پاکستان کے معاشی اعتماد میں تیزی سے کمی، سروے

کراچی: گلوبل اکنامک کنڈیشن سروے (جی ای سی ایس) میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میکرواکنامک عدم توازن سے جدوجہد جاری رکھنے کے باعث 2018 کی آخری سہہ ماہی میں پاکستان کے اقتصادی اعتماد تیزی سے گرگیا۔

رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس (آئ ایم اے) کے 3 ہزار 8سو اکاؤنٹنٹس کے عالمی پول کے ذریعے جی ای سی ایس کے تازہ ایڈیشن میں یہ معلوم ہوا کہ جنوبی ایشیائی خطے میں سب سے کم ہونے والی پاکستان کی معیشت ہے۔

اس کے علاوہ تین بڑی معیشتوں امریکا، چین اور یوروزن میں دیگر علاقوں نے کمزور ترقی کی نشاندہی کے ساتھ منفی اعتماد کا اسکور حاصل کیا۔

عالمی معاشی اعتماد 2018 کی چوتھی سہہ ماہی میں مسلسل تیسری مرتبہ گرواٹ کا شکار ہوا جبکہ سال کے اختتام پر سب سے کم درجے پر ہوا۔

اس نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ ساجد اسلم کا کہنا تھا کہ ’ جنوبی ایشیا میں مجموعی طور پر اعتماد کے باجود یہ دنیا کی دوسری جگہوں سے بہتر ہے اور 2009 میں جی ای سی ایس سیریز کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں معاشی رجحان دوسری درجے کی کم سطح پر ہے۔

پاکستان کے اعتماد میں گرواٹ معیشت کے لیے ایک کمزور آؤٹ لوک کی عکاسی کرتا ہے جو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرتی ہے۔

اسی پر اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کا کرنٹ اکاؤںٹ خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 6 فیصد ہے جبکہ بڑا تجارتی خسارہ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے زیادہ ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے بھی حال ہی میں ہماری جی ڈی پی ترقی کو مالی سال 19-2018 کے لیے 4.8 فیصد سے 3.7 فیصد تک کم درجے تک کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اے سی ایس اے میں بزنس انسائٹس کے سربراہ نارایانن ویدھیاناتھن کا کہنا تھا کہ سال 2018 کے ساتھ اقتصادی اعتماد میں عجیب رجحان دیکھا گیا اور سال کے آغاز کا نتیجہ سال کے اختتام پر بہت مختلف تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس واضح طور پر ایک رولر کوسٹر کی سواری کی تھی جبکہ 2019 کے لیے آؤٹ لک بھی غیر یقینی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *