جس طرح شام کو بازار کسی گائوں میں

میجر عامر کا فون تھا، تم نے اپنے ''گائوں‘‘ پر جو کالم لکھا، اِسے مِیں اپنے ''گائوں‘‘ میں بیٹھ کر انجوائے کر رہا ہوں۔ صوابی سے چار کلومیٹر پہلے جہانگیرہ روڈ پر عامر کے گائوں ''پنج پیر‘‘ کا ایک اہم حوالہ ان کے والد شیخ القرآن مولانا محمد طاہر (مرحوم) اور ان کا مدرسہ ہے۔ مولانا محمد طاہر علاقے میں پہلے ''پختون‘‘ مولوی تھے۔ پختونوں کے معاشرے میں تب ''مولوی‘‘ کو کوئی خاص سماجی مرتبہ حاصل نہیں تھا؛ چنانچہ خوانین اور کھاتے پیتے پختونوں کے ہاں اپنے بچوں کو ''مولوی‘‘ بنانے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ عامر کے دادا نے اس ''روایت‘‘ کو توڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنے صاحبزادے محمد طاہرکو باقاعدہ مولوی بنایا۔ شیخ القرآن محمد طاہر کا مدرسہ خطے میں تعلیم و تبلیغِ دین کا اہم ذریعہ بن گیا۔ افغانستان سے بھی لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے یہاں بھیجا کرتے۔ مولانا سمیع الحق (مرحوم) کے والد مولانا عبدالحق کے مدرسہ حقانیہ کی طرح، پنج پیر سے فارغ التحصیل علماء و آئمہ کی بھی بڑی تعداد تھی، جس نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں اہم کردار ادا کیا۔ اس باعث میجر عامر بھی افغان جہادی قیادت میں خاص عزت و احترام سے دیکھے جاتے۔ افغان جہاد کے دنوں میں میجر عامر اسلام آباد آئی ایس آئی کے انچارج تھے‘ اور اس دوران انہوں نے جس قابلِ رشک کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ہارون الرشید اس کی بنا پر عامر کو انٹیلی جنس کا اساطیری کردار قرار دیتے ہیں، جو دنیا کے بڑے سے بڑے انٹیلی جنس آپریٹر سے کم نہیں۔ محترمہ کے پہلے دور میں آپریشن''مڈ نائٹ جیکالز‘‘ کا الزام عامر کے شاندار کیریئر کے اختتام کا باعث بن گیا۔ میاں صاحب کے تیسرے دور میں پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے لیے سرکاری کمیٹی میں میجر عامر بھی تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت تسلی بخش تھی مگر کچھ داخلی و خارجی عوامل سدّ راہ بن گئے اور نوبت آپریشن تک پہنچ گئی۔
میجر عامر بتا رہے تھے کہ وہ ڈاکٹر شاہد صدیقی اور ان کے رفقا ڈاکٹر بخاری، ڈاکٹر حکم داد، ڈاکٹر فضل ربی اور ڈاکٹر خالد سلمان کے ساتھ اپنے گائوں آئے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی چار سالہ وائس چانسلر شپ سے فراغت کے بعد ان دنوں نمل یونیورسٹی میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔ عامر کے دیگر مہمان بھی نمل یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں (یہ میانوالی میں عمران خان والا نمل کالج نہیں، اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز ہے) سوات کے چشموں سے بننے والی بادری ندی کے کنارے ''پنج پیر‘‘ کے حسین نظاروں میں قلب و روح کے بالیدگی کا خاص سامان ہے۔ اسلام آباد کے شب و روز سے اکتا کر میجر عامر اپنے دوستوں کے ساتھ پنج پیر چلے آتے ہیں۔ ہمیں بھی کئی بار دعوت دی، لیکن ہم محروم ہی رہے۔ صرف ایک بار جانا ہوا، غالباً دسمبر2015 میں عامر کے جواں سال بھتیجے محمد یامان کی وفات پر تعزیت کے لیے۔ عامر کے بڑے بھائی مولانا محمد طیب کا بیٹا، اسلام آباد سے گائوں آیا ہوا تھا کہ ہیوی بائک پر حادثے کا شکار ہو گیا۔ جناب سجاد میر اور سلمان غنی کے ساتھ ہم شام کو پہنچے اور عشا کے بعد لوٹ آئے؛ البتہ عامر کے اسلام آباد والے گھر میں عشائیے سے لطف اندوز ہونے کا کئی بار موقع ملا۔ اسلام آباد جائیں اور واپسی کی جلدی نہ ہو تو عامر کے ہاں عشائیہ لازم ہوتا ہے۔ ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع ہے جس میں سیاستدان، صحافی، اساتذہ، علما سب شامل ہیں۔ عربوں کی طرح پختونوں کا دستر خوان بھی وسیع ہوتا ہے‘ اور عامر تو اس کے لیے خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے بقول، اس پر ان کے پلّے سے کچھ نہیں جاتا، مچھلی، چکن، چاول، آٹے اور دودھ سمیت سب کچھ گائوں سے آتا ہے۔
عامر بہت اعلیٰ ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ انہیں سینکڑوں شعر اور حکایات و روایات یاد ہیں، جنہیں وہ موقع محل کی مناسبت سے سناتے‘ اور سماں باندھ دیتے ہیں۔ ہمارے گزشتہ کالم میں شہر اور گائوں کے ذکر پر انہوں نے فون پر کچھ اشعار بھی سنائے۔ پشاور کی معروف علمی و ادبی شخصیت اور ڈرامہ نگار پروفیسر ناصر علی سید کے (مختلف کیفیات) کے حامل دو شعر ؎
عجیب میٹھی سی چھائوں میں دن گزرتا ہے
جہاں بھی جائوں، میرا گائوں ساتھ رہتا ہے
کچھ شہر کی شاموں میں بھی ایک سحر تھا ناصر
کچھ گائوں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا
یہ کیسے ممکن تھا کہ اس موقع پر عامر کو اپنے استاد احمد فراز یاد نہ آتے ؎
دن کے ڈھلتے ہی اجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسی
جس طرح شام کو بازار کسی گائوں میں
گزشتہ کالم میں شہر اور گائوں کے ذکر پر کئی دوستوں نے اشعار لکھ بھیجے۔ عطیہ اقبال زیدی، صلاح الدین (شہید) کی ادارت کے دنوں میں ''جسارت‘‘ میں ہماری کولیگ تھیں۔ جماعتی خاندان کی یہ لڑکی حجاب کے ساتھ بھی کراچی کے صحافتی افق پر تیزی سے ابھری اور پھر ''ریٹائرمنٹ‘‘ لے لی۔ ان دنوں لکھتی نہیں، صرف پڑھتی ہیں۔ اپنے واٹس ایپ میسج میں کالم میں نعتیہ اشعار کو بطور خاص سراہا اور بتایا کہ کالم کو فیس بک پر بھی شیئر کر دیا ہے۔ ''شہر‘‘ کے حوالے سے ایک شعر بھی لکھ دیا ؎
ہم اپنے شہر میں تھے اک اکائی کی صورت
تمہارے شہر میں آ کر تو بٹ بھی سکتے ہیں
شہزاد احمد لاہور سے ہمارے ساتھ جدہ گیا تھا، ہم لوٹ آئے اور عبدالمالک مجاہد اسے اپنے ادارے میں ریاض لے گئے۔ اسے اسلم کولسری یاد آئے ؎
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
جناب ڈاکٹر صفدر محمود کا فون آیا، تم نے بہاولپور کا ذکر کیا تو مجھے یہاں کی ایک اہم شخصیت‘ چودھری اختر علی‘ یاد آ گئی۔ معروف قلم کار خالد اختر (مرحوم) کے والد۔ خالد اختر کی تصانیف کو تشنگانِ علم و ادب اور اربابِ نقد و نظر میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس بھی ان کے پبلشرز میں شامل تھا۔ 1964ء میں شائع ہونے والے ان کے ناول ''چاکیواڑہ میں وصال‘‘ نے آدم جی لٹریری ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔
لیکن چودھری اختر علی کا ذاتی حوالہ بھی کم نہ تھا۔ ان کا آبائی علاقہ گجرات کا قصبہ ''کھوڑی‘‘ تھا۔ بہاولپور میں ڈپٹی کمشنر رہے‘ اس دوران شہر میں ڈویلپمنٹ اور شہریوں کی خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد یہیں کے ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کا رخ کیا، اس کے لیے ایوب خان کی کنونشن لیگ ان کا انتخاب تھی۔ ایوب خان کے دور میں، قومی اسمبلی کے انتخابات (1965) میں، پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ منتخب ہوئے۔ ان کے داماد اسلم جلوانہ، برسرِ اقتدار کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔
''تحریکِ پاکستان‘‘ ممتاز محقق اور دانشور کا خصوصی موضوع ہے‘ اور اس حوالے سے ترقی پسند اور لبرل و سیکولر دانشوروں کے ساتھ، جواب الجواب کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ انہیں دکھ تھا کہ اب اپنے ہاں لارڈ مائونٹ بیٹن اور گاندھی جی کو بھی پاکستان اور مسلمانوں کا عظیم خیر خواہ قرار دینے کی مہم شروع ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر صفدر محمود وفاقی سیکرٹری کے عہدے تک پہنچے۔ اس میں کچھ ماہ و سال میاں صاحب کی وزارتِ عظمیٰ اور وزارتِ اعلیٰ کے بھی تھے۔ تب ان کا شمار میاں صاحب کے معتمد ترین بیوروکریٹس میں ہوتا تھا۔ اس ''شہرت‘‘ کی قیمت بھی انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں ادا کی۔ اب ایک عرصے سے میاں صاحب کے ساتھ اختلافات رکھتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا، ڈاکٹر صاحب گزشتہ دنوں میاں صاحب سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل گئے۔ ہم نے پوچھا، تو ٹال گئے کہ اس میں ''خبر‘‘ والی کیا بات؟ اختلافات اور شکایات اپنی جگہ لیکن میاں صاحب کی شخصی خوبیوں، ان کی دینداری، عوام دوستی اور عجز و انکساری کے وہ پہلے بھی قائل تھے، اب بھی معترف ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *