سانحہ ساہیوال: اب تک کی تفتیش!

یہ بات حتمی طور پر سامنے آچکی ہے کہ یہ آپریشن حساس اداروں کی طرف سے بہت ہی ناقص معلومات کی بنا پر کیا گیا ہے۔سب لوگ بے قصور ہیں ۔ کسی اور کے شبہے میں بہت ہی خوفناک آپریشن کر دیا گیا ہے ۔ بس اڑا دینے کا حکم تھا اور وہی کیا گیا۔   البتہ یہ تعین کرنا باقی ہے کہ ناقص معلومات سازش کی تحت دی گئی تھیں یا

ذمہ دار عناصر نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کی کوشش کی ہے
 یا کسی انتہائی غلط فہمی اور نا اہلی کی بنیاد پر سب کچھ آخری درجے میں جلد بازی کا نتیجہ ہے۔
یہ بات بھی ابھی تک کی " آنیاں جانیاں " سے واضح ہے" بڑوں "کی  غلطیوں پر مٹی ڈالنی کی پوری پوری کوشش کی جائے گی۔ مگر سیدھے سبھاؤ ذمہ داران کوبچانے کی کوئی سبیل کامیاب  ہوتی  نظر نہیں آتی الا یہ کہ انتہائی درجے کی بے غیرتی کا  کمبل نہ اوڑھ لیا جائے۔ اور ایسا ہی کرنا نا گزیر ہے ۔ ورنہ احسان فراموش کہلائیں گے ۔ اگر کسی نے اصول پسند ہونے کا ایڈونچر کرنے کا سوچا تو " ڈان لیک " کی فلم کا ری میک ہو سکتا ہے۔
صاف لفظوں میں جواب دیا گیا ہے کہ " اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ". مزید یہ کہ مشکل اور بروقت فیصلوں میں غلطی کا امکان ہوتا ہے لیکن اس موقع پر ہر کوئی " اپنے اپنے ریمن ڈیوس" کی طرف داری کرکے اسے بچاتا ہے۔ اس لیے زیادہ " کسمسانے اور تلملانے"  کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ سے زیادہ محب وطن ہیں اور آخر وطن ہی کی خاطر تو سب کچھ کر رہے ہیں !
لو کر لو گل تے پھڑ لو کن
جیڑا کسے نے باندر تپے بننا اے بن لیوے
 کسے تے ٹانگا سڑک تو لانا اے لا لیوے!
تواڈی ۔۔۔۔۔ سری!!!!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *