نیا سال، نئی قیادت، نئے چیلنجز

سال 2019ء پاکستان کا ایسا منفرد سال ہے، جس میں ملک کے اندر بیک وقت سیاسی، عدالتی اور عسکری شعبوں میں نئے ممکنہ چہرے سامنے آ رہے ہیں جو ملک کی مجموعی صورتحال میں براہ راست یا بلواسطہ طور پر تبدیلی کا باعث ضرور بنیں گے۔

سیاسی میدان میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف تو ایوان اقتدار میں نووارد ہی ہے مگر عوام کو اس نئی حکومت سے توقعات بہت ہیں۔ یہ توقعات معیشت کے میدان میں تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث ٹوٹ رہی ہیں۔ تاہم معیشت اور اداروں میں اصلاحات کی عوامی امیدیں ابھی قائم ہیں۔ عوامی سطح پر لوگوں کو وزیراعظم عمران خان سے تعلیم، صحت اور امن عامہ یا پولیس سے متعلقہ امور میں فوری اصلاحات کی توقع ہے جبکہ اندرونی ایجنڈے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کو خارجہ امور باالخصوص پڑوسی ممالک بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ پرامن تعلقات کے قیام کے مشکل ترین چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال یقینی طور پر خارجہ پالیسی کا ایک کلیدی جزو رہے گی مگر سب سے اہم یہ ہے کہ رواں سال کے آخر میں ایشیا پیسفک گروپ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لے کر اسے گرے سے بلیک لسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی کرنا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایشیا پیسفک گروپ میں شامل ممالک نے پاکستان کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ہمیں بلیک لسٹ میں ڈال دیا تو اس سے ہمیں فوری طور پر معاشی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پہلے سے خراب معیشت کے لیے کسی تباہی سے کم نہیں ہوں گی۔ ظاہر ہے اس سے اندرونی سطح پر بھی ایک بھونچال کی سی کیفیت ہو گی۔ اس سب سے بچنے یا نکلنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ اچھے برے طالبان، حقانی نیٹ ورک، جماعت الدعوہ وغیرہ کے بارے واضع طور پر پالیسی ایشیا پیسفک گروپ کے مطالبات میں شامل ہے۔ ظاہر ہے یہ سب سول ملٹری انڈرسٹینڈنگ کے بغیر ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا۔

تاحال زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ معیشت، داخلی و علاقائی امن اور خارجہ امور میں پہاڑ جیسے بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت کے پاس باصلاحیت افراد پر مبنی ٹیم کا فقدان ہے اور شاید وزیراعظم کے لئے اپنی موثر ٹیم بنانے کے لیے اکھاڑ پچھاڑ کرنا ہی سب سے بڑا چیلنج بھی ہے۔ مگر فی الحال تو وہ تمام وزیروں کو سو میں سے سو نمبر دے کر خوش ہیں۔ بحران اور چیلنجز آتے ہی سو میں سے سو نمبر لینے والے سب نہیں تو کچھ چیدہ چیدہ چہرے بدل جائیں گے۔

چیلنجز کا سامنا صرف وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت کو ہی نہیں ہے بلکہ اس حکومت کو سیاسی محاذ پر جن دو بڑی جماعتوں یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا سامنا ہے و ہ دونوں خود مسائل کا شکار ہیں، جو بہرحال حکومت کے لیے اچھی خبر ہے۔

توقع یہ کی جا رہی تھی کہ مسلم لیگ ن سے اسٹیبلشمنٹ کی کٹی کے بعد شاید پیپلزپارٹی بی ٹیم کا کردار ادا کرئے گی۔ دونوں بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت گرانے اور صدارتی انتخابات جیسے اہم امور میں ایک دوسرے کے قریب بھی نظر آئے۔ مگرجونہی یہ معاملات مکمل ہوئے اور ن لیگ کی پرانی قیادت اپنے انجام کو پہنچی، کھیل کے پس پردہ کھلاڑیوں نے بھی منہ موڑ لیا اور واضع کر دیا کہ ان کی ترجیع سیاسی استحکام کی بجائے احتساب ہے۔

جعلی اکاونٹس کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں جس طرح سابق صدر آصف علی زرداری ان کی بہن فریال تالپور اور اس ٹیم کے دیگر کردارو ں کے بارے میں مبینہ کرپشن کے ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس نے پیپلز پارٹی کو بدنام تو کیا ہے مگر پارٹی کے اندر سے بلاول بھٹو کو بھی سیاسی جماعت کے نئے سربراہ کی حیثیت سے کردار ادا کرنے کا موقع بھی مل گیا ہے۔ گو کہ اس رپورٹ میں بلاول بھٹو کو بھی جعلی اکاونٹس سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں دکھایا گیا ہے تاہم فوکس بلاول نہیں ان کے والد آصف علی زرداری اور فریال تالپور ہیں۔ فی الحال مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ملزمان کی فہرست میں بلاول کا نام موجود نہیں۔ تاہم بلاول کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ پر ممکنہ کڑی تنقید خود انہیں بھی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کی سیاست سے تاحیات نااہلی اور اس کے بعد اسی کیس میں عدالتی ٹرائل کے بعد اس سال گرفتاری واضع ہو چکی ہے۔ بلاول کھیل کو سمجھے بغیر آگے بڑھے تو ممکنہ طور پر سیاست کے میدان میں ان کی آنٹی صنم بھٹو اور بہن آصفہ زرداری بھی اتر سکتی ہیں۔

نئے سال میں مسلم لیگ ن بھی عجیب مخمصے کا شکار ہے۔ پارٹی کے بانی قائد جیل میں ہیں تو قائد کے نامزد پارٹی صدر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی نیب کے ہاتھوں گرفتار۔ شہباز شریف گرفتار ہو کر بھی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں مصالحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ایک بیٹے سلیمان شہباز کو بچانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ سلیمان شہباز خاموشی سے لندن پہنچ گئے ہیں اور وہاں سے بیٹھ کر طاقت کے اصل کرداروں سے رابطوں میں ہیں۔ مریم نواز، نوازشریف کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہیں اور سوشل میڈیا پر متحرک بھی ہوئی ہیں۔ مگر احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھ رہی ہیں۔ وہ ماضی کے برعکس عسکری اداروں اور عدلیہ سے محاذ آرائی سے واضع طور پر گریزاں ہیں۔ مقصد ہائیکورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ سے اپنی بریت کو یقینی بنانا ہے تا کہ بعد میں سیاست میں نوازشریف کی جگہ پارٹی صدارت سنبھال کر کوئی کردار ادا کر سکیں۔

دوسری طرف شہباز شریف کے بیٹے حمزہ اور سلیمان آج نہیں تو کل ان کے لیے چیلنج ضرور ثابت ہوں گے۔ اس سال مریم نواز کی جانب سے دھواں دار بیانات کی توقعات تو کی جا رہی ہیں مگر شاید وہ ایسا نہیں کریں گی کیونکہ ان کی بچت اسی میں ہے۔ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے پیدا ہونے کے بعد ہی زبان کھولیں گی۔ شاید انہیں اس سال کی اہم ترین تبدیلیوں کا احساس اور اسٹیبلشمنٹ کی ممکنہ قبولیت کی آس بھی۔ فی الحال فوری طور پر ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ مگر حکومت کی ناکامی کسی بھی وقت کہانی پلٹ سکتی ہے اور شریف خاندان کو اندر ہی اندر اسی بات کا انتطار ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی مکمل طور پر خاموش ہے۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری کے خلاف کیسز پر جماعت کی طرف سے ہلکے پھلکے بیانات تو سامنے آئے مگر جوش غائب تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس جماعت کے بہت سے رہنماوں کے اپنے کیس نیب میں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی مصالحانہ پالیسی اور کرپشن کے الزامات نے پشتون آبادی کے سب سے بڑے صوبے خیبر پختونخوا  اور فاٹا میں پشتون تحفظ موومنٹ اور اس کے سربرہ منظور پشتین کو غیر معمولی مقبولیت دے ڈالی ہے۔ منظور پشتین جس تیزی سے پشتون آبادی میں مقبولیت پکڑ رہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتون بھائی خود پر لگے زخم بھولنے کو تیار نہیں بلکہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بینر تلے تیزی سے جمع ہو رہے ہیں۔ منظور پشتین اور اس کی جماعت کا اس سال سب سے بڑا چیلنج عسکری اداروں سے محاذ آرائی سے گریز کرنا اور خود کو بچا کر اپنے آئینی مطالبات کو منظور کروانا ہو گا۔ کسی بھی جانب سے محاذ آرائی ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہو گی بلکہ یہ ایسے بحران کو بھی جنم دے سکتی ہے جسے شاید کوئی بھی کنڑول نہ کر پائے۔

اس سال کے آخر میں جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اپنی مدت ملازمت پوری کر رہے ہیں۔ جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی مدت ملازمت میں توسیع نے بعد میں آنے والے تمام عسکری سربراہان کے لیے ملازمت میں توسیع کی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ جنرل کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف کے بارے میں بھی ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ اپنی ملازمت کے آخر میں اس کی توسیع کے خواہاں رہے ہیں۔ یہ مثال مسحور کن ضرور ہے مگر قابل تعریف ہر گز نہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ قریب آتے ہی بعض حلقے یقینی طور پر ان کی ملازمت میں توسیع کے مطالبے کریں گے۔ امید ہے جنرل قمر باجوہ ایسے کسی تنازعے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ بہرحال پاک فوج کی قیادت کا تسلسل ہو یا نئے چیف کی سلیکشن، اس سال فیصلہ تو وزیراعظم عمران خان نے ہی کرنا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *