سرجن کا نشتر

اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے، ایک اور بات... سانحۂ ساہیوال پر ہمارے بعض دوستوں کو سابق چیف جسٹس یاد آئے۔ ان کے خیال میں جناب ثاقب نثار اگر ''سابق ‘‘ نہ ہو چکے ہوتے تو چیف صاحب کے سووموٹو کے نتیجے میں،ذمہ داروں کے عبرتناک انجام کا عمل تیز رفتاری سے شروع ہو چکا ہوتا۔ ہمیں اس پر رائو انوار یاد آئے۔ کراچی میں 1992ء کے آپریشن میں پولیس کے تین جونیئر افسر ''اپنی غیر معمولی کارکردگی‘‘ کی بنا پر بہت مشہور ہوئے (بہادر خان، چودھری محمد اسلم اور رائو انوار) تب یہ سب انسپکٹر تھے۔ اس کے بعد مختلف آپریشنوں میں ''اعلیٰ پیشہ ورانہ خدمات‘‘ کی بنا پر شولڈر پروموشن کے ذریعے چودھری محمد اسلم اور رائو انوار ڈی آئی جی کے منصب تک جا پہنچے۔ (سپریم کورٹ کے حکم پر Demote ہو کر بعد میں ڈی آئی جی سے ایس ایس پی ہو گئے) ''پولیس مقابلوں‘‘ میں دہشت گردوں کی ہلاکت چودھری اسلم اور رائو انوار کی خاص وجہ شہرت تھی۔ اسی باعث انہیں ان مقابلوں کا ''ایکسپرٹ‘‘ اور ''چیمپئن‘‘ بھی کہا جاتا۔ چودھری اسلم ملازمت کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بن گئے‘ اور رائو انوار، نقیب اللہ محسود کیس میں پکڑا گیا، ایک بے گناہ نوجوان، جسے دہشت گرد قرار دے کر مار دیا گیا۔ یہ خونِ ناحق بھی رزقِ خاک ہو جاتا لیکن قبیلے کے عمائدین بروئے کار آئے، محسود نوجوان بھی سرگرم ہوئے اور رائو انوار کے خلاف جعلی پولیس مقابلے کا پرچہ درج ہو گیا۔ اب زبانِ خلق پر گزشتہ سینکڑوں ''پولیس مقابلوں‘‘ کا بھی چرچا تھا۔ ایک ذمہ دار پولیس افسر کے طور پر رائو نے خود کو قانون کے سپرد کرنے کی بجائے بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش کی، اسلام آباد ایئر پورٹ پر روانگی کے تمام انتظامات مکمل تھے، بورڈنگ کارڈ ہاتھ میں لیے وہ چیکنگ کے مختلف مراحل سے بخیروخوبی گزر رہا تھا کہ آخری ڈیسک پر پکڑا گیا، لیکن قسمت مہربان تھی۔ وہ یہاں سے بخیروعافیت واپس چلا گیا۔ کئی روز کی روپوشی کے بعد بالآخر اس نے خود کو جناب چیف جسٹس کی عدالت میں، قانون کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ پیش ہو گیا۔ یہاں سے وہ کراچی منتقل کر دیا گیا جہاں اسے دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا تھا۔ ملیر کینٹ میں اس کی ذاتی رہائش کے ایک حصے کو ''سب جیل‘‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ عدالت میں اس کی پیشی پورے ''پروٹوکول‘‘ کے ساتھ ہوتی۔ دہشت گردی کے ملزم کے ساتھ اس حسنِ سلوک پر نقیب اللہ کے والد اور دیگر عمائدین کا احتجاج صدابصحرا ہی رہا۔ اس دوران اس کی ریٹائرمنٹ بھی آ گئی۔ اب وہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر ضمانت پر رہا ہے (البتہ ECL سے نام نکالنے کی اس کی درخواست مسترد کر دی گئی) یاد آیا، گزشتہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہارالحسن کے گھر پر چھاپے کے الزام میں، معطلی پر رائو انوار کا تبصرہ تھا، ''انہیں میری طاقت کا اندازہ نہیں‘‘ اور چند ہی روز بعد وہ اپنے منصب پر بحال تھا۔
جناب ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ''جوڈیشل ایکٹوازم‘‘ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ نئے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ اب'' سووموٹو‘‘ کا اختیار بہت کم‘ اور صرف ان قومی معاملات میں ہو گا‘ جہاں کوئی دوسرا حل نہ ہو، مزید یہ کہ وہ اس اختیار کا دائرہ کار طے کرنے‘ اور اس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی گنجائش نکالنے کی کوشش بھی کریں گے۔
بعض احباب کے خیال میں یہ ''اصطلاح‘‘ سابق چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری کے دور میں عام ہوئی لیکن ہمیں یاد پڑتا ہے کہ یہ معاملہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں شروع ہوا۔ یہ 1997ء کے دوسرے نصف میں، ''عدلیہ بحران‘‘ کے دنوں کی بات ہے، وزیر اعظم نواز شریف کا دوسرا دورِ حکومت، جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ، پرائم منسٹر ہائوس کے ساتھ ''لڑائی‘‘ کو آخری انتہا تک لے گئے تھے (کہا جاتا ہے، انہیں صدر فاروق لغاری کی تائید بھی حاصل تھی) انہی دنوں جناب چیف جسٹس نے پہلے، آئین کی چودہویں ترمیم کو اور آخر میں تیرہویں ترمیم کو بھی معطل کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ دونوں ترامیم، قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت، حزب اختلاف کے تمام ارکان کے اتفاق رائے کے ساتھ منظور ہوئی تھیں۔ چودہویں ترمیم ارکانِ اسمبلی کے فلور کراسنگ کے خلاف تھی جبکہ 13ویں ترمیم کے ذریعے صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کر دیا گیا تھا۔
اس وقت جناب چیف جسٹس کی طرف سے آئینی ترامیم کی معطلی کے ان فیصلوں کو جوڈیشل ایکٹوازم کا نام دیا گیا تھا۔ ہمیں اس حوالے سے جناب جسٹس عطااللہ سے اپنا ایک انٹرویو یاد آیا۔ وہ برسوں ''مغربی پاکستان‘‘ ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینے کے بعد بڑی نیک نامی کے ساتھ ریٹائر ہوئے تھے اور نہر کنارے اپنی کوٹھی میں آسودگی کے روز و شب بسر کر رہے تھے۔ تب ان کی عمر 84 سال تھی۔ ہمارا سوال تھا: یہ جو کچھ عرصے سے جوڈیشل ایکٹوازم کی اصطلاح سننے میں آرہی ہے، کچھ اس بارے میں بتائیے؟... ''جی ہاں! میں بھی تھوڑے عرصے سے ہی یہ اصطلاح سن رہا ہوں۔ مجھے علم نہیں کہ یہ کہاں سے آئی؟ میرا تصور یہ ہے کہ آئین اور قانون جس کی اجازت دیتا ہے، عدالت کا حیطۂ کار اسی حد تک ہوتا ہے۔ ہائیکورٹ کی رٹ جیورس ڈکشن ایک ایسی چیز ہے جو انتظامیہ کے تجاوزِ اختیارات کی صورت میں شہریوں کو انصاف مہیا کرتی ہے اور اس سلسلے میں عدالت کے وسیع اختیارات ہیں‘ لیکن رٹ جیورسڈکشن کی بھی اپنی حدود ہیں‘ اور ہر معاملہ اس کے دائرے میں نہیں آتا۔ اس میں انتظامیہ کا اپنے آئینی و قانونی اختیارات سے تجاوز، غلط (بلا اختیار) فیصلے، حبسِ بے جا، بلا استحقاق کسی عہدے پر تقرر یا قبضہ اور بنیادی حقوق سے متعلق دیگر معاملات شامل ہیں۔ میرے خیال میں یہی جوڈیشل ایکٹو ازم ہے، جسے آپ شہری کے لیے جوڈیشل پروٹیکشن بھی کہہ سکتے ہیں۔ رٹ جیورس ڈکشن کے حوالے سے یہ تمام اختیارات ہائی کورٹ کے ہیں۔ سپریم کورٹ کا دائرہ کار وسیع تر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت اگر سپریم کورٹ کے نوٹس میں یہ بات لائی جائے کہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے سلسلے میں کوئی صورتِ حال انصاف کے متقاضی ہے، تو سپریم کورٹ براہِ راست اس کا نوٹس لے سکتی ہے، شاید اسی سے یہ اصطلاح بنی۔ میرے نزدیک اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں انتظامیہ کے تجاوز کو روک سکتی ہیں‘ اور شہری کو انصاف مہیا کر سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 184/3 کا اختیار شہری کو انصاف کے وسیع تر مواقع مہیا کرتا ہے‘ لیکن ظاہر ہے، اس اختیارکی کوئی حدود و قیود بھی ہونی چاہئیں اور اس کے خلاف اپیل کا حق بھی ملنا چاہیے۔
جناب ایس ایم ظفر سے اُنہی دنوں (1997ء کے عدلیہ بحران میں) اس مسئلے پر بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا ''حال ہی میں حکومت اور چیف جسٹس کے درمیان جو کشمکش ہوئی بلا شبہ ہم سب کے لیے تکلیف دہ تھا۔ اس دوران یہ نئی شکل سامنے آئی کہ چودہویں ترمیم اچانک معطل کر دی گئی جس نے عدلیہ اور مقننہ کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ وزیر اعظم نے اس پر مقننہ کا نقطہ نظر پیش کیا تو انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو گیا۔ پھر تیرہویں ترمیم کو بھی معطل کر دیا گیا۔ اس بحران کے دوران سپریم کورٹ کے کوئٹہ اور پشاور بینچوں نے چیف جسٹس کو فرائض کی انجام دہی سے روک دیا۔ اس بحران کا خاتمہ، بالآخر سپریم کورٹ سے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی رخصتی اور ایوانِ صدر سے لغاری صاحب کی روانگی کی صورت میں نکلا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ اکتوبر (جب اس بحران کا آغاز ہوا) کے بعد یہ معاملہ تیز ہو گیا۔ اگر جوڈیشل ایکٹوازم محدود نہ ہوا ور اس کا استعمال نہایت احتیاط کے ساتھ معروف قاعدوں اور ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے نہ کیا جائے تو یقینا اسے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ میرے نزدیک جوڈیشل ایکٹوازم سرجن کا نازک اور تیز نشتر ہے جو مخصوص آپریشن کے کام تو آتا ہے لیکن اگر اس سے قصائی (اور وہ بھی بڑے گوشت کے قصائی) کے چھرے کا کام لیا جائے تو نتیجے کا تصور آپ خود کر لیجئے‘‘۔ 
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *