپنی پارٹی کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں لائی جاے۔

اس سب  عمل کے دوران یہ تو نظر آ رہا ہے کہ نیب تمام سیاستدانوں کے خلاف کاروائی میں بہت محرک ہے، کوئی بھی شخص عدلیہ اور فوج کے احتساب کے بارے میں آواز نہیں اٹھا رہا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قومی خزانے کو نقصان صرف کمیشن اور رشوت خوری کے ذریعے نہیں پہنچتا ۔ ملک کو جنگ میں دھکیلنے سے جیسا کہ مشرف نے کارگل کے واقعہ میں کیا، اس سے بھی پاکستان کو کئی جانیں اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔  اور سٹیل ملز کی نجکاری کے بارے میں فیصلہ دے کر سابق چیف جسٹس کروڑوں کے نقصان کا سبب بنے۔ ان دونوں واقعات کے ذمہ داروں کو  ان بڑے نقصانات پر کسی قسم کے احتساب کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ کسی نے ان کو اپنے ان کاموں کی وجہ بیان کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *