پی پی پی کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں

منی لانڈرنگ کیس میں پی پی پی کے بڑے لیڈروں  کے خلاف جے آئی ٹی رپورٹ نے ایک سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ سندھ میں حکومتی تبدیلی حرکت  اور مسٹر شاہ کو باہر کرنے کی پی ٹی آئی کی مہم نے تلواریں نکال لی ہیں۔ چیف جسٹس کی وارننگ نے پی ٹی آئی  کو  تھوڑا جھٹکا دیا ہو لیکن کھیل ابھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

اگرچہ جے آئی ٹی رپورٹ کی  توثیق کرنا باقی ہے لیکن مالیاتی سکینڈل میں زرداری فیملی کے ملوث ہونے کی وجہ سے پی پی پی اور سندھ حکومت گہرے پانی میں پھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پارٹی کے لیے سب سے پریشان کن چیز یہ ہے کہ یہ صرف سابق صدر کی قسمت کی کہانی نہیں ہے بلکہ ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی مستقبل پر بھی سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ بلاول وہ نوجوان سیاست دان  ہیں جن سے پی پی پی کے  سپورٹرز امیدیں جوڑے بیٹھے ہیں کہ وہ بھٹو کی وراثت کو زندہ  کریں گے۔

اپنے چالاک والد کے سائے میں رہنے  کی وجہ سے سیاسی طور پر مفلوج ہونے کے باوجود بلاول نے پارلیمانی سیاست پر واضح   نقوش چھوڑے ہیں ۔ مالی سکینڈل میں ملوث ہونا ان کی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی سزا بلا شبہ بربادی کی شکل میں ہو گی اور شاید پی پی پی قیادت کو لمبے عرصے کی قانونی کاروائی اور سیاسی جنگ کا سامنا کرنا ہو گا جو پارٹی اور سندھ حکومت کو  مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔ یہ ممکن  دکھائی نہیں دیتا  کہ صوبائی حکومت کو ختم کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ  کیا جا سکے۔ لیکن بحران  شاید سندھ میں سیاسی انجینئرنگ کی پرانی  نوعیت کا پراجیکٹ ہو جس کا مقصد پیپلز پارٹی کو دھڑوں میں تقسیم کرنا ہو۔ ۔ ہم نے صوبے میں اس چیز کا مشاہدہ ماضی میں بھی کیا ہے۔ لگتا ہے کہ کراچی  میں  'کامیاب' سیاسی انجینئرنگ نے صوبائی سطح پر  اس منصوبے کو آزمانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ بری طرز حکومت اور  بڑھتے ہوئے بد عنوانی کے الزامات پی پی پی کے   راستے میں حائل ہیں۔  پھر بھی حالیہ منتخب صوبائی اسمبلی میں جوڑ توڑ آسان نہیں ہو گی۔ اب کوئی جام صادق نہیں ہے جو  پی پی کے  ارکان کو دباو میں ڈال سکے یا خرید لے۔  اس طرح کے کسی  بھی اقدام سے نسلی تقسیم کی راہ ہموار ہو سکتی ہے انتہا پسند ذیلی قوم پرست قوتوں کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کوئی بھی حرکت سارے نظام کے لیے تباہ کن ہو گی، خاص طور پر اس وقت جب ملک مختلف معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ مخالفت کی سیاست کسی سمت کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہو گی۔ پی ٹی آئی کی تحریک 1990 کی دہائی کی سیاست کے جیسی ہے جب راتوں رات حکومتیں بنتی اور گرتی تھیں، یہ ایک ایسی مشق  تھی جس میں قانون سازوں کو مجبور کر کے اورر رشوت دے کر دھڑے بدلنے پر راضی کیا جاتا تھا۔  حیرت کی بات ہے کہ پی ٹی آئی جو قانون کی حکومت اور ووٹ کی عزت کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی، اس نا خوشگوار کھیل کا ایک کھلاڑی بن رہی ہے۔ پی پی پی حکومت کے خلاف تحریک کے پیچھے وجہ صوبائی حکومت کی نا اہلیت یا پارٹی قیادت کے خلاف بد عنوانی کے الزامات نہیں ہے، یہ پورے سیاسی کنٹرول کی خواہش ہے جو مہم کو اس طرف لے جا رہی ہے جسے کچھ تجزیہ نگار یک جماعتی نظام قرار دیتے  ہیں۔ شاید ایسا کبھی نہ ہو لیکن ایسے اقدامات  پولیٹیکل فالٹ لائنز  کو وسعت دے کر ملکی استحکام کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ اگرچہ  پی پی پی کا ملک کو یک جماعتی حکومتی شکل کی طرف لے جائے جانے اور اٹھارہوریں ترمیم کو ختم کیے جانے کی کوشش کا خوف  مبالغہ آرائی ہو سکتا ہے لیکن اس بارے میں کوئی شک نہیں  کہ پی ٹی آئی کا  مقصد ملک کے دوسرے بڑے صوبے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس کی ملک کے سب سے بڑے شہر  اور معاش اور صنعت کے  مرکز کراچی میں انتخابی فتح نے پارٹی کو صوبائی سیاست میں مضبوط قدموں پر کھڑا کر دیا ہے۔ سندھ میں پی ٹی آئی کا دوسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر ابھرنا اور شہری علاقوں میں مکمل کنٹرول حاصل کرنا الجھے ہوئے صوبے کی سیاسی  حالت میں ایک مکمل تبدیلی کا موجب بنا ہے۔ اس نے پارٹی کو اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کا احساس دلایا ہے۔ وفاقی وزراء اور صوبائی قیادت کے بیانات  طاقت کی بھوک کے اظہار کا ذریعہ ہیں ۔  اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط مرکز سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے ۔ اٹھارہویں ترمیم کے  تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے سےمنظور ہونے کے معاملے نے اسٹیبلشمنٹ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جرنیلوں کا ماننا ہے کہ صوبوں میں معاشی اور انتظامی  اختارات کی   منتقلی سے ملکی خود مختاری اور قومی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ سینئر ملٹری قیادت نے  سرعام اس ترمیم پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔  ملٹری کی  بڑی پریشانی یہ ہے کہ صوبوں کو معاشی  اختیارات منتقل کرنا نہ صرف وفاقی حکومت کے کنٹرول کو کمزور کرتا ہے بلکہ ملک کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل  میں بھی اضافہ کرتا ہے ۔ اٹھارہویں ترمیم پر ملٹری کے تحفظات پچھلے ساتھ آرمی چیف کے تبصروں سے  صاف ظاہر  ہو گئے تھے ۔ اس  پر تمام سیاسی جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا  خاص طور پر ان پارٹیوں نے جنہوں نے اس ترمیم کو منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پی ٹی آئی جس کی اس دور میں پارلیمنٹ میں کوئی  بڑی نمائندگی نہیں تھی ، کو اس ترمیم  میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔  یقینا  صوبوں کو اختیارات اور فنڈز جاری کرنے کے معاملے میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں لیکن ، لیکن ان ایشوز پر رفتہ رفتہ قابو پایا جا سکتا ہے۔ یقینا، وفاقی حکومت کو درپیش سنجیدہ معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن ترمیم کے خلاف تبصرے اسٹیبلشمنٹ کے مقصد کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں اور ساز باز کے نظریات کو ہوا دیتے ہیں۔  یہ حیرانی والی بات نہیں ہے کہ پی پی پی نے اپنی لیڈر شپ کے خلاف کاروئیوں کو اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے درمیان شاید کو ئی واسطہ نہ ہو لیکن یہ واضح طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ  ایسے تاثر کو ختم کرے۔ انتظامیہ کی خاموشی نے اس ایشو کو زیادہ سنجیدہ بنا دیا ہے۔  احتسابی عمل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے ، لیکن بد قسمتی سے یہ نہیں ہو رہا۔ حکومت کے اپنے اعمال اور بیانات  صورتحال کو خراب کر رہے ہیں۔  سیاسی انجینئرنگ اصل میں اس کا حل نہیں ہے، یہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا موجب  بنتی ہے  اور ملک کے اندر  ایک بےچینی کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ ایسے اقدامات نہ ماضی میں کام آئے اور نہ اب آئیں گے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *