نواز شریف کے دل کا معاملہ

ڈاکٹر عدنان خان نے شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (شریف میڈیکل سٹی جاتی امرا) کے سالانہ مباحثوں کا ہمیں بھی (بطور مہمانِ خصوصی) مستقل حصہ بنا لیا ہے۔ میڈیا سے دو، تین اور لوگوں کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے (یہ الگ بات کہ ہمیں ''بزرگی‘‘ کے باعث ذرا زیادہ ہی ''خصوصی‘‘ بنا دیا جاتا ہے) گزشتہ سال مقبول شاعر فرحت عباس شاہ اور پی ٹی وی کی معروف شخصیت ناصر نقوی تھے۔ اس بار نجانے کیا ہوا کہ ہم اکیلے سزاوار ٹھہرے۔
ڈاکٹر عدنان سے ہماری شناسائی کا آغاز سرور پیلس جدہ میں ہوا، جلا وطن شریف فیملی کے فزیشن کے طور پر ڈاکٹر عدنان بھی وہاں تھے۔ جواں سال عدنان نے 1999ء میں شریف میڈیکل سٹی ہسپتال جوائن کیا تھا۔ 12 اکتوبر کی شام ملٹری ٹیک اوور کے ساتھ شریف میڈیکل سٹی اینڈ ایجوکیشن کمپلیکس بھی قبضے میں چلا گیا۔ خوف و ہراس کی فضا میں کئی ڈاکٹر خود چھوڑ گئے، باقیوں پہ عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔ یاد آیا، انہی دنوں ہم چھٹیوں پر جدہ سے لاہور آئے تھے۔ عطاء الحق قاسمی صاحب کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں ہیں۔ انہیں گردے کے شدید عارضے نے آ لیا تھا، کینسر کے خدشے کے باعث اسے نکال دیا گیا (وہ ایک گردے کے ساتھ بھی ماشا اللہ اسی طرح فعال ہیں) گیٹ پر ''تفتیش‘‘ کے جملہ مراحل سے گزرنے کے بعد اندر پہنچے تو ویرانیوں کے ڈیرے تھے، ایک پرائیویٹ روم میں قاسمی صاحب اس ہسپتال میں شاید واحد مریض تھے۔ شریف فیملی جلا وطن ہوئی تو عدنان کو جدّے سے بلاوا آ گیا۔ جلا وطنی سے قبل ہی بڑے میاں صاحب عارضۂ قلب کا شکار ہو چکے تھے۔ 12 اکتوبر کے بعد، روز افزوں مصائب کا بڑے حوصلے سے مقابلہ کر رہے تھے کہ ایک شب احساس ہوا، دل بیٹھ رہا ہے۔ گھر کے سبھی مرد جیل میں تھے۔ بیگم صاحبہ نے شہر کے مشہور ماہر امراض قلب کو فون کیا (جن کو میاں صاحب اپنے منہ بولے بیٹوں میں شمار کرتے) لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ شاید ڈکٹیٹر کا خوف پیشہ ورانہ (بلکہ انسانی) فریضے کی ادائیگی میں حائل ہوگیاتھا۔
جدے سے یاد آیا، بڑے میاں صاحب کے اعضا اضمحلال کا شکار ہو رہے تھے۔ وہ وہیل چیئر پر آگئے تھے لیکن اس کیفیت میں بھی فارغ بیٹھنا ذہنی طور پر زیادہ اذیت دہ تھا؛ چنانچہ یہاں بھی سٹیل مل لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ مکہ مکرمہ کے نواح میں حدیبیہ کے مقام پر بلڈنگ کی تعمیر اور مشینوں کی تنصیب کی نگرانی بھی خود کرتے۔ صبح نوبجے جدہ سے روانہ ہوتے۔ حسین اور صفدر بھی ہمراہ ہوتے۔ ایک بار انہیں تیار ہونے میں دیر ہوگئی۔ میاں صاحب پانچ، سات منٹ انتظار کے بعد روانہ ہوگئے کہ وقت ان کے نزدیک سب سے قیمتی چیز تھی اور قدرت کے اس انمول عطیے کا ضیاع انہیں گوارا نہ تھا۔ قدرے تاخیر کے ساتھ حسین اور صفدر بھی پہنچ گئے، میاں صاحب کی گوشمالی نے انہیں آئندہ کے لیے محتاط کردیا۔
2004ء کے رمضان المبارک کی 15ویں شب مہلتِ عمل ختم ہوگئی اور بڑے میاں صاحب کو اپنے رب کا بلاوا آگیا۔ خاندان کا کوئی فرد میّت کے ساتھ پاکستان نہ آسکا۔ یہ امانت پاکستان پہنچانے کی ذمہ داری ڈاکٹر عدنان اور بریگیڈیئر جاوید اقبال (وزیر اعظم کے سابق ملٹری سیکرٹری) کے سپرد ہوئی۔
نومبر2007ء میں میاں صاحب کی وطن واپسی کے ساتھ عدنان بھی لوٹ آئے جہاں بڑے میاں صاحب (مرحوم) کے خواب تکمیل کے منتظر تھے۔ اب نوازشریف اس ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں۔ تینوں بھائیوں نوازشریف، شہبازشریف اور عباس شریف (مرحوم) کے خاندانوں کے ساتھ ان کی اکلوتی بہن کی فیملی بھی ٹرسٹ کی ممبر ہے۔ 49 سالہ ڈاکٹر عدنان شریف میڈیکل سٹی کے ان منصوبوں کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔
ہسپتال کے 50فیصد بیڈ، ان مریضوں کے لیے مختص ہیں جن کا 100فیصد فری علاج کیا جاتا ہے۔ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے معائنے کی پرچی فیس صرف 50 روپے ہے۔ یہاں فری ڈائیلیسز سینٹر بھی ہے، مریضوں کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر فری پک اینڈ ڈراپ سروس کا انتظام ہے۔ ہزاروں مریض گردوں اور آنکھوں کے کورنیا کی فری ٹرانسپلانٹیشن سے مستفید ہوچکے ہیں۔ 88 ایکڑ پر مشتمل ایجوکیشن سٹی میں شریف پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، شریف میڈیکل ریسرچ سنٹر، شریف سینٹرآف الائیڈ ہیلتھ سائنسز اور شریف کالج آف نرسنگ کے علاوہ انجینئرنگ کالج اور پرائمری سے اے لیول تک سکول بھی موجود ہیں۔ مستحق طلبا وطالبات کے لیے فیس معافی کی سہولت بھی ہے اور اس کے لیے سیکریسی کا مکمل اہتمام کہ مستحق بچے کسی احساسِ کمتری کاشکار نہ ہوں۔
میاں نوازشریف اپریل 2016ء میں لندن میں ہارٹ سرجری کے عمل سے گزرے۔ جس کے بعدشریف ہسپتال میں صدقے کے طور پر روزانہ ایک فری ہارٹ سرجری کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک تقریباً چار سو مریض مستفید ہوچکے ہیں۔ 
اپنی اپنی اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ مئی2013ء کے انتخابات سے تین چار روز قبل عمران خان سٹیج سے گر کر شدید زخمی ہوئے تو نوازشریف لاہور سے باہر ایک انتخابی جلسے میں تھے۔ انہوں نے اپنے سیاسی و انتخابی حریف کے لیے دعا کے ساتھ اگلے روز ملک بھر میں مسلم لیگ(ن) کی انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ شہبازشریف اسی شب مزاج پرسی کے لیے ہسپتال پہنچے۔ الیکشن کے بعد نوازشریف بھی عیادت کے لیے آئے، دوستی کے اچھے دنوں کی یادیں تازہ کیں اور اٹھتے ہوئے کہا، جلدی سے صحت یاب ہوجائو، پھر ہم فرینڈلی میچ کھیلیں گے۔ مارچ 2014ء میں وزیر اعظم نوازشریف بنی گالہ گئے۔ جہاں کپتان نے اپنی ٹیم کے ساتھ، پُرتکلف ہائی ٹی کا اہتمام کیا تھا۔
نوازشریف دل کے پرانے مریض ہیں۔ ایک بار اپریل 2011 میں لندن میں اوپن ہارٹ سرجری کے عمل سے گزرے جہاں وہ اچانک ایک خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہوگئے تھے۔ وہ بیگم صاحبہ کی کمر کے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔ سوچا، کیوں نہ اپنے دل کے معاملات کی خیر خبر بھی لے لیں۔ معائنے کے دوران دل کی ایک شریان پھٹ گئی۔ اوپن ہارٹ سرجری کے لیے تمام ضروری اقدامات کی پوری تیاری ہوتی ہے لیکن یہاں یہ صورتحال اچانک پیدا ہوگئی تھی۔ اللہ نے کرم کیا اور میاں صاحب زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ پانچ سال بعد اپریل ہی کے مہینے میں وہ پھر اسی مشکل سے دوچار تھے۔ جاتی امرا میں ایک میٹنگ کے اختتام پر اُٹھنے کی کوشش کی تو بائیں ٹانگ نے جواب دے دیا۔ خون میں کلاٹ ٹانگ میں آکر رک گیا تھا۔ یہ دل یا دماغ تک پہنچ جاتا تو صورتحال سنگین تر ہوجاتی۔ ڈاکٹروں نے لندن کے انہی ڈاکٹروں سے رابطے کا مشورہ دیا جنہوں نے پانچ سال قبل علاج کیا تھا۔ اِدھر سیاسی رقیبوں (اور میڈیا میں بعض مہربانوں) نے اسے پاناما سے بچنے کے لیے نیا ڈرامہ قرار دے دیا۔ کینیڈا والے شخ الاسلام تو اسے دل کا ہسپتال ماننے ہی سے انکاری تھے، حالانکہ ولی عہد پرنس چارلس ''مادر ملکہ‘‘ کے باغ سے خصوصی شہد کا تحفہ لیکر پہنچا تھا۔ طیب اردوان نے بھی اپنے سفارت خانے کے ذریعے پھول بھجوائے۔ پھر بیگم صاحبہ کی بیماری کے حوالے سے بھی کیا کچھ نہ کہا گیا۔
اب العزیزیہ ریفرنس کے سزا یافتہ میاں صاحب پھر عارضہ قبل سے دوچار ہیں۔ خود سرکارکے مقرر کردہ چار میڈیکل بورڈز، دل کے سیریس معاملے کی نشاندہی کر چکے، ان میں میڈیکل بورڈ کی5فروری (اب تک کی آخری) رپورٹ بھی تھی جس کے مطابق مریض کو مستقل ''کارڈ یک کیئر فیسیلٹی‘‘ کی ضرورت ہے‘ جہاں 24گھنٹے علاج کی سہولت ہو۔ میڈکل رپورٹس میں بلڈ پریشر، شوگر اور گردے کی تیسرے درجے کی بیماری کا ذکر بھی ہے۔ (شوگر کے لیے وہ انسولین لیتے ہیں) آصف عفان گزشتہ کالم میں تفصیل بیان کرچکے لیکن سنگدلی کا یہ عالم کہ اس خطرناک ترین صورتحال کو بھی مذاق بنایا جاتا رہا۔ یہ سطور لکھی جارہی تھیں کہ انہیں لاہور کے جناح ہسپتال میں شفٹ کردیا گیا‘ جہاں انتظامیہ کے دعوے کے مطابق ان کے لیے تمام ضروری طبی سہولتوں کا اہتمام ہے۔ خرابیٔ صحت کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل بھی زیر سماعت ہے۔ گزشتہ روز شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کی خبر آئی تو ملاقاتیوں سے میاں صاحب کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ اگلی نماز جمعہ وہ جاتی امرا میں ادا کریں گے۔ 
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *