جناح کی آواز

میرے نزدیک ہماری بیشتر مشکلات کا سبب یہ ہے کہ ہماری تاریخ اِس وقت کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ عوام اپنی تاریخ سے بیخبر ہو گئے ہوں اور ماہرین کے پاس معلومات موجود ہوں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تاریخ بالکل اس طرح گم ہو گئی ہے جیسے کسی کا حافظہ کھو جائے۔

اس لیے اس سال میرے دو منصوبے ہیں۔

پہلا منصوبہ یہ ہے کہ کچھ کتابیں پیش کی جائیں۔ ان میں علامہ اقبال کے مستند حالاتِ زندگی پر مبنی تین کتابیں شامل ہیں، جن میں میری اپنی رائے شامل نہیں ہو گی۔ صرف واقعات اور حقائق ہوں گے۔ "اقبال کی جستجو” 1906 تک، "اقبال کا راستہ” 1907 سے 1926 تک اور "اقبال کی منزل” 1927 سے 1946 کے عرصے پر محیط ہے لیکن پہلے "اقبال کی منزل” پیش کی جا رہی ہے کیونکہ اس کا زمانہ تحریکِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ رائٹ وژن فاؤنڈیشن یہ کتاب شائع کر رہی ہے اور انشأ اللہ 23 مارچ تک آپ کے ہاتھوں میں ہو گی (کوشش ہو گی کہ آپ گھر بیٹھے اسے خرید سکیں۔ اس سلسلے میں جلد ہی معلومات فراہم کر دی جائیں گی لیکن اگر آپ چاہیں کہ ایمیل کے ذریعے آپ کو باخبر رکھا جائے تو [email protected] پر اپنا ایمیل ایڈریس بھیج دیجیے)۔۔

میں نے اس سے پہلے اقبال کی سوانح پر جو کتابیں لکھی ہیں، یہ اُن سے بالکل الگ ایک نئی سیریز ہے۔

میرا دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ ہر ہفتے ایک پوسٹ کے ذریعے کچھ اہم باتیں سب کے ساتھ شئیر کروں۔ ان کی بنیاد بھی یہی کتابیں ہوں گی لیکن کتابوں کے برعکس یہاں میں اپنی رائے بھی پیش کروں گا۔ چنانچہ اپنی اُردو ویب سائٹ اور بلاگ کو نئے سرے سے ترتیب دے کر بہتر بنا رہا ہوں۔ یہ ہفتہ وار پوسٹس یہیں پیش کی جائیں گی۔

بہت سے پڑھنے والوں نے اس کی فرمایش بھی کی ہے۔ ایسے احباب سے میں یہ  کہنا چاہتا ہوں کہ آئیے ہم یہ فرض کر لیں کہ ہم ایک سال کے لیے ایک درس گاہ میں داخلہ لے رہے ہیں، جو کسی عمارت میں نہیں بلکہ ہمارے دِلوں میں ہے۔ ہم ایک سال کا کورس کر رہے ہیں، جس کا مقصد اپنے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنا ہے۔ یہ ہفتہ وار پوسٹس اس "کورس” کے لیکچر ہیں۔ اور جو کتابیں میں اس سال پیش کر رہا ہوں، وہ اِس کے لیے درسی کتابیں ہیں۔

اگلے دس ہفتے تک میں "اقبال کی منزل” کے تعارف پر مبنی پوسٹس پیش کروں گا۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ ہمارے اِس ایک سال کے "کورس” کا پہلا حصہ دس ہفتوں پر مبنی ہے، اور اِن دس ہفتوں کے لیے "اقبال کی منزل” ہماری درسی کتاب ہے جس پر لیکچر دئیے جا رہے ہیں۔

آج کا موضوع

آج ہم یہ دیکھیں گے کہ ہمیں اپنی تاریخ کے جو واقعات معلوم ہیں، اُن سب میں سے ایک ضروری چیز نکال دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ واقعات بھی بیجان ہو گئے ہیں، اور ہم بھی۔ مثال کے طور پر میں ایک ایسا موضوع منتخب کر رہا ہوں جو ہم سب نے کبھی نہ کبھی ضرور پڑھا ہوتا ہے، یعنی "جناح کے 14 نکات”۔ آئیے، آج اُس زمانے میں واپس چل کر دیکھتے ہیں۔

دہلی مسلم تجاویز اور نہرو رپورٹ

مارچ 1927 میں جناح کی دعوت پر کئی مسلم رہنما دہلی کے ویسٹرن ہوٹل میں جمع ہوئے۔ تقریباً دس برس پہلے ہندو راضی ہو گئے تھے کہ مسلمان اپنے نمایندے خود منتخب کیا کریں لیکن اب اکثر ہندو رہنماؤں کو اعتراض ہو رہا تھا۔ اس لیے اُس روز مسلم رہنماؤں نے کچھ متبادل تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندو انہیں مان لیں تو مسلمان علیحدہ انتخاب چھوڑ دیں گے۔

انڈین نیشنل کانگرس کے سالانہ اجلاس (دسمبر 1927) میں کہا گیا کہ مسلم رہنماؤں نے یہ تجاویز پیش کر کے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا ہے۔ کانگرس نے تجاویز کی حمایت میں قرارداد منظور کی، اُسے ’’قراردادِ اتحاد‘‘ کا نام دیا اور کہا:

’’آج آپ نے آزاد ہندوستان کی صرف بنیاد ہی نہیں رکھی۔ بلکہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ اُسے حاصل کر رہے ہیں۔‘‘

اس کے بعد موتی لعل نہرو (جواہر لعل کے والد) کی صدارت میں ایک کمیٹی بنی تاکہ ہندوستان کا دستور تیار کر کے انگریزوں کے سامنے پیش کرے۔ لیکن جب اس کمیٹی نے (اگست 1928 میں) اپنی رپورٹ پیش کی تو مسلم رہنماؤں کی دہلی والی تجاویز اور کانگرس کی ’’قراردادِ اتحاد‘‘ نہ صرف غائب تھیں بلکہ تقریباً ہر بات ان کے برعکس تھی!

سرے سے وہ چیز ہی بھلا دی گئی جسے کچھ ہی مہینے پہلے کانگرس نے ہندوستان کی آزادی کی بنیاد کہا تھا۔

آل انڈیا مسلم کانفرنس

اب مسلم جماعتیں اکٹھی ہوئیں تاکہ یہ طے کریں کہ مسلمانوں کا متفقہ مطالبہ کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم  کانفرنس بنائی گئی جو کچھ سال قائم رہی (بعد میں علامہ اقبال بھی اس کے صدر ہوئے)۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آغا خاں سوئم نے کہا:

’’دورِ جدید کی تاریخ کا اہم سبق، میرے نزدیک،  یہ ہے کہ صرف وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں اور صرف وہی پالیسیاں قوموں کی عظمت کا باعث بنتی ہیں جو چند رہنماؤں یا مفکروں کے افکار و تصورات پر مبنی نہ ہوں، خواہ وہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، بلکہ جو سب کے اتفاقِ رائے اور عوام  کی آرأ پر مبنی ہوں… وقت آ گیا ہے کہ ہمارے رہنما زمین سے کان لگا کر عوام کے  خیالات اور خواہشات کا صحیح اندازہ کرنے لگیں۔‘‘
یکم جنوری 1929 کو تمام شرکأ نے متفقہ طور پر  قرارداد پیش کی تو اقبال نے کہا:
’’آج اس کانفرنس میں متفقہ طور پر جو ریزولیوشن پیش ہوا ہے، وہ نہایت صحیح ہے اور اس کی صحت کے لیے میرے پاس ایک مذہبی دلیل ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے آقائے نامدار حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری امت کا اجتماع کبھی گمراہی پر نہ ہوگا۔‘‘

جناح کے 14 نکات

جناح اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے بلکہ یہ کہا کہ مسلمانوں کو صرف مسلم لیگ کے  پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ اُن دنوں دو گروپوں میں تقسیم تھی اور جناح کے گروپ نے کانفرنس میں شرکت کے خلاف قرارداد بھی منظور کی۔

لیکن جب کانفرنس  نے مسلمانوں کا ایک متفقہ فیصلہ پیش کر دیا تو جناح قائل ہو گئے۔ اُن کے مسلم لیگ گروپ کی کونسل نے ان سے بھی کہا کہ متفقہ مطالبات کی قرارداد تیار کریں۔ اُنہوں نے جو دستاویز تیار کر کے (مارچ 1929 کے اواخر میں) کونسل کے حوالے کی وہ 14 نکات پر مبنی تھی، اس لیے اسے "14 نکات” کہا گیا۔ لیکن اسے پیش کرتے  ہوئے انہوں نے جو ضروری وضاحت کی، وہ عام طور پر بھُلا دی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا:

’’میں ایک چیز واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ یہ تاثر موجود ہے کہ میں نے  لیگ کی کونسل  کے سامنے جو قرارداد پیش کی ہے وہ  میرے ذاتی خیالات پر مشتمل ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ میں نے محض وہ کام پورا کیا ہے جو مجھے کونسل کی طرف سے 3مارچ کو سونپا گیا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مختلف گروہوں اور مکاتیبِ فکر سے مشاورت کروں اور اُن کے سامنے ایک ڈرافٹ پیش کروں جسے عوام کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہو۔ لہٰذا میں نے ان ہدایات کے تحت، اور اپنی بہترین صلاحیت اور سوجھ بوجھ کے مطابق، مختلف لوگوں سے خیالات لیے ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ایک ایسا ڈرافٹ پیش کروں جس میں اکثریت کی آرأ شامل ہوں۔ لیکن بہرحال یہ محض ایک ڈرافٹ ہے اور حتمی فیصلہ سبجکٹس کمیٹی پر منحصر ہے۔‘‘

یعنی جناح نے انہیں اپنے نکات کہہ کر پیش نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ مختلف لوگوں سے لیے گئے ہیں۔ حقیقت میں ان کا مضمون مسلم کانفرنس کی قرارداد کے مطابق تھا۔ اس لیے جلد ہی مسلم کانفرنس نے بھی اپنی قرارداد کو 14 نکات کی صورت میں ترتیب دے دیا۔ اگلے دس بارہ سال تک سیاسی گفتگو میں جناح کے 14 نکات، مسلمانوں کے 14 نکات، مسلم کانفرنس کی قرارداد اور مسلم کانفرنس کے 14 نکات کا ایک ہی مطلب سمجھا جاتا تھا۔ جواہر لعل نہرو نے تو اقبال کے 14 نکات بھی کہا۔

لاعلمی کے سرچشمے

کہتے  ہیں کہ کتابیں پڑھنے سے علم بڑھتا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض کتابوں کی حد تک یہ درست ہو ۔ لیکن آج کل ایسی کتابیں خاصی ہو گئی ہیں جنہیں پڑھنے سے علم گھٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایک امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹینلے والپورٹ کی لکھی ہوئی ’’جناح آف پاکستان‘‘ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ قائداعظم کی بہترین سوانح ہے۔ لیکن اسے پڑھ کر قائداعظم کے متعلق علم میں اضافہ ہو سکتا ہے یا کمی، اِس کا فیصلہ آپ ایک مثال سے کر لیجیے (مزید مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں)۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا، جناح مسلم کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اُس کانفرنس کی سرکاری رپورٹ میں اُن کا ٹیلی گرام ہے، تقریروں میں بھی اس بات کا ذکر ہے اور جناح کی مسلم لیگ کی قرارداد بھی ہے۔
لیکن اب آپ والپورٹ صاحب کی کتاب کے صفحہ 103 پر اسی کانفرنس کے حوالے سے یہ منظرکشی ملاحظہ فرمائیے:
’’1929 کے پہلے دن وہ آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں داخل ہوئے، جس کی صدارت دہلی میں آغا خان کر رہے تھے … شفیع اپنے پنجابی رفقاء کے ساتھ وہیں موجود تھے جب جناح لال قلعہ کے پریڈ گراؤنڈ پر بنے ریشمی پنڈال میں داخل ہوئے۔ جناح تاخیر سے آئے تھے اور اکیلے بیٹھے تھے۔ وہ ہنوز متذبذب تھے … کیا یہ واقعی اُن کا وَطن تھا؟ کیا یہ حقیقتاً انہی کے لوگ تھے؟“
مصنف نے کسی ماخذ کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور دیتے بھی کیسے جبکہ ماخذ صرف اُن کا بے لگام تخیل ہے۔ یہ انجانے میں کی گئی غلطی ہو، جان بوجھ کر تاریخ بگاڑنے کی کوشش ہو یا خالص اور مکمل جہالت، بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اِس قسم کی کتابوں سے علم اور شعور میں اضافہ نہیں بلکہ صرف کمی واقع ہو سکتی ہے۔

راہِ عمل

آج ہم نے دیکھا کہ اُس زمانے کے تین بڑے مسلمان رہنماؤں یعنی آغا خاں، اقبال اور جناح نے کہا کہ وہ اپنی رائے قوم سے قبول نہیں کروانا چاہتے بلکہ قوم کی رائے کو خود قبول کرنا چاہتے ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ آج کی پوسٹ سے ہم صرف یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ خیالات کے جنم لینے کا صرف یہی طریقہ نہیں ہوتا کہ خیال کسی فردِ واحد کے ذہن میں جنم لے اور پھر وہ فرد معاشرے کو قائل کرنے کی کوشش کرے۔

دوسرا طریقہ بھی ہے، جو ہم نے یہاں دیکھا کہ خیالات معاشرے میں اجتماعی طور پر پیدا ہوئے اور مفکر یا لیڈر نے صرف ان خیالات کو جمع کر کے ان کے درمیان وحدت دریافت کرنے کی کوشش کی۔ اقبال نے اس طریقے کی ایک علمی وضاحت بھی پیش کر رکھی ہے لیکن وہ وضاحت ہماری سمجھ میں کیسے آ سکتی ہے جب تک ہمیں کچھ مثالیں معلوم نہ ہوں؟

اسی لیے آج اس کی ایک اہم مثال آپ کے سامنے پیش کی ہے، یعنی 14 نکات جناح نے قوم کو نہیں بلکہ قوم نے جناح کو پیش کیے تھے۔ 14 نکات کے بارے میں یہی وہ اہم بات ہے جسے اس موضوع سے خارج کر کے اسے بھی اور ہمیں بھی بیجان کر دیا گیا ہے۔

میری تجویز ہے کہ اِس بات کو زیادہ اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے ہم اِسے ایک ایسے قومی نغمے سے منسلک کر لیں جو شاید ہم سب کو زبانی یاد ہے۔

صہبا اختر کے "میں بھی پاکستان ہوں، تُو بھی پاکستان ہے” میں شاعر اپنا نظریہ معاشرے پر مسلط کرنے کے لیے بیتاب نہیں ہے بلکہ وہ اُسی جذبے سے سرشار ہے جو ہم نے آج کی پوسٹ میں بعض بڑے رہنماؤں کی تقاریر میں دیکھا ہے۔ وہ یہ ضرور کہہ رہا ہے کہ پاکستان "عقیدہ” اور "نظریہ” بھی ہے لیکن اُس کے نزدیک "رنگ برنگی دنیا” میں اس عقیدے اور نظریے کی پہچان بھی یہی ہے کہ ہم سب اس پر ہمیشہ متفق ہو جاتے ہیں۔ آئیے، اِس نغمے کو اُس تقریر کی روشنی میں سنتے ہیں جو جناح نے 14 نکات پیش کرتے ہوئے کی تھی:

کہتی ہے یہ راہِ عمل، آؤ ہم سب ساتھ چلیں
مشکل ہو یا آسانی، ہاتھ میں ڈالے ہاتھ چلیں!

 

میرا خیال ہے کہ ہم میں سے کوئی وہ دلخراش سانحہ نہیں بھول سکتا جو 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں پیش آیا تھا۔ اُس موقع پر ایک پاکستانی ٹرک ڈرائیور نے، جو غالباً سعودی عرب میں کام کرنے گیا ہوا تھا، جو پیغام اپنی ویڈیو میں پوسٹ کر کے سوشل میڈیا پر شئیر کیا وہ میں آج آپ کے سامنے اِس لیے پیش کر رہا ہوں کہ ذرا غور کیجیے، اِس ٹرک ڈرائیور کے دل سے جس نے غالباً بہت اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی ہے، اُس اچانک سانحے پر بیساختہ جو آواز نکلی اُس میں وہی شعور جھلک رہا ہے جو آج ہم نے جناح کی 14 نکات والی تقریر اور بعض دوسرے تاریخی بیانات میں دیکھا ہے۔

اگر مجھے اِس شخص کا پتہ معلوم ہوتا تو میں "اقبال کی منزل” کی ایک اعزازی کاپی اِسے یہ کہہ کر پیش کرتا کہ اس میں جو کچھ ہے، وہ آپ کو پہلے سے معلوم ہے۔

 

مجھے افسوس ہے کہ اِس چار سال پرانی ویڈیو نے پرانے زخم تازہ کر دئیے ہوں گے۔ لیکن ویسے بھی ہم حال ہی میں پیش آنے والے سانحۂ ساہیوال کی وجہ سے بھی سوگوار ہی ہیں، اِس لیے "اِس دنیا میں جینا ہے تو اپنے آپ کو جانو!”

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *