نوری نت اور فلاحی ریاست

آج سے چالیس سال پہلے ایک فلم ریلیز ہوئی، نام تھا مولا جٹ، ہدایتکار یونس ملک کی اس فلم نے کامیابی کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، پاکستان کی فلم انڈسٹری اس کے بعد وہ نہیں رہی جو پہلے تھی، فلم کا مرکزی کردار مولا تھا جو سلطان راہی نے نبھایا جبکہ ولن نوری نت کا رول مصطفیٰ قریشی نے ادا کیا، مکالمے ناصر ادیب نے لکھے اور ایسے لکھے کہ امر ہو گئے۔ نوری نت کا کردار بڑا دلچسپ تھا، یہ پنجاب کے ایک ایسے بدمعاش کا کردار تھا جسے ایک جی دار دشمن کی تلاش تھی، اسے دشمن داری میں لطف آتا تھا، وہ چاہتا تھا کہ پنجاب میں کوئی ایسا دشمن ہو جو اُس کا ہم پلہ ہو جس سے لڑائی میں مزا آئے، نوری نت کی دہشت کی وجہ سے کوئی بھی اس سے دشمنی مول نہیں لیتا تھا، بالآخر مولے کی شکل میں اسے ایک دشمن مل جاتا ہے جس سے وہ پنجہ لڑا سکے۔ باقی تاریخ ہے۔

نوری نت محض فلمی کردار نہیں تھا، ایسے لوگ حقیقی زندگی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ریاستوں میں بھی انسانوں جیسی خصلتیں پائی جاتی ہیں، کچھ ریاستیں دشمن داری میں ہی اپنی معیشت اور توانائی برباد کر بیٹھتی ہیں جیسے کہ شمالی کوریا جبکہ بعض ریاستیں اچھے انسانوں کی طرح اپنی توجہ فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کرکے فلاحی ریاست بن جاتی ہیں جسے کہ ناروے، سویڈن، ڈنمارک۔ اسی طرح جیسے کچھ انسان صرف اپنے کام سے کام رکھتے ہیں کسی بکھیڑے میں نہیں پڑتے، ان کا کوئی دشمن نہیں ہوتا، اُسی طرح کچھ ریاستوں کی بھی یہی پالیسی ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنے آپ میں رہتی ہیں، سویٹزر لینڈ اس کی بہترین مثال ہے۔ انسانوں کی طرح کچھ ریاستیں بدمعاش بھی ہوتی ہیں، ان کے پاس چونکہ دولت، طاقت اور وسائل ہوتے ہیں سو وہ چاہتی ہیں کہ دنیا میں وہی اصول چلے جو اُن کی خواہش ہے، جیسے کہ امریکہ بہادر۔ کچھ ریاستیں ایسی ہیں جو ماضی میں بدمعاش تھیں مگر جب بڑے بدمعاش نے انہیں پھینٹی لگائی تو وہ تائب ہو گئیں اور اپنی پوری توجہ معاشی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر لی، جیسے کہ جرمنی اور جاپان۔ ہماری ریاست کی مثال سب سے دلچسپ ہے، ہم دشمن دار ہیں مگر ترقی بھی کرنا چاہتے ہیں، ہم بدمعاشوں کو آنکھیں بھی دکھاتے ہیں مگر اپنے پلے ککھ نہیں، ہم اسلامی فلاحی ریاست بھی بننا چاہتے ہیں مگر پاس ایک دھیلہ نہیں، ہم جمہوری مملکت کے دعویدار ہیں مگر شہری آزادیوں کے ہجے بھی نہیں جانتے، ہم دنیا بھر میں بنیادی انسانی حقوق کا واویلہ کرتے ہیں مگر اپنے ہاں پُرامن احتجاج برداشت نہیں کرتے، ہم نے مسلمانوں کا تابناک ماضی بھی واپس لانا ہے مگر حال میں اپنے شہریوں کو آزادیٔ اظہار کا حق نہیں دینا! دنیا میں ایسے مرنجاں مرنج انسان ہوں نہ ہوں ایسی ہماری ریاست ضرور ہے جس میں مولا جٹ سے لے کر نوری نت اور ہیری پوٹر سے لے کر رابن ہڈ تک تمام شیڈز موجود ہیں۔

انسانوں کی طرح ریاستیں بھی کسی رول ماڈل سے استفادہ کر سکتی ہیں۔ اگر کوئی ریاست اپنے شہریوں کو ایک فلاحی نظام دینا چاہتی ہے تو اُس ریاست کو وہی کچھ کرنا پڑے گا جو کامیاب فلاحی ریاستیں کرتی ہیں، یہ ممکن نہیں کہ شمالی کوریا اپنے تمام وسائل میزائل بنانے میں لگا دے اور اُس کے بعد فلاحی ریاست بننے کی کوشش کرے، یہ ممکن نہیں کہ برما کی فوجی جنتا ملک میں مارشل لاء نافذ رکھے اور ساتھ ہی شہری آزادیوں کی ضمانت بھی دے۔ دنیا کی کامیاب، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاستوں میں کچھ باتیں مشترک ہیں، اگر یہ باتیں کسی ریاست میں نہیں پائی جاتیں تو وہ ریاست لاکھ دعویٰ کرے کہ وہ عوام کی فلاح چاہتی ہے یہ دعویٰ جھوٹ ہی رہے گا۔ مثلاً کامیاب ریاستیں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرتی ہیں، وہاں فرد آزادہے، آزادیٔ اظہار پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ماسوائے اس بات کہ کوئی جھوٹا الزام لگا کر کسی کی پگڑی نہیں اچھالے گا (اس بارے قانون بہت سخت ہے)، شہری آزادیوں کی ضمانت ہوتی ہے، مگر کسی پر غداری کے فتوے نہیں لگائے جاتے، اقلیتیں، اکثریت ہی کی طرح خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں ، عورتوں کو مکمل حقوق اور آزادی حاصل ہوتی ہے، لوگوں کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے، کسی پُرامن جلوس پر گولی چلا کر شہریوں کو قتل کرنے کا کوئی تصور نہیں ہوتا، تمام ریاستی ادارے ایک ہی آئین اور قانون کے تابع ہوتے ہیںاور آئین کو پامال کرنا خواب میں بھی ممکن نہیں ہوتا۔ آزاد معاشرے کے سب سے بڑے علمبردار اور بیسویں صدی کے دانشور کارل پوپر نے کہا تھا :

ــ"'The enemies of freedom have always charged its defenders with subversion. And nearly always they have succeeded in persuading the guileless and well-meaning."

اِس معیار پر کسی بھی ریاست کو پرکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کیا اُس کا فلاحی ریاست کا دعویٰ درست ہے ؟ دراصل ہم جیسی مملکتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ہی جست میں تمام منازل پار کرکے ایک ایسی ریاست بنا دینا چاہتے ہیں جو مثالی ہو، جہاں خدا کا حکم چلتا ہو، جہاں فلسفی حکمران ہو، جو زمین پر گویا جنت ہو۔ اس مقصد کے حصول کی آڑ میں ریاستیں عوام کی آزادی سلب اور بنیادی حقوق پامال کرتی ہیں، ان کے احتجاج کو کچلتی اور ان کے اظہار کا گلا یہ کہہ کر گھونٹتی ہیں کہ ایسا تابناک مستقبل کے لیے ضروری ہے، ہم ابھی اُن عیاشیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے جو دوسرے ممالک کو شخصی آزادیوں اور مغربی جمہوریت کی شکل میں حاصل ہیں کیونکہ وہاں کے عوام یہاں کی طرح جاہل نہیں اور وہ کرپٹ حکمرانوں کو منتخب نہیں کرتے۔ استبدادی ریاستیں اِس چُورن کو بیچنے کے لیے پروپیگنڈا کا استعمال کرتی ہیں تاکہ عوام کو اپنے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے لاعلم رکھا جائے۔ بقول کارل پوپر انسان کسی عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں ہو سکتا بلکہ ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ زندگی اپنی مرضی کے منصوبے کے تحت گزارے بشرطیکہ اس کوشش میں کسی دوسرے انسان پر کوئی آنچ نہ آئے، زمین پر جنت بنانے کی کوشش کا نتیجہ جہنم کی شکل میں برآمد ہوتا ہے، سو معاشرے کو سنوارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی سماجی مسئلے کو عقلی بنیادوں پر اُن ٹھوس شواہد کی بنیاد پر حل کیا جائے جو ماضی میں نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔ ایسی باتیں ہمیں چونکہ بور لگتی ہیں، ان میں کسی قسم کا شارٹ کٹ نہیں ہوتا، کسی مولا جٹ ٹائپ مسیحا کی اِن میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی اِس لیے ہم اِن باتوں کو سننا نہیں چاہتے، ہمیں تو نوری نت کے مکالمے سننے کا لطف آتا ہے، سو بسم اللہ، ایک مرتبہ پھر مولا جٹ بن رہی ہے۔

کالم کی دُم:چین ترقی کا ایسا ماڈل ہے جہاں جدید فلاحی مملکت جیسا تصور آزادی نہیں، یقیناً یہ ایک ایسا استثنیٰ ہے جو ہمارے چُورن بیچنے والے دانشوروں کو بہت پسند ہے۔ موقع ملا تو اس چُورن کا تجزیہ بھی کر کے دیکھیں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *