قصہ ایک انوکھے ختنے کا !

لکھنا تو سیاست پر چاہتا تھا لیکن پھر "اعلیٰ ترین "حکام کی نصیحت یاد آئی کہ بھئی کم از کم چھ ماہ مثبت لکھنا ہے۔ اور اس کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ ن لیگ اور پی پی کا ڈنک نکالا جارہا ہے۔ اب یہ لوگ طیب اردوغان تو ہیں نہیں کہ لوگ ان کی خاطر جان پر کھیل جائیں۔ لہٰذا بڑے بڑے لکھاری یا ادھر ادھر کی لکھیں گے یا علم وحکمت اور جمہوریت کے مرثیے کہے جائیں گے۔ سو ہم بھی آپ کو ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں۔ اصل میں آج ایک ہنگامہ ہو گیا۔
 دانیال بیٹے کو بخار ہوا تو اسے اپنے دوست ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر لے گیا۔ پہنچا تو وہاں ایک پوری فلم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب آج روز جراحت منا رہے تھے ۔معلوم ہوا کہ ختنہ  کرانے کچھ بچے کلینک میں موجود ہیں اور وہ ایک بارہ برس کے لڑکے کے ختنے کے دام طے کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب باقاعدہ کوالیفائیڈ ہیں اور حیرت انگیز مسیحا ہیں ۔ حیران کن حد تک بہت کم فیس لیتے ہیں اور اللہ نے ہاتھ میں شفا بھی دی ہے۔ہمیں ان کے سوا کسی ڈاکٹر پر اعتماد نہیں۔ باقی ڈاکٹر آلا ما شاءاللہ ایسے ہیں کہ آپ گھٹنے کی درد کا کہیں گے اور وہ آپ کو گردوں کا ٹیسٹ کرانے کا حکم دیں گے۔ اس لیے ہم انھی کی دوا پر اکتفا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب انگریزی ڈاکٹر ہونے کے باوجود پورے پورے دیسی ہیں ۔ یہی دیکھ لیں وہ لڑکے کے ختنے کے دام طے کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنا محنتانا بتایاجو معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ لڑکے کے ماموں نے احتجاج کیا کہ اس کے کزن کے ختنے تو اس سے خاصی کم فیس میں ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب شان بے نیازی سے بولے کہ اس کی عمر بھی تو بہت کم تھی اور تم تو بارہ برس تک انتظار کر کے آئے ہو۔میرے قریب  بیٹھے ایک مریض نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب درست کہہ رہے ہیں آخر آپریشن کی جگہ بھی تو بڑی ہو گئی ہے نا۔ ان کے اس تبصرے پر کچھ بزرگ خواتین نے بہت ناک بھوں چڑھائی اور قدرے جوان خواتین زیر لب مسکراۓ بغیر نہ رہ سکیں۔ اتنے دیر میں ڈاکٹر صاحب نے لڑکے کو بیڈ پر لٹانے کو کہا۔ ایک خاتون نے لڑکے کی والدہ سے پوچھا کہ انھوں نے اتنی دیر کیوں کی ؟ تب اس دیہاتی خاتون نے اپنے شوہر نام دار کی والدہ محترمہ کے ایک حرام جانور کے ساتھ ناجائز تعلقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیٹے کی "وڈی سنتیں "کرنے کا شوقین تھا۔ اور اب میرا بیٹا "ذبح "ہونے جارہا ہے اور وہ خود "مورا" آج بھی نہیں آیا۔ کہتا ہے کہ میں یہ منظر دیکھ نہیں سکتا۔ اور یہ تو بچے کو اس کے دوست' عیسائی ' کہہ کر چھیڑے تھے ، اسے نماز نہیں پڑھتے دیتے تھے کہ تو ابھی مسلمان ہی نہیں تو نماز کیسے پڑھ سکتے ہو۔ اس پر ایک خاتون نے دانتوں میں انگلی دابتے ہوئے نکتہ آفرینی کی : " باجی !کیا تم اپنے بچے کو ننگا سکول بھیجتی ہو؟ " ساتھ آئے بچے کی دادی نے بہو کو " زبان منہ میں رکھنے کا حکم دیا اور ڈاکٹر صاحب کو کہا وہ اپنا کام جلدی تو کرے لیکن خیال رہے کہ کل کو بیٹے کی شادی بھی کرنی ہے اس لیے قلم کی طرح خوبصورت کٹ لگائیں۔ کل کو سسرالیوں نے نقص نکال دیا تو بہت شرمندگی ہو گی۔  ایک مریض سے نہ رہا گیا ، بولا : " تو آپ کے ہاں لڑکے کے اعضاء کی بھی" منہ دکھائی" ہوتی ہے ؟ اور میں نے ڈاکٹر صاحب کو پہلی دفعہ کلینک میں کھل کھلا کر ہنسنے دیکھا۔ ایک خاتون نے اپنا تجربہ بتا یا کہ بڑے بچوں کا ختنہ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ ان کا زخم خراب ہو جائے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں ۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر صاحب اپنی کارروائی کا آغاز کر چکے تھے۔ اور لڑکا اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے تمام ذ مہ داروں کو بے نقط سنا رہا تھا۔ کچھ قابل اشاعت گستاخیاں ملاحظہ فرمائیں۔ : " اوۓ یزید تے شمر کی اولادو، تمہیں ذرا ترس نہیں  آیا مجھ پر ؟ تم تو دہشت گردوں سے بھی ظالم ہو !کیا ملے گا میرے ساتھ یہ سلوک کر کے؟ تم سے  کافر اچھے ہیں ، اپنی اولاد پر یہ ظلم تو نہیں کرتے، مسلمان ہونے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ؟
اور اس موقع پر مجھے اجیت سنگھ یاد آگیا۔ ہمارا یہ سکھ دوست کسی تبلیغی جماعت کے ہتھے چڑھ گیا۔ بے چارا صرف ماں باپ کی نظر میں " چاند " تھا۔ میٹھی میٹھی باتیں اور حوروں کے لالچ میں اسلام قبول کر بیٹھا۔ انھوں نے جب چلے پر چلہ اور تہجد سے عشاء تک 9 نمازیں پڑھائیں تو ایک ماہ بعد ہی باغی ہو گیا۔ کہنے لگا کہ یہ تو " ویلوں " کا مذہب ہے ، میں دوبارہ سکھ ہو جاتا ہوں ۔ مولوی صاحب نے اسے گردن سے پکڑا اور آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ اسلام تم نے اپنی مرضی سے قبول کیا ہے لیکن چھوڑ اپنی مرضی سے نہیں سکتے
 اسلام ترک کرنا مرتد ہونا ہے اور ایسا کرو گے تو سر قلم کر دیں گے تمھارا! اجیت سنگھ رونی صورت بنا کر بولا : مولوی جی ، عجیب مذہب ہے تمھارا! داخل ہوں تو نیچے سے کٹوانا پڑتا ہے اور باہر نکلو تو اوپر سے !
خیر اس بارہ برس کے بچے نے اپنا احتجاج جاری رکھا تو اس کی ماں نے اسے ایک جھانپڑ رسید کیا۔ تب وہ بولا: ماں تم نے مسلمان نہیں ہونا ، تم کراکر دیکھو ، پھر تمہیں پتا چلے گا کتنی درد ہوتی ہے۔ اس موقع پر اس کے ماموں نے اس  کے  منہ پر ہاتھ  رکھا تو اس نے اسے کاٹ کھایا۔ وہ غصے میں بولا : " اس کواسی طرح رہنے دو، شاددی ہو گی تو بیوی خود کرالے گی او ر ساتھ ساتھ  پیار بھی کرے گی۔ ہم تو اسی طرح ٹھکائی کریں گے اس نا ہنجار کی!
اب اس کی والدہ کو ترس آرہا تھا۔  بولی؛ بیٹا تین دفعہ 'یاعلی مدد'  پڑھو ، درد نہیں ہو گا ۔ وہ بولا تیس دفعہ پڑھ چکا ہوں ، بہت  ہو رہا ہے۔ اتنی دیر میں لڑکے کا والد بھی آگیا۔ وہ اس کے لیےجوس لایا تھا مگر لڑکا غصے سے بولا کہ ان کو دو جن کی تم نے چھوٹی عمر میں ' سنتیں ' کرا دیں اور مجھے بڑا ہو نے دیا۔ باپ بولا کہ تم تین بہنوں کے بعد جو پیدا ہوئے تھے ، اس لیے۔ ڈاکٹر صاحب کو اس بے تکی وجہ پر غصہ آگیا، بولے: چل پھر آکر اس ٹانگیں کھول ، اس وقت سے یہ جوڑ کر بیٹھا ہوا ہے ۔  تب مجھے عمران نامی  لڑکا یاد آگیا۔ وہ دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میں ان دنوں بچوں کے مشہور میگزین پھول سے وابستہ تھا۔ عمران نے ہمارا فین تھا ۔  ایڈیٹر کی ڈاک میں خط لکھا کہ اس کے والدین اس کے ختنے کرانے لگے ہیں اور وہ یہ بے شرمی کا کام کسی طرح نہیں ہونے دے گا۔اس نے گھر سے نکل جائے کی دھمکی دے دی
 تب میں نے اس کے والدین کو جہاں سخت سست کہا وہاں انھیں یہ مشورہ دیا کہ کسی اچھے اسپتال سے کروائیں تاکہ یہ کام بے ہوشی یا درد کے بغیر ہو سکے۔ کسی" نایی" کے چکر میں نہ پڑیں ۔ دوسراخط میں نے  لڑکے کو لکھا ،جس میں اسے سمجھایا کہ انسان کے بڑے بڑے آپریشن ہوتے ہیں یہ تو  ایک معمولی سا آپریشن ہے۔ جیسے ناخن کاٹنا ضروری ہے ویسے ہی یہ بھی صفائی ستھرائی کے لیے ضروری ہے۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی لیکن اس نے ختنہ کروانے کے بعد دو صفحات کا آرٹیکل لکھ بھیجا کہ میرے ختنوں کا آنکھوں دیکھا حال!
 خیراللہ اللہ کر کے یہ مہم جوئی مکمل ہوئی تو میں سوچنے لگا کہ بڑی عمر میں ختنہ کرانا تو ہمارا قومی مزاج  ہے ! آخر بھٹو ، نواز شریف، زرداری، الطاف حسین، خادم حسین بھی تو وہی لوگ ہیں جن کے ختنے بڑے ہونے کے بعد  کیے  گئے اور ساری قوم نے تکلیف بھگتی! اب  اس کے بعد عمران خان، حافظ سعید اور بلاول وغیرہ کی باری آئے گی ۔ یوں دنیا جمھوری روایات مضبوط کرتی ہے اوہ ہم ختنہ ختنہ کھیلتے ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *