…اور نعیم الحق کا ٹویٹ

بدھ کی شام، کروڑوں عام لوگ سانس روکے وزیر خزانہ اسد عمر کی تقریر کے منتظر تھے (لوئر مڈل کلاس بھی انہی عام لوگوں میں آتی ہے) موجودہ حکومت کا یہ دوسرا بجٹ تھا‘ وزیر خزانہ نے کچھ عرصہ پہلے جس کی نوید سناتے ہوئے ''منی بجٹ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ صرف پانچ ماہ میں اُسی حکومت کا وہی وزیر خزانہ دوسرا منی بجٹ پیش کرنے جا رہا تھا اور ظاہر ہے، یہ صورتِ حال جگ ہنسائی کا باعث تھی، چنانچہ آفٹر تھاٹ میں اسے ''ریفارم پیکیج‘‘ کا نام دے دیا گیا‘ لیکن نام میں کیا رکھا ہے۔ حضرتِ اقبال بھی کہہ گئے ہیں؎
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
یہ ''منی بجٹ‘‘ تھا یا ''ریفارم پیکیج‘‘ لیکن وزیر خزانہ کی تقریر کے اختتام پر عام آدمی نے سکھ کا سانس لیا۔ اس کے لیے یہی ''ریلیف‘‘ بہت تھا کہ وہ مزید بوجھ سے بچ گیا تھا۔ ان پانچ مہینوں میں مہنگائی نے اس کی کمر دُہری کر دی تھی۔ روزمرہ استعمال کی بنیادی ضروریات کی قیمتیں بھی برداشت سے باہر ہو گئی تھیں، بے روزگاری کا عذاب اس کے علاوہ تھا۔ اب اس میں ذرا سے مزید بوجھ کی سکت بھی باقی نہیں تھی۔ وہ جو محاورہ ہے، اونٹ کی کمر پر آخری تنکا، تو معمولی سا مزید بوجھ بھی، اس کی دُہری کمر کو توڑ دینے کا باعث ہوتا۔ بے چارے عام آدمی کی تو بات ہی کیا، کھاتے پیتے مڈل کلاسیوں کو بھی ''تبدیلی‘‘ کی تپش محسوس ہونے لگی تھی۔ گزشتہ روز ایسا ہی ایک مڈل کلاسیا دوست چیخ رہا تھا، اس بار گھر میںگیس کا بل 35 ہزار آیا ہے۔ ہم نے کہا: سردیوں میں گیس استعمال بھی تو زیادہ ہوتی ہے۔ وہ بولا: لیکن گزشتہ برسوں میں تو یہ کبھی بارہ، پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں آیا تھا‘ اس سال تو بڑا بیٹا بھی اپنی فیملی کے ساتھ بیرون ملک چلا گیا ہے اور اوپر والے پورشن میں گیس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک تنخواہ دار دوست کا فون آیا۔ ہم نے کہا: شکر ہے، مزید بوجھ نہیں پڑا۔ اس کا جواب تھا، کوئی کسر رہ گئی تھی تو وزیر خزانہ یہ بھی پوری کر لیتے۔ پھر اس ناشکرے نے شعر سنا دیا؎
شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں
اِدھر وزیر اعظم صاحب کے ہمدمِ دیرینہ نعیم الحق نے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یقین ہی نہیں آتا کہ ذرا سا سیاسی شعور اور جمہوری مزاج رکھنے والا کوئی سیاسی کارکن اس سوچ کا حامل بھی ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی سے پرلے درجے کی بد گمانی رکھنے والے ہمارے ایک دوست کہا کرتے ہیں: بھٹو والی پیپلز پارٹی کی فسطائیت جہاں ختم ہوئی تھی، وہاں سے الطاف والی ایم کیو ایم کی فسطائیت شروع ہوئی اور جہاں اس کی فسطائیت ختم ہوئی، وہاں سے تبدیلی والوں کی فسطائیت شروع ہو گی‘ لیکن ابھی بے چاروںکا بس نہیں چل رہا۔ نعیم الحق صاحب نے ساری زندگی بینکنگ میں گزاری اور عملی سیاست میں ریٹائرمنٹ کے بعد آئے‘ لیکن ان کے گھر میں تو سیاست تھی۔ کراچی یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وہ بینک میں ملازم ہو گئے۔ ان کے سسر کموڈور خالد جمیل، ایوب خان کے دور میں کراچی میں سیاست کا بڑا نام تھا۔ وہ ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کراچی کے صدر اور قومی اسمبلی کے رکن بھی تھے۔ ان کے بھائی ڈاکٹر رحیم الحق طویل عرصہ سیاست میں نواز شریف کے ہم سفر رہے۔ 
کراچی سے نعیم الحق انگلستان چلے گئے، وہاں بھی بینکنگ کی جاب تھی۔ لندن میں عمران خان کے بینکنگ معاملات بھی دیکھا کرتے‘ وطن واپسی پر سلمان تاثیر کے ٹی وی چینل میں اینکر ہو گئے، عمران خان سے محبت کا یہ عالم کہ ان پر تنقید کا ایک لفظ بھی برداشت سے باہر ہوتا، ایک ٹاک شو میں عمران پر تنقید کرنے والے مہمان کو گلاس دے مارا تھا۔ اہلیہ کی وفات کے بعد بنی گالا چلے آئے‘ اور یہاں عمران خان کی ہمہ وقت خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، جب نعیم الحق، عمران خان (اور بنی گالہ) کے ''سولو سپوکس پرسن‘‘ ہوتے تھے۔ عمران خان نے اقتدار میں آ کر شاید ہی کسی دوست کا احسان نہ اتارا ہو، ایک بے چارے نعیم الحق ہیں جنہیں سینیٹ کے ٹکٹ کا مستحق بھی نہ سمجھا گیا۔ کہنے کو وہ وزیر اعظم کے مشیر (یا معاون خصوصی) ہیں لیکن ان مشیروں یا معاونین خصوصی میں سے نہیں جنہیں آئین پارلیمنٹ اور کابینہ میں بیٹھنے کا اختیار دیتا ہے۔
بات لمبی ہو گئی، ہم نعیم الحق صاحب کی اس ٹویٹ کا ذکر کر رہے تھے‘ جس میں وہ اپنے لیڈر سے اظہارِ وفاداری میں آخری حد سے بھی گزر گئے اور جس نے پی ٹی آئی کی سیاسی و جمہوری سوچ کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیئے۔ فرمایا، ''شہباز شریف، وزیر اعظم کے ساتھ تمیز سے پیش آئیں۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پروڈکشن آرڈر واپس لے کر انہیں جیل بھیج دیا جائے‘‘؟
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، وزیر اعظم کی شان میں کس گستاخی یا بد تمیزی کے مرتکب ہوئے جو نعیم الحق صاحب کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی اور عالمِ غیظ و غضب میں وہ اس وارننگ پر مجبور ہو گئے۔
بدھ کی شام وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر سے قبل، سپیکر نے ''نکتۂ وضاحت‘‘ کے لیے فلور قائد حزب اختلاف کو دے دیا۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف کا خطاب اڑھائی تین منٹ سے زائد نہ تھا۔ سانحہ ساہی وال کے حوالے سے ماڈل ٹائون سانحہ کا ذکر بھی ہو رہا ہے (تب موجودہ قائد حزب اختلاف، وزیر اعلیٰ تھے) ان کا کہنا تھا کہ اس سانحہ کے بعد 24 گھنٹے کے اندر ان کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس باقر نجفی پر مشتمل عدالتی کمیشن بنا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ بھی اپنے عہدوں سے دستبردار ہو گئے تھے۔ انہوں نے جناب عمران خان کو سلیکٹڈ پرائم منسٹر قرار دیا، جو ساڑھے تین ماہ بعد ایوان میں تشریف لائے تھے۔ قائد حزب اختلاف کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی تھا۔ یہ عمران خان کا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے سانحہ ماڈل ٹائون پر وزیر اعلیٰ کے استعفے اور رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا، اسی منطق کی رو سے اب سانحہ ساہیوال پر وزیر اعظم صاحب کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ وہ وزیر اعظم کے استعفے کے لیے کوئی مہم چلانے، دھرنا تحریک شروع کرنے، کنٹینر سڑکوں پر لانے یا شہروں کے لاک ڈائون کا اعلان نہیں کر رہے تھے۔ بس ایک بات تھی جو انہوں نے جناب وزیر اعظم کو یاد دلائی تھی لیکن جناب نعیم الحق کے خیال میں یہ وزیر اعظم کے ساتھ بد تمیزی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سیشن میں قائد حزب اختلاف اور ان کے رفقا کا رویہ ایک رسمی سے احتجاج سے زیادہ نہ تھا۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران ''گو نیازی گو‘‘ کے نعرے یا بجٹ تقریر کے پرزے اڑانے کا عمل حزب اختلاف کی ''معمول‘‘ کی کارروائی تھی۔ ماضی کے مختلف ادوار میں اس ایوان میں جو کچھ ہوتا رہا، یہ اس کا عشرِ عشیر بھی نہ تھا۔ 1991ء میں پارلیمنٹ سے صدر غلام اسحاق خان کے خطاب کے دوران، اپوزیشن نے جو ہنگامہ کیا، اس کی کوئی مثال اس سے پہلے موجود نہ تھی۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ اخبار نویسوں کو بتا رہی تھیں، ڈیسک بجاتے ہوئے میرے ہاتھ سرخ ہو گئے تھے۔ پھر 1994ء میں صدر فاروق لغاری کے خطاب کے دوران ایوان میں مچھلی منڈی سے بھی بدتر مناظر دیکھنے میں آئے۔ پرویز مشرف، 2002 والی پارلیمنٹ سے خطاب کے لیے آئے تو محاورتاً نہیں، واقعتاً ان کے پسینے چھوٹ گئے اور خفت مٹانے کے لیے ہوا میں مکے لہراتے، ایوان سے رخصت ہو گئے اور اگلے تین، چار سال اِدھر آنے کی ہمت نہ کی۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ کہ کیا جناب نعیم الحق اس وارننگ کے ذریعے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ قائد حزب اختلاف کے لیے پروڈکشن آرڈر ان کا استحقاق یا اسمبلی کے قاعدہ نمبر103 کے تحت سپیکر کا اختیار نہیں بلکہ جناب وزیر اعظم کا احسان ہے، جسے جب چاہے واپس لیا جا سکتا ہے؟
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *