تعلیم تہذیب اور معاشرت

انسان کی فطرت میں بہتری کی طرف راغب ہونا موجود ہے۔ تعلیم کا بنیادی فلسفہ بھی اتنا ہی ہے کہ انسان اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی زندگی کو بہتر سے بہترین بنانا چاہتا ہے۔ یہ ایک انتہائی مثبت رویہ ہے۔ترقی یافتہ ممالک میںروایتی تعلیم اکیسویں صدی میں جدیدیت سے ہوتی ہوئی بعد از جدیدیت کی جانب رواں دواں ہے۔ لیکن پاکستان میں گزشتہ بیس سالوں کے دوران سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے روابط کے بعد مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو ہمارا نصاب آج تک جدیدیت کو اپنا سکا اور نہ ہی اساتذہ۔ میں نے پاکستان کے طول و ارض میں تقریبا" ہر جانب سفر بھی کیا ہے، کمرہ جماعت کا جائزہ بھی لیا اور اساتذہ کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام بھی کیا۔ ان ساتذہ میں سکول ، کالج اور یونیورسٹیز کے اساتذہ شامل رہے۔ ان تمام تجربات میں ایک یکسانیت رہی اور وہ یہ کہ ذیادہ تراساتذہ خود کو اور اپنے طریق ہائے تدریس کو بدلنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے؛ گو کہ تربیتی کورسز میں وہ اس تبدیلی پر رضامندی کا اظہارکرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد جب ان کی تدریسی کاوش کا جائزہ لیا جائے تو بہت ہی کم تبدیلی دکھائی دیتی ہے جوکہ بہت جلد ماند بھی پڑ جاتی ہے۔

اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو تعلیم کے اہداف میں سے اولین انسانی رویوں میں بہتری اور تہزیب و معاشرت میں ترقی و ترویج ہے۔ پاکستان میں ایک کے بعد ایک تعلیمی پالیسی اور نصاب میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک بھی تبدیلی تعلیمی نظام کو جدیدیت کی جانب لے جانے کے لیے نہیں کی گئی۔ سرکاری اداروں کی ابتر حالت اور وہاں اپنائے جانے والے طریق ہائے تدریس آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے ۱۹۵۰ میں تھے۔ سکولوں، اساتذہ اور بچوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا، لیکن معیار میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ جس معاشرے میں تعلیمی نظام فرسودہ روایات کو قئم رکھے اور ان سے باہر نہ نکلنا چاہے تو اس معاشرے کی اقدار کا جامد رہنا بھی لازم ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تعلیم کا مقصد تہزیب اور معاشرت کا ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونا ہے، جبکہ جدیدیت کا نظریہ اس سے مختلف ہے۔ تعلیم اپنے جدید معنی میں تہزیب و معاشرت میں ارتقا کا عمل ہے نہ کہ صرف منتقلی کا۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک طرف آج بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کو حرام تصور کیا جاتا ہو اور ایک مخصوص طبقہ دنیاوی تعلیم کو بے راہ روی کے مترادف سمجھے، اور دوسری طرف بہت سے والدین ان پڑھ ہوں اس لیے وہ خود اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں فیصلہ بھی نہ لے سکتے ہوں؛ تو وہاں تعلیم کے زریعے تبدیلی کے خواب کو حقیقیت کا روپ دینا اور بھی مشکل نظر آتا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو تعلیم کے زریعے فرسودہ روایات اور اقدار میں تبدیلی کے خواہاں ہیں ان کے لیے آہستہ آہستہ یہ نہ حاصل ہو سکنے والا ہدف بنتا جا رہا ہے۔ تعلیم کی منصوبہ بندی میں اس امر کا واضح ہونا لازمی ہے کہ ملکی و بینالاقوامی سطح پر تعلیم کے زریعے کن مقاصد کا حصول ضروری ہے۔

ایک جانب شعبہ تعلیم  و تدریس میں آنے والے ذیادہ تر افراد بہت لائق فائق نہیں تھے اور دوسری جانب انہوں نے کبھی اپنے مضامین سے آگے سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ جب ان سے نصاب کے بارے میں پوچھا جائے تو ان کے خیال میں نصاب سے مراد صرف نصابی کتب ہیں۔ یہ محدود نظریہ اساتذہ کو آسان راستہ دیتا ہے۔ ایک وسیع نطریہء نصاب ناپید ہے اور اگر اس کو اپنایا جائے تو اساتذہ یقینا" تبدیلی کا زریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ تمام تر زمہ داری اساتذہ پر ہی ڈالی جائے۔ اس زمہ داری کا احساس وفاقی، صوبائی، ضلعی اور  اداروں کی انتظامیہ کو ہونا لازم ہے۔ اگرکچھ اساتذہ تبدیلی لانا بھی چاہیں تو انتظامی ڈھانچہ انہیں روک دیتا ہے۔ ہر طرح کی پیشہ ورانہ تربیت اورتبدیلی ایک نکتہ پر جا کر رک جاتی ہے جب انتظامیہ اس تبدیلی پر امادہ نہ ہو۔

مختصرا" یہ کہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک بھرپور نظریاتی تبدیلی درکار ہے ورنہ تہزیب و معاشرت میں جو گراوٹ ہم ہر آنے والے دن میں دیکھ رہے ہیں اس میں بہتری شاید ایک قدرتی عمل کے طور پرکبھی آہی جائے مگر اس کی رفتار بے حد سست ہو گی اور ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے باوجود خود کو تمام دنیا کے مقابلے میں بہت پیچھے پائیں گے۔

 

تعلیم تہذیب اور معاشرت” پر ایک تبصرہ

  • فروری 1, 2019 at 8:26 PM
    Permalink

    A very interesting and thought provoking read. I loved the flow and beauty of Urdu for an unlikely subject after a long time. Will be looking forward to read more by Dr. Afshan Human.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *