ناراض پاکستانی

ہمارے اندر موجود غصے کو  دیکھنے کے لیے کسی باہر والے کا ہونا ضروری ہے۔ پچھلے ہفتے پاکستان میں ایک سابق امریکی  سفیر کیمرون منٹر نے ایک تقریب میں تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا غصہ ہمیں پاکستان کی مثبت  صورتحال کو بیان کرنے سے روک دیتا ہے۔

اس سے مجھے 20 سال قبل کی گئی ایک بات چیت یاد آئی۔ 2000 میں دہلی کے ایک نرم زبان انڈین پروفیسر نے پوچھا کہ پاکستانی لوگ ہمیشہ سے اپنے ملک کے حال اور مستقبل کے بارے میں اتنے بدگمان کیوں ہیں، اس حقیقت کے باوجود کے 1990 کی دہائی تک پاکستان انڈیا کے مقابلے میں اچھے معاشرتی اور معاشی علامات  کا حامل تھا۔  یہ ایسا سوال تھا جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انڈیا کے دورے کے دوران کارگل اور ملٹری حکومت کے بارے میں  چبھتے سوالوں کا جواب دینا آسان تھا بنسبت اس سوال کے جو ہماری بے یقینی کے بارے میں تھا۔

لیکن نیو دھلی میں اس صبح کے بعد سے آج تک پروفیسر کے سوالات میرے ذہن میں بار بار  آتے رہے۔  امریکی سفیر کی بات نے بہت سی  یادیں تازہ کر دیں۔  کچھ اتنی صاف تھی جتنا انڈین پروفیسر کا پوچھا گیا سوال، کچھ یادیں اس قدر شفاف نہیں تھیں۔  لیکن ہر یاد ہماری مایوسی، غصے اور پاکستان پر اعتماد میں کمی کی گواہی دیتی ہے ۔

پنکج مشرہ کی تحریر سے بھی کئی دہائیاں پہلے سے ہم غصے کے دور میں رہ رہے ہیں۔

2000 کے فورا بعد سے 2007 سے کچھ ماہ قبل یا 2008 تک جہاں تک مجھے تھوڑا تھوڑا یاد پڑتا ہے، مجھے وہ ماہ یاد نہیں لیکن یہ وہ دن تھے جب  بہت مشکلات کے ساتھ ڈکٹیٹرشپ سے جمہوریت کی طرف ملک منتقل ہو رہا تھا۔ مشرف اپنے بچاؤ کے لیے لڑ رہے تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف اکٹھے ہو کر سیاسی  پختگی کی راہ پر گامزن تھے۔ ۔ وکیلوں کی ایک تحریک نے پاکستان کے  امیج کو بہتر بنا دیا تھا۔  اور کئی دہشت گرد حملے بھی ہو رہے تھے۔

جدو جہد اور امید کے اس دور میں  ایک ایسا مضمون سامنے آیا  جس میں پاکستان کو ایک ناکام ریاست بننے کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔ مجھے بتایا گیا کہ اس آرٹیکل کے مصنف کو افغانستان میں ایک دوست کی طرف سے کال موصول ہوئی جس نے کہا کہ افغانستان میں جو مرضی ہو جائے وہاں کے لوگ اپنے ملک کو کبھی ناکام ریاست نہیں کہیں گے۔

یقینا ہم اس ملک کے لیے یہ اصطلاح اکثر استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے  لیکن ہم اس اصطلاح کا وہ مطلب نہیں لیتے جو امریکی  لیتے ہیں جن کے مطابق ناکام ریاست وہ ہوتی ہے جو ان کی بات نہ مانتی ہو ۔

اس کے علاوہ ٹریک ٹو ڈائیلاگ کی یادیں بھی ہیں ۔ اس طرح کے ہر سیمینار  اور کانفرنس میں ایک ایسی گفتگو ہوتی ہے  جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  بھارتی اور افغانی کتنے متحد ہیں اور پاکستانی  اس اتحاد کی فضا سے محروم ہیں۔ ہمیشہ  ایک ہزیمت کا احساس رہتا ہے کہ ہم کیسے ان ممالک کی چال کا شکار ہو جاتے ہیں  اور اپنے مفاد کو بھول جاتے ہیں۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ سوال پرفیسر نے پوچھا۔

شاید  اس کی وجہ ملک میں لمبے عرصہ تک ڈکٹیٹرشپ کا راج ہے۔ ڈکٹیٹروں کی طرف سے عوام کو ان کے حقوق اور آزادی اظہار رائے سے محروم کرنے کے عمل نے عوام کے دلوں کو غصے سے بھر دیا ہے  اور عوام ریاست کے مخالف اور ناقد بن چکے ہیں۔ وہ اپنی محرومیوں پر  ناراض ہیں ۔یہ  ایسی صورتحال ہے جس میں غصہ بھی ہے اور مایوسی بھی  جس کی وجہ ملک جس سمت میں چل رہا ہے  وہ سمت ہے۔ اور حالیہ وقتوں میں بھی غصہ اور اشتعال اپنی جگہ موجود ہے جس کی وجہ  اپنا راستہ اور سمت درست نہ کرنا ہے۔ لہٰذا بہت سے لوگ یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ کبھی کوئی اصلاح ہوئی ہے، یا اس کی بہت سست رفتار پر شدید مشتعل ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ جب غیر ملکی پالیسی کی بات ہو، یا بھارت کے ساتھ تعلقات کی بات ہو  یا ریاست اور معاشرے میں  پائی جانے والی شدت پسندی کی بات ہو  توغصہ  مزید بڑھ جاتا ہے ۔

آواز اٹھانے کی پابندی کی وجہ سے  سارا غصہ ریاست پر منتقل ہو گیا  کہ ریاست سے کیا امید کی جاتی ہے  اور ہمیں حالات کو دیکھ کر مستقبل کی کیا امید ہے۔  (پاکستان ہمیشہ سے نہ صرف مشکلات میں رہا بلکہ  ہمیشہ ٹوٹنے کے خطرے  میں گھرا رہا۔ )

2008 کے بعد یہ غصہ بدتر ہو گیا،اس کی وجہ یہ ہے کہ تبدیلی کی امید ٹوٹ چکی تھی ۔ ہمیں لگتا تھا کہ مشکل وقت گزر چکا ہے  اور اب حقیقی جمہوریت  پاکستان کا مقدر بن چکی ہے اب سیاسی حکومتیں بنیں گی  اور سب کچھ ٹھیک کر دیں گی۔  10 سال کی جلاوطنی اور بے اختیاری نے سیاست دانوں کو ایک نئی صلاحیت اور پختگی دی ہے۔ لیکن یہ ایک اور شب گزیدہ سحر تھی۔

10 سال بعد غصہ بڑھ چکا ہے کیوں کہ لگتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے کبھی نہیں بدلے۔ لیکن کیوں کہ اس بار امیدیں زیادہ تھیں، تو غصہ بھی زیادہ ہے۔ اور شاید چونکہ اربن مڈل کلاس نے اس تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ محنت کی تھی  اس لیے مایوسی بھی زیادہ ہے۔  وہ ناراض ہیں کہ انہیں تبدیلی نظر نہیں آتی جس کے لیے وہ لڑتے اور احتجاج کرتے  رہے ۔

عدلیہ مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئی۔  فوج نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔  سیاستدانوں نے اقتدار میں آ کر ڈیلیور نہیں کیا اور نہ ہی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اصلاحات متعارف کروانے کو ترجیح دی۔ ہمارا غصہ بڑھتا ہی گیا یا ان لوگوں پر جن سے ہمیں بہت امیدیں تھیں یا ان پر جن سے ہم سخت ناراض تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ غصہ اس ادارے سے نفرت میں بدل گیا جس نے ہمیں سب سے زیادہ مایوس کیا۔ بلا شبہ غصہ کئی بار بہت کھل کر ظاہر کیا جاتا ہے ۔  ساہیوال کیس  کو ذہن میں رکھ کر دیکھ لیں ۔ اسی طرح سابق ہائی کورٹ جج شوکت عزیز صدیقی کے متنازعہ بیان کو دیکھ لیں  یا کسی دہشت گردی کی کاروائی کے واقعہ  کو دیکھ لیں جو ہماری سکیورٹی فورسز  کی اہلیت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ اور پھر ہمارے ایلیٹ طبقہ کی طرف سے بنائی گئی جے آئی ٹیز کا حال دیکھ لیں۔

یہ ایسا ہے جیسے ہمارے پاس غصے کا اظہار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اسی لیے تو ساری قوت اسی  میں خرچ ہو جاتی ہے۔

لیکن غصے کا اظہار کرنا کبھی ایک حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ شاید یہی بات کیمرون منٹر کہنا چاہتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *