قائد اعظم بنام وزیراعظم

ہائوس نمبر 786

جنت نگر، عرشِ بریں

ڈیئر عمران

السلام علیکم بہت دنوں سے پاکستانی احباب اصرار کر رہے تھے کہ میں آپ کو ایک خط لکھوں اور آپ کی حکومت کی خوبیاں اور خامیاں دونوں بیان کروں۔ اصل میں جب آپ کی حکومت آئی تو یہاں سب نے بڑی خوشیاں منائیں اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اب نیا پاکستان اصلی راستے پر چل پڑے گا اور تو اور حسین شہید سہروردی اور مولوی فضل حق بھی مجھے مبارکباد دینے آئے اب جبکہ آپ کی حکومت کو 5ماہ گزر چکے ہیں تو یہاں کئی ذہنوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں اور آپ کی ٹیم کی قابلیت پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ کل ذوالفقار علی بھٹو جناح کیپ پہن کر میرے پاس آئے، ان کے ہمراہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھی تھیں۔ تینوں نے مل کر آپ کی حکومت کی شکایت لگائی کہ آپ پیپلز پارٹی کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ میری بہن فاطمی (فاطمہ جناح) پاس ہی بیٹھی تھیں اس شکایت پر وہ زیر لب مسکراتی رہی اور پھر سب کے سامنے ہی کہا ’’مجھے تو عمران بہت پسند ہے وہ بھی میری طرح بہت کفایت شعار ہے اور اسے کرپشن سے چڑ ہے ابھی اتنی جلدی اس کی حکومت کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دینی چاہئے‘‘ ذوالفقار علی بھٹو پھر بھی خاموش نہ ہوئے اور تمہاری حکومت اور وزراء پر ایک چارج شیٹ پڑھ دی جس پر میں نے جنت نگر میں موجود سینئر پاکستانیوں کا اجلاس بلا لیا۔ یہ اجلاس ابھی ختم ہوا ہے اس کی تفصیلات اور آپ کے لئے ہدایات کا آگے ذکر ہو گا پہلے اس اجلاس کی کارروائی پڑھ لیں۔

تمہا رے وزیر خارجہ کے والد سجاد قریشی اور دادا مرید حسین قریشی نے خارجہ امور میں حالیہ کامیابیوں پر ایک بھرپور تقریر کی اور کہا ان کا بچہ شاہ محمود قریشی ایک سچا پاکستانی اور محب وطن ہے۔ سجاد قریشی نے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ شاہ محمود کی ان خدمات کی بناء پر یا تو اسے وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے یا پھر حکومت تبدیل کر کے اقتدار کی باگ ڈور ہی اُس کے حوالے کر دی جائے۔ اس پر کونے میں بیٹھے چوہدری اویس جہلمی اور گورنر الطاف جہلمی بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ وہ اصلی مسلم لیگی ہیں اچانک ممتاز دولتانہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے جہلمی چوہدری کے حق میں گواہی دی چوہدری اویس نے کہا کہ وزارت اعلیٰ اب ہمارا حق ہے۔ فواد چوہدری اور فرخ کو آگے بڑھایا جائے، فواد کو پنجاب کی باگ ڈور دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس پر شور مچ گیا، ایک طرف سے علیم خان اور دوسری طرف سے اسلم اقبال کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے نعرے لگنے لگےعین اسی وقت محمد حسین چٹھہ پیر آف پگاڑو شریف مجمع میں آئے، شور کچھ کم ہوا تو محمد حسین چٹھہ بولے کہ ان کے بیٹے نعیم کا بیٹا عابد پی ٹی آئی میں ہے مگر عمران خان اس کا حال بھی نہیں پوچھتا، پیر پگاڑا نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بیٹھا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کھڑے ہو کر اونچی آواز میں کہا کہ عمران خان نے یحییٰ خان کے مشیر جنرل عمر کے بیٹے اسد کو وزیر خزانہ لگایا ہوا ہے اسی لئے معیشت بیٹھ رہی ہے ۔اس پر محمد خان جونیجو نے پیر پگاڑا سے اجازت لے کر اسد عمر کی تعریفیں کیں اور کہا کہ ابھی مشکلات ضرور ہیں لیکن آنے والے سالوں میں پاکستان ان مصیبتوں سے نکل آئے گا۔ سفید لباس میں ملبوس میاں شریف علامہ اقبال کی کرسی کے پیچھے کھڑے تھے، وہاں سے انہوں نے زور سے ہاتھ ہلایا اور بات کرنے کی اجازت طلب کی۔ علامہ اقبال نے گھوم کر دیکھا کہ ان کے پیچھے کون کھڑا ہے اور اس کے بعد سے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ میاں محمد شریف نے کہا کہ اشرافیہ نے اس کے دونوں بیٹوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے، اس نے مجھ سے اپیل کی کہ اسے انصاف دلایا جائے۔ مجمع عام کی گفتگو سننے کے بعد سردار عبدالرب نشتر کی سربراہی میں بھٹو، نوابزادہ نصراللہ، لیاقت علی خان اور سہروردی پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی گئی جس نے ایک گھنٹے میں سفارشات اور ہدایات تیار کر لیں۔ یہ ہدایات آپ کی حکومت کی بہتری کے لئے ہیں۔

مسٹر عمران!

آپ اکثر میرا حوالہ دیتے ہیں میری جیسی اچکن بھی پہنتے ہیں، کیا ہی اچھا ہو اگر تم میری طرح جناح کیپ بھی پہنا کرو تاکہ ہمارا قومی تشخص بھی قائم رہے۔ ذیل میں سینئر کمیٹی کی سفارشات اور ہدایات آپ کی نذر کی جا رہی ہیں۔

(1)ہر زمانے میں احتساب ہوا ہے مگر اس میں ایک غلطی ہوتی ر ہی۔ احتساب ہمیشہ ماضی کی غلطیوں اور کرپشن کا ہوا جس دن حال کا احتساب ہو، برسراقتدار حکومت سے احتساب شروع ہوا اس دن اصلی احتساب ہو گا ۔ احتساب کو موثر بہ ماضی نہیں بلکہ اس کا اطلاق موثر بہ حال کرو اپنی حکومت اپنے وزیروں کا احتساب کرو گے تو نئی روایت بنے گی اور نیا پاکستان بنے گا وگرنہ ماضی کے حکمرانوں کو تو 70سالوں سے سزائیں ملتی رہی ہیں اس میں نیا کیا ہے؟

(2)کرپشن وبائی مرض نہیں، جینیاتی مرض ہے اس کے خلاف مہم چلا کر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے خلاف نئے سرے سے قانون سازی ہونی چاہئےاور ہر وہ قانونی اور غیر قانونی راستہ روکنا چاہئے جس کی وجہ سے کرپشن ہوتی ہے۔

(3)پاکستان کا مالی سال ختم ہونے کو ہے، ماہرین معیشت کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کا صرف 20فیصد حصہ خرچ ہوا ہے یہی حال وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کا ہے ۔اس مسئلے کا فوراً حل نکالا جائے۔

(4)سندھ میں عدم استحکام پیدا نہ کیا جائے۔ زرداری اور پیپلز پارٹی کو ہٹا کر علیحدگی پرستوں، جاگیرداروں اور لسانی گروہوں کے بھان متی کے کنبے کو حکومت دینا ملک اور ریاست کے لئے ٹھیک نہیں ہو گا۔

(5)نواز اور شہباز کو سالوں تک قید رکھنا دانش مندی کے خلاف ہو گا ۔ یاد رہے کہ سہروردی سے معاملات طے نہ کرنے پر شیخ مجیب جیسے انتہاء پسند سامنے آئے اور پھر شیخ مجیب کو جیل بھیج کر معاملہ مکتی باہنی تک پہنچ گیا۔ پنجاب کی پُر امن فضا کو سیاسی اشتعال سے بچائیں اور پارلیمانی طریق کار سے کوئی حل اور کوئی راستہ نکالیں۔

(6)عمران حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہئیں۔ دوسری طرف عمران حکومت کو پنجاب، وزارت خزانہ کے معاملات پر نظرثانی کرنی چاہئے اور فلاحی مملکت بنانے کے لئے لوگوں کو ریلیف دینا چاہئے۔

مسٹر عمران!

سینئر سیاستدانوں اور پاکستانیوں کا یہ ہدایت نامہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ یہ آپ کے بھی حق میں ہے اور آپ کے مخالفوں کے بھی حق میں ہے۔ آپ اس پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا اور واقعی نیا پاکستان بن جائے گا اور اگر آپ اس پر عمل نہیں کرتے تو پھر وہی 70سال پرانا پاکستان برقرار رہے گا بلکہ اور بھی خراب ہو جائے گا۔

والسلام ۔ایم اے جناح ۔ 27جنوری 2019ء

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *