ظفر صاحب کا گرامی نامہ اور ہماری گزارشات

گزشتہ کالم پر جناب ایس ایم ظفر کا گرامی نامہ موصول ہوا، ''شکریہ ایک بروقت کالم کا، آپ میرے دکھ میں شریک ہوئے اور میرا بوجھ ہلکا ہوا... لیکن میں نے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت کرکے کوئی حرکت نہ کی تھی۔ ایک مسلم لیگی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کس مسلم لیگ کا ساتھ دے، جو ہتھیار ڈال کر ملک سے باہر جا چکی یا دوسری، جو سیاست کر رہی ہے؟ کسی وقت آئیں تو اس پر بات کروں گا‘‘۔
گزشتہ کالم میں ہم رواروی میں یہ لکھ گئے تھے کہ ظفر صاحب کی، قاف لیگ جوائن کرنے کی ''حرکت‘‘ ہمیں تو اچھی نہ لگی۔ قومی زندگی میں ظفر صاحب کے قابلِ قدر کنٹری بیوشن کے ذکر کے ساتھ یہ محبت بھرا گلہ تھا، بعد میں احساس ہوا کہ بزرگ سیاستدان اور ممتاز قانون دان کے لیے ''حرکت‘‘ کا لفظ شاید مناسب نہ تھا‘ لیکن تب کالم جا چکا تھا۔ ہمارے سجاد کریم اور کاظم جعفری کو عموماً کالم دیر سے بھجوانے کا گلہ رہتا ہے۔ اب ایک بار پھر دیر ہو گئی تھی۔ منیر نیازی یاد آئے؎
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپسی بلانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر، کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
قاف لیگ جوائن کرنے کے حق میں ظفر صاحب کے ''استدلال‘‘ سے بحث نہیں اور اس حوالے سے بصد ادب و احترام ہمارا گِلہ بھی اپنی جگہ، لیکن ہم کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اس بدگمانی کا شکار نہیں ہوئے کہ ان کا یہ فیصلہ کسی ذاتی فائدے یا لالچ کی بنیاد پر تھا۔ سینیٹ کی رکنیت؟ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے طور پر سینیٹ محترم ترین قومی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کا انتخاب اور بجٹ کی منظوری، یہ دو معاملات ہیں جو اس کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ صدر کے انتخاب اور آئین و قانون میں ترمیم و تبدیلی اور نئی قانون سازی سمیت کسی بھی معاملے میں اس کی اہمیت (اور اختیار) قومی اسمبلی سے کم نہیں۔ بھارت میں تو ایوان بالا (راجیہ سبھا) کا رکن وزیر اعظم بھی بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ دونوں بار راجیہ سبھا کے رکن تھے۔ پروٹوکول میں بھی صدر مملکت کے بعد سینیٹ کے چیئرمین کا نمبر آتا ہے (صدر کی عدم موجودگی میں، وہ ان کا جانشین ہوتا ہے) دنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں (جہاں دو ایوانی مقننہ ہے) سینیٹ خاص مقام اور احترام کا حامل ہوتا ہے‘ جس کے لیے سیاسی جماعتیں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات اور اعلیٰ تر صلاحیتوں کے حامل افراد کو نامزد کرتی ہیں‘ لیکن اپنے ہاں سیاسی جماعتوں کی ترجیحات (اور ضروریات) کچھ اور قسم کی ہوتی ہیں۔ اس کے لیے حسبِ ضرورت کسی دوسرے صوبے میں ووٹ کا اندراج بھی روا سمجھا جاتا ہے۔ چند مثالیں: رحمان ملک پنجاب کے ہیں لیکن پیپلز پارٹی انہیں سندھ سے سینیٹر منتخب کراتی ہے۔ نہال ہاشمی کراچی سے تھے لیکن مسلم لیگ(ن) کے کوٹے میں پنجاب سے منتخب ہوئے۔ سلیم ضیا بھی پنجاب سے منتخب ہوئے۔ ان کے بزرگ برسوں پہلے کراچی آئے تھے۔ سلیم صاحب کی ساری پالیٹکس بھی یہیں کی تھی (البتہ مری میں بھی ان کا آبائی کاروبار (ہوٹلنگ) جاری رہا) ممتاز قانون دان جناب خالد انور بھی کراچی میں رہتے‘ اور یہیں پریکٹس کرتے۔ ان کے والد چودھری محمد علی مرحوم (سابق وزیر اعظم) نے بھی اپنی زندگی کے آخری برس کراچی میں گزارے لیکن لاہور میں بھی گھر موجود تھا۔ چودھری صاحب نے ایوب خان کے خلاف اپوزیشن کی ساری سیاست یہیں بیٹھ کر کی۔ معاہدہ تاشقند کے خلاف اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بھی لارنس روڈ پر انہی کی وسیع و عریض کوٹھی میں منعقد ہوئی تھی (شیخ مجیب نے اپنے 6 نکات یہیں پیش کئے تھے) خالد انور، صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں نواز شریف حکومت کی برطرفی کے خلاف چیف جسٹس نسیم حسن شاہ والی سپریم کورٹ میں معزول وزیر اعظم کے وکیل تھے (اور یہ مقدمہ جیت گئے تھے) نواز شریف اپنی دوسری حکومت (1997) میں ان کی صلاحیت اور مہارت سے استفادہ کرنا چاہتے تھے؛ چنانچہ انہیں پنجاب سے سینیٹر منتخب کروا کے وزیر قانون بنایا۔ اسلام آباد کے رہائشی انور بیگ 2002ء میں (پہلی بار) کراچی سے سینیٹر منتخب ہوئے (یہاں کبھی ان کی ریکروٹنگ ایجنسی کا دفتر ہوتا تھا) پرویز مشرف کے چہیتے بیرسٹر سیف کا تعلق پشاور سے ہے‘ لیکن ایم کیو ایم کے کوٹے میں کراچی سے سینیٹ کے رکن ہیں۔ لاہور کے جم پل میاں عتیق سندھ میں ایم کیو ایم کے کوٹے سے سینیٹر ہیں (ان دنوں اسلام آباد میں ہوٹل چلاتے ہیں)۔ پروفیسر خورشید احمد 1985ء میں کراچی سے، 1988ء میں پنجاب سے اور آخر میں کے پی کے سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ پروفیسر غفور احمد صاحب 2002ء میں چودھری شجاعت حسین کے اصرار پر اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔
اداروں کا مقام اور ان کی وجہ سے افراد کو ملنے والی عزت اپنی جگہ لیکن ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں‘ جن کا وجود خود اداروں کے مقام اور مرتبے میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ ظفر صاحب کا شمار بھی انہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ عمر کے اس حصے میں اہم تر اور وسیع تر Role کی آرزو رکھتے تھے‘ اور ان کے خیال میں سینیٹ اس کے لیے پراپر فورم تھا۔ سردار فاروق لغاری کے استعفے کے بعد رفیق تارڑ صدر مملکت بنے تو سینیٹ میں ان کی نشست خالی ہو گئی۔ ظفر صاحب اس نشست کی خواہش رکھتے تھے‘ لیکن سیاسی خدمات اور جماعتی وفا داری کی بنا پر ملتان کے محمد رفیق رجوانہ اس کے حقدار قرار پائے (وہ بعد میں پنجاب کے گورنر بھی بنے) اکتوبر 2002 کے عام انتخابات کے بعد بڑے چودھری صاحب، ایس ایم ظفر کے گھر پہنچے اور سینیٹ کا ٹکٹ ان کی جھولی میں ڈال دیا۔ 
ظفر صاحب نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز، فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ سے کیا، لیکن ان کے شعور اور لاشعور میں معروف جمہوری تصورات موجود رہے۔ بھٹو دور میں لکھی گئی ''ڈکٹیٹر کون‘‘؟ انہی تصورات کا پرتو تھی۔ پیر صاحب پگاڑا کو خود کو ''جی ایچ کیو کا آدمی‘‘ قرار دینے میں کوئی عار نہ ہوتی۔ جنرل ضیاء الحق سے بھی دوستانہ تھا۔ ظفر صاحب تب پیر صاحب کی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے‘ لیکن انجمن حقوقِ انسانی کے نام سے اپنی این جی او بھی بنا رکھی تھی، جس میں بیگم مہناز رفیع اور ایم اے شکوری کا سرگرم تعاون بھی انہیں حاصل تھا۔ مارشل لاء کی گھٹن میں اس کی سرگرمیاں ہوا کا ٹھنڈا جھونکا تھیں۔ ان میں مارشل لاء کے خلاف برسر پیکار سیاسی کارکنوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کیلئے سالانہ ایوارڈز کا اہتمام بھی تھا۔البتہ اس میں شک نہیں کہ ظفر صاحب مزاجاً HAWKISH نہیں۔ اعتدال، احتیاط اور توازن ان کی شخصیت کے اہم اجزا ہیں۔ وہ تصادم میں نہیں، مفاہمت سے رستہ نکالنے میں یقین رکھتے ہیں۔ 2002 کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کی گتھی سلجھانے میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ 17ویں ترمیم پر مذاکرات کی کہانی وہ اپنی کتاب میں بیان کر چکے، یہ الگ بات کہ دسمبر 2004ء میں وردی اتارنے کے مشرف کے وعدے پر ایم ایم اے نے صدر کے وہ تمام صوابدیدی اختیارات تسلیم کر لیے‘ معروف پارلیمانی نظام میں جن کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
یہاں چلتے چلتے ایک اور بات بھی یاد آئی۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے صدر ضیاء الحق نے جس نیم جمہوری نظام کا آغاز کیا (موصوف خود فرمایا کرتے تھے کہ یہ ٹرانسفر آف پاور نہیں بلکہ شیئرنگ آف پاور ہے) اس میں انتخابی قوانین کے مطابق قومی (یا صوبائی) اسمبلی کا شکست خوردہ امید وار سینیٹ کا انتخاب نہیں لڑ سکتا تھا۔ اسی طرح کوئی شخص ایک وقت میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی صرف ایک ایک نشست پر امیدوار ہو سکتا تھا۔ 18ویں ترمیم میں ڈکٹیٹر کی 17ویں ترمیم کی بعض چیزوں کو قبول کر لیا گیا (مثلاً خواتین کی مخصوص نشستوں میں اضافہ اور ووٹر کی عمر 21 سال کی بجائے 18 سال) کیا جمہوریت کے مفاد میں ضیاء الحق دور کی مذکورہ بالا شقوں کی واپسی پر غور نہیں کیا جا سکتا؟
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *