وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

خالد چودھری کی سیاست اور صحافت ہم عمر ہیں۔ وہ لاہور کے ان نوجوانوں میں تھا ‘ جو دورِ طالب علمی ہی میں ذوالفقارعلی بھٹو (اور ان کی پیپلز پارٹی) سے عشق کا شکار ہوئے اور تاحال وفاداری بشرطِ استواری پر قائم ہیں۔ لکھنے پڑھنے کا شوق بھی تھا(ان دنوں اکثروبیشتر نظریاتی کارکنوں کو یہ ''مرض‘‘ لاحق ہوتا تھا اور لیفٹ‘ رائٹ دونوں طرح کے نظریاتی کارکنوں کا معاملہ یہی تھا)۔ خالد چودھری نے صحافت کا آغاز اپنے پارٹی پیپر سے کیا۔ یہ بند ہوا تو مختلف اخبارات میں قلم آزمائی کرتے رہے۔ آخر میں سلمان تاثیر کے میڈیا گروپ کے اردو اخبار کے ایڈیٹر بھی رہے۔فرخ سہیل گوئندی کی طرح خالد چودھری بھی سیاسی ونظریاتی اختلافات کو سماجی تعلقات میںحائل نہیں ہونے دیتا؛چنانچہ ہم جیسے رائٹسٹوں سے بھی رابطہ استوار رکھتاہے۔ الحمدللہ اِدھر ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم بھی فکر ونظر کے اختلاف کے باوجود ''ترقی پسند ‘‘اور ''روشن خیال‘‘ دوستوں کی خاصی طویل فہرست رکھتے ہیں (اس کے بیان میں بہت اختصار سے بھی کام لوں‘ تو آدھے سے زیادہ کالم اس کی نذر ہوجائے گا۔)
گزشتہ کالم میں ''ظفر صاحب کا گرامی نامہ اور ہماری گزارشات‘‘ میں معاہدہ ٔ تاشقند کے خلاف لاہور میں منعقد ہونے والی نیشنل کانفرنس کا ذکر بھی تھا۔ ستمبر1965ء کی جنگ میں ایک دوسرے کے مفتوعہ علاقوں سے واپسی‘ اس معاہدے کا بنیادی نکتہ تھا۔ تب سوویت یونین زندہ تھا‘ پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان اور ہندوستان کے وزیر ا عظم لال بہادرشاستری کے دستخطوں کے ساتھ اس معاہدے میں ‘ سوویت وزیر اعظم کو سیجن نے ''وچولے‘‘ کا کردار ادا کیا تھا۔ جس روز اس معاہدے پر دستخط ہوئے‘ اسی شب وزیر اعظم شاستری آنجہانی ہوگئے۔ میت کی تاشقند سے دہلی روانگی کے وقت صدر ایوب خان بھی کندھا دینے والوں میں شامل تھے۔
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے معاہدہ تاشقند پر ایوب خان کوآڑے ہاتھوں لیا۔ یہ ایک سال قبل صدارتی انتخاب میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف بدترین دھاندلی کا حساب چکانے کا اچھا موقع بھی تھا۔ اپوزیشن کا الزام تھا‘ ایوب خان نے میدان میں جیتی ہوئی جنگ ‘ مذاکرات کی میز پر ہاردی۔ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اسے اپنی نئی سیاست کا عنوان بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ ایوب خان نے ان کے مشوروں کے برعکس اس معاہدے پر سائن کردیئے تھے؛ اگر چہ قومی اسمبلی کے ڈھاکہ سیشن میں وہ اس کی حمایت میں صلح حدیبیہ کی مثال بھی لائے تھے۔ ایوب خان نے جو ن(1966ئ) میں بھٹو صاحب کو وزارتِ خارجہ سے سبکدوش کردیا۔
اپوزیشن کی نیشنل کانفرنس کے متعلق ہم نے لکھا کہ یہ سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی(1956ء کے آئین کے خالق) کی لارنس روڈ لاہور والی کوٹھی میں منعقد ہوئی تھی۔ خالد چودھری نے فون پر ہماری اصلاح کی کہ یہ کانفرنس لارنس روڈ پر نہیںچودھری صاحب کی گلبرگ مین بلیوارڈ والی کوٹھی میں ہوئی تھی(خالد چودھری خود بھی اس میں موجود تھا)۔ الطاف حسن قریشی اور شامی صاحب نے بھی خالد چودھری کی توثیق کی۔ ہم سے یہ'' سہو‘‘ اس لیے ہوا کہ چودھری صاحب کی ایک کوٹھی36لارنس روڈ پر بھی تھی جہاں آج کل ہمارے دوست حسن محمود زیدی کا دفتر ہے۔ اسی کانفرنس میں شیخ مجیب الرحمن نے اپنے 6نکات پیش کئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ1965ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں پیدا ہونے والے شدید عدم تحفظ کے احساس کا نتیجہ تھے۔ اُن دنوں یہ پراپیگنڈہ بھی بہت تھا کہ یہ چین تھا جس کی (خفیہ) دھمکی کی وجہ سے بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملے کی جرأت نہ کی‘ ورنہ کوئی خاطر خواہ دفاعی انتظامات وہاں موجود نہیں تھے۔ پاک فوج میں بنگالیوں کی تعدادبھی (ان کی آبادی کے تناسب سے) بہت کم تھی۔ ایک بنگال رجمنٹ اِدھر مغربی پاکستان کے محاذ پر تھی او راس نے بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ درجن بھر سے زائد تمغوں کی مستحق قرار پائی۔ مجیب کے چھ نکات میں‘ مشرقی پاکستان کے لیے اپنی ''ملیشیا‘‘ اور پاک بحریہ کا ہیڈ کوارٹر ڈھاکہ منتقل کرنے کے نکات اسی احساسِ عدم تحفظ کی پیدا وار تھے۔ 6نکات نے نیشنل کانفرنس میں ہنگامہ اٹھادیا۔ تب عوامی لیگ پاکستان کے سربراہ نواب زادہ نصر اللہ خان تھے اور مجیب مشرقی پاکستان عوامی لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ 6نکات نے عوامی لیگ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ مجیب نے6نکات کی بنیاد پر اپنی الگ عوامی لیگ بنالی اور نواب زادہ صاحب نے اپنی عوامی لیگ کو8نکاتی کاعنوان دے دیا۔
خالد چودھری کو یاد ہے‘ شیخ مجیب نے نیشنل کانفرنس کے اگلے روز یہ6نکات عاصمہ جہانگیر (تب عاصمہ جیلانی) کے والد ملک غلام جیلانی کی رہائش گاہ (مین بلیوارڈ گلبرگ) میں دوبارہ میڈیا کے سامنے پیش کئے۔ ان کا اصرار تھا‘ یہ پاکستان کو کمزور کرنے کا نہیں‘ بلکہ ہزار میل کا فاصلہ رکھنے والے دو حصوں پر مشتمل ملک کو مضبوط تر کرنے کا پروگرام ہے۔ ادھر ایوب خان کے نادان مشیروں نے اس صورتحال کو اپوزیشن کے خلاف ایکسپلائٹ کرنے کا مشورہ دیا؛ چنانچہ یہ خودسرکاری میڈیا تھا جو 6نکات کی تشہیر کا ذریعہ بن گیا( اس میں ایوب خان کے سیکرٹری اطلاعات الطاف گوہر کی ذہانت کا دخل بھی کم نہ تھا۔)
گزشتہ کالم میں یہ تجویز بھی‘ عام سیاسی کارکنوں کی دلچسپی کا باعث بنی کہ جنرل ضیا الحق کے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے قواعد وضوابط میں سے‘ ان دوشقوں کو دوبارہ لاگو کیا جائے‘ جن کے مطابق قومی (یا صوبائی) اسمبلی کا انتخاب ہارنے والے کوئی امید وار‘ سینیٹ کا انتخاب نہیں لڑسکتا تھا۔ اسی طرح ایک صوبے کے رہائشی کے کسی دوسرے صوبے سے سینیٹ کا الیکشن لڑنے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔ ہمارے دوست عبدالرحیم زاہد بھی ان ہی سیاسی کارکنوں میں شامل ہیں۔ زاہد کو دیکھ کر ‘ اس سے مل کر ہمیں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک یاد آجاتی ہے۔ تب اس کی مسیں بھیگ رہی تھیں‘جمعیت علماء اسلام اس کا پہلا (اور آخری عشق )تھا۔ جمعیت ایم آر ڈی میں شمولیت کے مسئلے پر دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ نواب زادہ صاحب کی کوششوں سے ایم آر ڈی کی تشکیل آخری مرحلے میں تھی کہ مفتی صاحب کو بلاوا آگیا۔ وہ ضیا الحق کے مار شل لا سے نجات کے لیے سیاسی جماعتوں کے وسیع تر اتحاد کے پرُجوش حامی تھے‘ جبکہ جمعیت میں مولانا عبداللہ درخواستی ‘مولانا سمیع الحق اور مولانا محمد اجمل خان جیسے اکابرین پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کو سیاسی گناہ سمجھتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت جمعیت علماء اسلام کا دھڑا ایم آر ڈی میں شامل تھا اور لاہور میں عبدالرحیم زاہد ان سیاسی کارکنوں میں نمایاں تھا‘ جو جمہوریت کی بحالی کے خواب آنکھوں میں سجائے صبح شام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف رہتے۔ کئی بار جیل یاترا کی‘ کئی بار پولیس کی لاٹھیوں کی زد میں آئے...وہ جمعیت علماء اسلام کا سیکرٹری اطلاعات بھی تھا۔ پولیس والوں کی نظروں سے بچ بچا کر اخبار والوں سے بھی رابطے میں رہتا۔ 
1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد جو نیجوصاحب کی وزارت عظمیٰ میں مخالف سیاسی کارکنوں کو بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ اپریل1986ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو (خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے) وطن واپس آگئیں‘ تو اب ایک نیا دور تھا۔ قربانیاں دینے والے ‘ لوئر مڈل کلاسیئے کارکن کہیں بہت پیچھے رہ گئے تھے۔فیض ؔنے کہا تھا ؎
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
اپنے ہاں بے وسیلہ سیاسی کارکن اپنی ہی جماعتوں میں‘ نیم تاریک راہوں میں مارے گئے۔ ان ہی میں ہمارا دوست عبدالرحیم زاہد بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو شاید اب اس کا نام بھی یاد نہ ہو۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *