اعتماد اور یقین

اعتماد اور یقین کا رشتہ کافی قریب کا ہے۔ ہم کسی پر اعتماد کر کے اس کی ہر بات اور کام پر یقین کرنے لگتے ہیں ۔ اسی طرح اعتماد رفتہ رفتہ یقین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔لیکن اعتماد کرنا اور اس پر عمل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ ہم پیدا ہوتے ہی اپنی ماں باپ کی باتوں پر اعتماد کرتے کرتے یقین کرنے لگتے ہیں ۔ اس کے بعد ہمارے ماں باپ جو بھی بات ہمیں کہتے یا سمجھا تے ہیں گر کہ وقتی طور پر ہمیں ناگوار گزرتا ہے لیکن ہم اس پر یقین اور عمل پیراہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ بھی ہمارا اعتماد اور یقین دن بدن پختہ ہوتا ہے اور ہم گاہے بگاہے باتوں باتوں میں اپنے خاندان اور ماں باپ کی مثالیں اوروں کے سامنے پیش کرنے لگتے ہیں۔
تاہم کبھی کبھار ہمارے لئے ایسی بھی دشواریاں پیش آتی ہیں جب ہم کسی وجہ سے اپنے ماں باپ اور خاندان والوں سے اختلاف ہو جانے سے دوری اختیار کر لیتے ہیں اور ہمارا اعتماد اور یقین تار تار ہوجاتاہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم روز مرّہ کی زندگی میں لوگوں سے مل جل کر بھی اعتماد اور یقین نہیں کر پاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہم سماج میں الگ تھلگ ہو کر رہنے اور زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مغربی ممالک سمیت برطانیہ میں بھی اعتماد اور یقین کا مسئلہ ایک مرض بن چکا ہے۔ میں نے برطانیہ میں اس بات کو محسوس کیا ہے کہ یہاں کی سماجی زندگی تنہائی کا شکار ہو چکی ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً خاندان میں برائیوں کا عام ہونا ، اچھے اور برے کی تمیز کا مٹ جانا، غیر اندازہ رویہ کو اپنانا،لامذہب ہو جانا، انفرادی زندگی کو ترجیح دینا، شراب کا مقبول ہونا، مشکوک بن جانا وغیرہ وغیرہ ۔یہ ایسی عام باتیں ہیں جو ماحول اور انسان کی تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
سماج میں جینے کے لئے ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد اور یقین کا عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن جب انسان اسی سماج میں ایک کے بعد ایک دھوکے سے دوچار ہوتا ہے یا اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو وہ بحالتِ مجبوری اپنا یقین کھو دیتا ہے۔دنیا جب سے قائم ہوئی ہے اعتماد اور یقین پر کئی جانیں ضائع ہوئی ہیں تو کئی خاندان تباہ و برباد بھی ہوئے ہیں۔ان سب واقعات کے پیچھے ایک اہم سبب یہ تھا کہ انسان لالچ، طاقت اور دولت کی بنا پر اپنے رب کو بھول کر خود کبھی خدا تو کبھی ظالم بن کر لوگوں میں انتشار اور فتنہ فساد پھیلا کر اپنی ہوس کو پورا کرتا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگ اس دنیا سے گزرنے کے بعد بدنام اور مخفی ہو چکے ہیں۔
قرآن ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے ’ تجھ سے غنیمت کا حکم پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمت کا مال اللہ اور رسول کا ہے، اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر ایمان دار ہو‘۔ (سورۃ الانفال)اسی طرح سے ایک جگہ اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ’ مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پرور دگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ (سورۃ الانفال)
قرآن کی ان آیتوں سے بے شک ہمیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ایک سچا مومن کا ’پختہ یقین ‘ہو نے کے لئے اللہ پر پختہ یقین اور خوف رکھنا کتنا ضروری ہے اور اس یقین کو ثابت کرنے کے لئے لگاتار ا للہ کی عبادت کرنااور خدا کی راہ میں دل کھول کر خیرات دینا اہم عمل ہے۔جس کے عوض میں اللہ ہمیں نیک انسان بناتا ہے اور ہماری گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی ملاقات حارث ابن ملک سے ہوئی تو رسول ﷺ نے حارث ابن ملک سے پوچھا کہ’تم نے اپنی صبح کیسے گزاری‘ ۔
حارس ابن ملک نے جواب دیا کہ’ میں نے اپنی صبح ایک سچے مومن کی طرح گزاری‘۔
حضرت محمد ﷺ نے کہا کہ جو کچھ تم کہتے ہو اس سے محتاط ر ہو۔ سب کچھ حقیقت ہے توآپ کے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟‘
حارث ابن ملک نے کہا کہ ’میں نے دنیا کو چھوڑ دیا ہے،میری رات عبادت میں گزرتی ہے، میرا دن روزے میں کٹتاہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں اپنے مالک کو تخت پر دیکھ رہا ہوں، دیگر مواقع پر یہ بھی دیکھتا ہوں کہ لوگ جنت کے باغ میں سیر کر رہے ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ لوگ جہنم میں چینخ رہے ہیں‘۔(طبرانی)
حقیقی اور جعلی باتوں کا ہمیں فوری نہیں تو کبھی نہ کبھار پتہ چل ہی جاتا ہے۔ مولانا رومی کی ایک مشہور کہانی یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک بھیڑیا رنگوں میں رنگ گیا اور اپنے آپ کو’ مور‘ کہنا شروع کر دیا۔ بھیڑئیے کو سورج کی روشنی میں اپنے چمکتے جسم پر فخر ہونے لگا۔ اسے یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ وہ مور دِکھتا ہے۔ وہ اپنے اوپر ناز کرنے لگا اور دوسروں سے کہنے لگا کہ وہ اس کے سامنے اپنا سر جھکائے۔اس کے ساتھ رہنے والے ساتھی بھیڑئیے اس سے پوچھنے لگے کہ’ کیا تم مور کی طرح ناچ سکتے ہو‘۔
تو رنگوں میں لپٹے ہوئے بھیڑئیے نے کہا ’نہیں‘۔
تو بھیڑئیوں کے ساتھی نے کہا تو پھر تم مور کیسے ہو سکتے ہو۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ’تم اس کا دعویٰ مت کرو جو کچھ تم نہیں ہو‘۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی علیہ وسلم نے فرمایا:
جب امانت (ایمانداری دنیا سے) اٹھ جائے توپھر قیامت کا انتظار کرو۔آپ صلی علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ’ اے اللہ کے رسول، امانت (ایمانداری دنیا سے) کیسے اٹھ جائے گی‘؟
آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا : جب ذمہ داریاں نا اہلوں کو سونپ دی جائیں تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔
اعتماد اور یقین اس وقت انسان کو اس کی اصلیت سے قریب کرتا ہے جب وہ حقیقی اور جعلی عقیدہ کے بیچ کے فرق کو جان اور پہچان سکتا ہو۔تاہم کبھی نہ کبھی ہمیں ان باتوں کا علم ہوجاتا ہے جب کوئی انسان جعلی عقیدہ کے تحت ہم انسانوں کے ایمان کا امتحان لیتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں انسان اپنی پریشانی اور ناکامی کے عالم میں ان لوگوں پر یقین کر بیٹھتے ہیں جو اپنے جعلی عقیدہ پر یقین رکھتے ہوئے معصوم انسانوں کی زندگی سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے قریب ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پریشانِ حال انسان کی کمزور ایمان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی زندگی میں اعتماد اور یقین کے ارادے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس طرح ایسے لوگ گمراہ ہو کر اللہ پر یقین کرتے ہوئے بھی دوسروں پر اعتماد کرنے لگتے ہیں۔
ان باتوں کی روشنی میں ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں بھٹکے ہوئے ہیں۔ ہم عبادت تو کر رہے ہیں لیکن کیا ہم اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ عبادت کے بدلے ہمارا اعتماد اور یقین پختہ ہو رہا ہے ؟ یا ہم محض اس لئے عبادت کر رہے ہیں کہ لوگ ہمیں نیک سمجھیں اور ہم جنت میں جانے کے حق دار بن جائیں۔
آج ہم نے اعتماد اور یقین پر ایک اہم اور ضروری پیغام آپ لوگوں تک پہنچا نے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگر ہم اپنے اعتماد اور یقین کو ایمانداری کے ساتھ سمجھنا شروع کر دیں تو انشاء اللہ ہمارا ایمان پختہ او مضبوط ہو جائے گا اور ہم ایک نیک اور صالح انسان بن جائیں گے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *